Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

علامہ اقبال اور مسئلہ تدبیر و تقدیر

بھائیو اور بہنوں!
آج ہم ایک دفعہ پھر حضرت ڈاکٹر سر محمد اقبال کا ذکر خیر کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ جنوبی فلوریڈا کے اس رفاہی ادارے، مسلم نالج سیکرز کو یہ اعزازملا ہے کہ وہ ہر سال باقاعدگی سے یوم اقبال کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کے روح رواں بلا شبہ جناب آصف ملک ہیں جو اس ادارے کے صدر بھی ہیں اور شاعری بھی کرتے ہیں۔گذشتہ برس خادم کو بھی موقع دیا گیا تھا کہ علامہ کی یاد میں کچھ کہے۔اب دوبارہ مجھے دعوت دی گئی ہے جس سے خادم کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ لیکن میں شروع ہی سے یہ اعتراف کر دوں کہ راقم کو نہ تو شاعری کی الف ب کا کچھ علم ہے اور نہ ہی علامہ اقبال کی شاعری کی سمجھ۔ جب بھی کبھی پڑھنے کی کوشش کی ، تو بانگ درا کی چند آسان سی نظموں کے علاوہ زیادہ تر کلام سر کے اوپر سے گذر جاتا رہا ہے ۔ علامہ نے کچھ باتیں نثر میں بھی کی ہیں، جیسے کہ ان کے سات خطبات جوایک کتاب کی شکل میں شائع کئے گئے جس کا عنوان ہے: Reconstruction of Religious Thought in Islam ۔ راقم نے اس کے کچھ اوراق پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی تو اس سے بہتر کتاب نیند لانے کے لیے کوئی اور نہیں پائی۔ظاہر ہے کہ راقم بے ذوق ہے۔ اسے بھلا گوئیٹے، ہیگل اور نیتشے کے فلسفوں کی کیا سمجھ کہ علامہ کے فلسفیانہ کلام کی گرد تک بھی پہنچ سکے۔ البتہ ایک مسئلہ ایسا ہے جس نے مجھے علامہ کی کتاب کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کر دیا۔وہ ہے اسلام میں تقدیر کا فلسفہ۔
لیکن اس سے پہلے کہ بات بہت آگے بڑھ جائے ، آپ کو اپنے بارے میں اتنا بتا دوں کہ میں پبلک ہیلتھ ایجوکیشن کا طالب علم ہوں، اور میری پیشہ ورانہ زندگی آبادی ، خاندانی منصوبہ بندی اور اس سے متعلق شعبہ ٔتعلیم اورابلاغیات میں کام کرتے گذری ہے۔مختلف مواقع پر مسلمانوں کی آبادی اور متعلقہ مسائل پر تھوڑا مطالعہ بھی کیا۔ جو چیزمجھے آج آپ کے سامنے پیش کرنی ہے وہ اس مسلمان آبادی کے مسائل اور وسائل پر ایک خاص موضوع پر ہے۔ بنیادی طور پر میری دلچسپی مسلمانوں میں ہے، اور اقوام عالم میں، ان کی پس ماندگی اور بے چارگی کی وجہ تلاش کرنی ہے۔یہ تو آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ کہنے کو دنیا میں دو ارب مسلمان ہیں، لیکن دنیا میں ان کا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اب حال ہی میں، سب نے دیکھا کہ غزہ کے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ چھیاسٹھ ہزارسے زیادہ مرد، عورتیں اور بچے شہید کر دیئے گئے۔ لیکن مجال ہے کہ کسی مسلمان ملک نے ان کے حق میں کوئی آواز اٹھائی ہو؟ اگر دو ارب مسلمان صرف اکھٹے ہو کر نعرۂ تکبیر بھی بلند کر دیتے تو دشمنوں کے دل کانپ جاتے۔خیر مسلمانوں میں اتنا اتحاد ہوتا تو مسئلہ ہی کیا تھا؟ بحیثیت پاکستانی کے مجھ سے زیادہ شرمندہ کون ہو گا؟ تمام دنیا میں ، خصوصاً یورپ میں غزہ کے قتل عام پر مظاہرے ہوئے لیکن اگر کہیں مکمل خاموشی ہے تو وہ اسلامی دنیا ہے۔ کیوں؟کم از کم میڈیا تو نہیں دکھاتا، اگر کچھ ایسا ہوا بھی ہو گا؟صرف ایک ملک یمن ہے جو اسرائیل پر میزائیل پھینک دیتا ہے، کبھی کبھار۔خیر یہ تو تازہ ترین ہے۔ راقم کو اصل فکر یہ ہے کہ کیوں مسلمانوں نے دنیا میں سائینسی ، تکنیکی، ایجادات میں، خاطر خواہ ترقی نہیں کی؟آخر مسلمان بھی وہی دو ہاتھ، دماغ، دو کان اور دو آنکھیں لیکر پیدا ہوتے ہیں جو مغربی دنیا کے لوگ۔ پھر ہم کیوں ان سے اتنے پیچھے رہ گئے ہیں؟کیا وجہ ہمارا دین ہے یا اس کی سمجھ؟کچھ لوگ کہیں گے کہ جن مسلمانوں نے سائنس تو پڑھی، لیکن سائینٹفک فکر نہیں استعمال کی۔ویسے بھی تعلیم کی کمی ہے۔ ناخواندہ کی سب سے بڑی تعداد پاکستان میں ہے، جہاں بچوں کو جان بوجھ کر سکولوں سے باہر رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس سے بڑی وجہ ایک اور ہو سکتی ہے اور وہ ہے مسلمانوں کا ایمان تقدیر پر۔اس معاملے میں، مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ایک نمایاں فرق ہے۔ مسلمان تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں، اور غیر مسلم شاید نہیں۔ لیکن مسلمانوں نے یہ اللہ کی کتاب سے سیکھا یا بعد میں انہیں بتایا گیا؟
اس کا مطلب کیا ہے؟ اور اس وجہ سے مسلمانوں میں دنیا میں ترقی کیوں نہیں کی؟تقدیر کا مطلب ہے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔اگردرخت کے پتے بھی ہلتے ہیں تو اللہ کی مرضی سے ہلتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان موٹر سائیکل کے حادثہ میں جان دھو بیٹھا یا شدید زخمی ہو گیا تو اللہ کی مرضی تھی۔ کسی کا بچہ امتحان میں فیل ہو گیا تو بھی۔اگر مسلمان کسی جنگ میں ہار گئے تو اللہ کی مرضی تھی۔ اسے ہی تقدیر کہتے ہیں۔ اگر امام حسین کو یزید کی فوج نے شہید کر دیا تو اللہ کی یہی مرضی تھی۔علامہ اقبال نے تقدیرپر اس ایمان کو تسلیم نہیں کیا۔انہوں نے سوالات اٹھائے۔ ان کے سات خطبات میں سے چوتھے خطبہ کا مضمون اسی موضوع پر ہے۔علامہ رقمطراز ہیں: تین باتیں انسان کے متعلق از روئے قران بالکل ظاہر و باہر ہیں،ان میں سے تیسری بات سے ہمیں خاص توجہ دینی ہے کہ،ـ’’باوجود خطرات کے اس کو صاحب اختیار ہستی بنایا گیاتا کہ خدا کی مشئیت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی ، اس کی اپنی خود ی اور اور خود اختیاری سے سر زد ہو، مخلوقِ مجبور میں یہ صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی۔علامہ فرماتے ہیں، اس تعلیم کی وضاحت کے باوجود یہ امر تعجب خیز ہے کہ مسلمان متکلمین نے نفس انسانی کی استواری اور خود اختیاری کی طرف توجہ نہیںدی۔ ‘‘ ’’اسلام میں تقدیر کا غلط مطلب کیوں رائج ہو گیا، اس کےکئی تاریخی اسباب ہیں۔ کہ بنو امیہ زیادہ تر موقع پرست، ابن الوقت اور اقتدار پسند لوگ تھے۔روایت کی گئی ہے کہ معید نے حضرت حسن بصریٰ سے کہا کہ بنو امیہ مسلمانوں کے قتل کو تقدیرِ الہٰی قرار دیتے ہیں، تو انہوں نے غصہ سے جواب دیا کہ ۔یہ لوگ کذاب ہیں۔۔
قران سے تقدیر کا غلط مفہوم اخذ کرنا ادنیٰ قسم کے اغراض کا نتیجہ تھا لیکن افسوس ہے کہ اس کے نتائج مسلمانوں کی اخلاقی اور روحانی زندگی کے لیے بہت مضر ثابت ہوئے۔ جوابِ شکوہ میں ، علامہ نے کہا،’’کوئی قابل ہوتو ہم شان نئی دیتے ہیں ۔۔۔ ڈھومڈنے والوںکو دنیا بھی نئی دیتے ہیں‘‘۔ اس کا صاف مطلب یہ ہی ہے کہ مسلمانوں کوسعی کرنی چاہیے اور تقدیر پر بھروسہ نہیں رکھ کر بیٹھ جانا چاہیئے۔ ایک اور شعر میں، علامہ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ہاتھ ہلائو۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ’’ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو‘‘۔ یعنی اگر مسلمان کوشش نہیں کریں گے تو انکی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ہر بات میں یہ کہنا کہ اللہ کی مرضی تھی، علامہ کے مطابق، صحیح نہیں لگتا۔ مجھے ایسے ہی خیال آ گیا کہ نیوٹن اگر مسلمان ہوتا تو وہ کبھی درخت سے سیب گرنے پر سوچ بچار شروع نہیں کر دیتا۔ یہی کہتا کہ سیب اگر زمین پر گرا تو اللہ کی مرضی تھی، اور کشش ثقل کا سارا سائنسی اُصول دھرے کا دھرا رہ جاتا؟ سائنسی فکر ہو تو انسان نتائج کی وجہ ڈھونڈتا ہے۔ اور سارا معاملہ تقدیر پر نہیں ڈال دیتا۔ اب ہم اگر ان مثالوں کی طرف دوبارہ رجوع کریں تو ہم اس بات کا جواب ڈھونڈیں گے کہ نوجوان موٹر سائیکل سے گر کر ہلاک کیوں ہوا؟ تو پتہ چلے گا کہ اس نے کوئی غلطی کی تھی۔ جیسے کہ شاید ہیلمٹ نہیں پہنی تھی۔بچہ امتحان میں کیوں فیل ہوا؟ اس لیے کہ اس نے محنت نہیں کی تھی اوراس کی تیاری پوری نہیں تھی۔مسلمان جنگ میں ہار گئے تو یہ ان کی تقدیر نہیںتھی، بلکہ اس کے مدلل اسباب تھے۔ان کی قیادت میں کمی تھی، انکی تیاری نہیں تھی یا ان کی جنگ کرنے کی صلاحیت پر مناسب محنت نہیں کی گئی تھی یا ان کا دشمن زیادہ ہوشیار اور طاقتور تھا۔حظرت امام حسین کی شہادت کاذمہ وار بادشاہت کا نظام تھا، یہ کوئی تقدیر کا مسئلہ نہیں تھا۔ اسی لیے بزرگ نے کہا کہ ایسا کہنے والے جھوٹے تھے۔سوچنے کی بات ہے کہ اللہ کیوں اس قدر ظلم کرتا اور کرواتا؟ یہ سب انسانوں کا کیا دھرا تھا۔ لیکن فرماںروائوں نے ایسے ظلم کر کے اپنے پر تو الزام نہیں لینے تھے۔ اس لیے کہہ دیا گیا کہ اللہ کی یہی مرضی تھی۔ جب یہ کہہ دیا جائے تو کیوں کہنے کا سوال ہی نہیں پید اہوتا۔اس لیے جتنے بھی مسلمان بادشاہ اور فرماں روا آئے نہوں نے اپنے مخالفین مسلمانوں کے قتل کا کبھی اپنے سر پر الزام نہیں لیا۔ اور ہر معاملے کو اللہ کی مرضی کہہ کر ٹال گئے۔کچھ ایسا ہی معاملہ قدرتی آفات کا ہے، جیسے زلزلے، سیلاب، بارشوں کے طوفان اور ان سے ہونے والی تباہ کاریاں۔ یہ آتا تو سب قدرتی وجو ہات سے ہے لیکن انسان ان سے ہونے والی جانی ہلاکتیں اور تباہیوں کو حکمت عملی اور پیشگی تیاریوں سے کم کر سکتاہے۔ اسی طرح سڑکوں پر ہر سال ہزاروں لوگ حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں، انہیں اللہ کی مرضی کہہ کر ٹالا نہیںجا سکتا، کیونکہ زیادہ تر انسانی نا اہلی، ٹریفک کے قوانین سے نا واقفی یا ان پر عمل نہ کرنے سے ، یا گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال، انسپکشن، اور ٹریفک کے عملہ وغیرہ کے نہ ہونے سے ہوتے ہیں۔امریکہ میں جہاں اکثر جگہ سال میںایک مرتبہ گاڑیوں کی انسپکشن ہوتی ہے، وہاں بھی حادثے ہوتے ہیں لیکن لا پرواہی، نشہ، اورڈرائیوروں کی غلطیوں سے ہوتے ہیں، اللہ پر ڈالنا بالکل غلط ہے اور نہ ڈالا جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ مختلف بیماریوں سے مرتے ہیں، ان کی موت کو تقدیر کا لکھا کہنا صحیح نہیں ہوتا۔ اس کی چھان بین ہونا چاہیئے اور اصل وجہ اور اس کے محرکات کا پتہ چلانا چاہیئے، تا کہ دوسروں کو تنبیہ ملے۔راقم کو یاد ہے کہ کسی نے اسے بتایا کہ انگریز کے دور میں دفتر کے عملہ کو ملیریا ہو جانے پر بیماری کی چھٹی نہیں ملتی تھی کیونکہ اس نے ملیریا سے بچنے کی دوا کیوں نہیں کھائی تھی؟یہاں تو وہ کہہ دے گا کہاللہ کی مرضی تھی کہ اسے ملیریا ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالم 22
علامہ اقبال اور مسئلہ تدبیر و تقدیر
جاوید سجاد
(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال نے جب مسلمانوں کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ اپنے انگریزی کے خطبہ میں، نہ کہ کسی نظم کے ذریعے۔ اس کی وجہ وہ دینی طبقے سے بحث میں نہیں الجھنا چاہتے تھے۔یہ طبقہ ذرا سی بات پر لادینی کی تہمت لگا دیتا ہے اور کفر کا فتویٰ ا لگ دیتا ہے۔ علامہ کے ایک ہمنام پروفیسر پروفیسر شیخ محمد اقبال نے اپنی کتاب ’’اقبال بحضور اقبال‘‘ میں اس مسئلہ پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ مسئلہ جبر و قدر پر ڈاکٹر عندلیب شادانی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کی پستی اور زوال کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ ذوق ِعمل سے محروم ہو گئے تھے۔اس کی دو وجوہات تھیںجن میں سے ایک تھی، تقدیر کا غلط تصور اور یہ یقین کہ انسان کے جملہ افعال و اعمال خیر و شر پہلے ہی سے متعین ہیں، لہٰذتقدیر کے خلاف ہاتھ پائوں مارنا سرا سر نادانی ہے۔ قرآن مجید میں لفظ تقدیر پانچ مقامات پر آیا ہے اور انہی معنوں میں آیا ہے ۔ کسی ایک مقام پر بھی تقدیر کے وہ معنی نہیں نکلتے جومسلمانوں میں عام طور پر مقبول ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان کو مجبور محض تسلیم کر لیا جائے تو اسلامی نظام کی ساری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ اور اس صورت میں جزا اور سزا کے کو ئی معنی باقی نہیں رہتے۔ اگر انسان مجبور ہے اس کا ہر عمل اس کے اختیار سے باہر ہے اور ہر چیز خدا کی مرضی سے ہوتی ہے تو پھر انسان کے عمل کی اس سے جزا اور سزا ملنے کا کوئی جوازملنے کا کوئی جواز پیدا ہی نہیں ہوتا۔ تو پھر جنت اور جہنم کے کیا معنی ، انسان برائی سے بچنے کی کوشش کیوں کرے کیونکہ کوشش تو لغو نظر آتی ہے۔یقیناً ہم ایسے خدا کا تصور ہی نہیں کر سکتے جو مجبوروں کو سزا دے اور خود ہی غلطی کرائے اور خود ہی سزا تجویز کرے۔ خدا انتہائی عادل ہے وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کبھی بے انصافی نہیں کرتا۔
پروفیسر شادانی اپنے نکتۂ نظر کی وضاحت میں ایک نظم تقدیر پیش کرتے ہیں۔’’ اقبال اور تقدیر‘‘اس کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
کیوں خوار اور زبوں حال ہے اس درجہ مسلمان ۔ سرزد ہوئی بد بخت سے بھاری کوئی تقصیر
کہتا ہے بر گشتہ اُسی دن سے ہے قسمت ۔ جس دن سے ہوا مسلمان ہوا تابع ٔتقدیر
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔مومن فقط احکام الہیٰ سے اثر گیر
کافر ہے تو ہے تابعٔ تقدیر مسلماں۔مومن ہے تو وہ آپ ہے اللہ کی تقدیر!
اقبال کے نزدیک مسئلہ کچھ یوں ہے کہ اللہ نے ہر انسان کو بے انتہا صلاحیتوں سے نوازاہے، اس کوذہن، جسم توانا، دل گداز ، چشم بینا، گوش ہوش عطا کئے ہیں۔ جن کی مدد سے وہ اپنے لیے راہیں تلاش کر سکتا ہے لیکن اگر وہ اپنی ان بے پناہ صلاحیتوں سے کام نہ لے تو وہ مفلوج ہو جاتی ہیںاور انسان زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔اور جب وہ جنگ ہار جاتا ہے تو تقدیر کو مورد الزام ٹہراتا ہے جس کا اسلامی تعلیم میں کوئی جواز نہیں۔کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کو ایسے بہانے تراشنا زیب نہیںدیتا۔اگر ہم علامہ کی توجیہ کو ذرا آگے بڑھائیں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ تقدیر کا جو مطلب بادشاہوںنے مروج کروایا، اپنی کھال بچانے کے لیے، اس نے بالآخر مسلمانوں کو قعر ِمذلت میںدھکیل دیا۔ ان کے مقابلے میں غیر مسلموں نے تقدیر کے آگے شکست نہیں مانی۔ انہوں نے علت اور معلول کا راستہ اختیار کیا۔ جس نئے واقعہ سے دو چار ہوئے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔یہ نہیں کہا کہ یہ تو اللہ کی مرضی تھی۔ انسان نے جتنی ایجادات کی ہیں، وہ اسی راستہ پر چل کر کی گئیں۔ ان ایجادات کا مخزن ایک سوال تھا، کیوں؟ جب آپ اللہ کی مرضی کہہ دیں تو کیوں کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ جب کیوں کہہ دیںتو وجوہات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ بچے امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں؟ یہ ہر گز اللہ کی مرضی نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات جاننا چاہئیں۔جب وجوہات جانیں گے تو پتہ چلے گا کہ بچے کے سکول میں پڑھائی اچھی نہیں ہوتی۔یا بچے کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا، یا یہ کہ بچے کو مضمون سمجھ نہیں آ رہا۔ بہر حال جو بھی وجہ پتہ چلے اس کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو بہت معمولی درجہ کی بات ہے۔ مسلمان تو بڑے سے بڑے واقعہ کو بھی اللہ کی مرضی کہ کر ٹال دیتے ہیں۔اگر کسی بڑے شہر میں ایک بڑی بلڈنگ گر جائے اور اس سے کئی لوگ ہلاک ہو جائیں ، تو یہ اللہ کی مرضی نہیں، بلکہ بلڈنگ بنانے والوں کی غفلت تھی۔ اسی طرح اگر فیکٹری میں آگ لگ جانے سے لوگ ہلاک ہوں تو اس فیکٹری کے مالک کی غفلت کا نتیجہ تھا نہ کہ اللہ کی مرضی تھی۔اگر کوئی نو جوان یا درمیانی عمر کا بندہ فوت ہو جائے تو اسے رضائے الہیٰ کہنا غلط ہو گا۔ یہ معلوم کرنا چاہیئے کہ اس کی ہلاکت کیوں ہوئی؟ جب ہم معاملہ کو رضائے الہیٰ کہ کر ٹال دیتے ہیں، تو وجوہات معلوم نہیں کرتے، تحقیق کے دروازے بند کر دیتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب نہیں دیتے۔مغرب نے اس کیوں کی وجہ سے بیماریوں کا سبب جانا۔ ان کے علاج ڈھونڈے اور حفاظتی ٹیکے ایجاد کیے جن کی وجہ سے ہلاکتیں ہونا کم ہو گئیں یا بند ہو گئیں۔ جیسے کہ پلیگ، ہیضہ، ٹائیفائڈ، پولیو، اور بہت سی متعدی بیماروں کا سد ِباب ٹیکوں سے کیا گیا۔ لیکن مسلمانوں نے ہر مصیبت، بیماری، حادثہ، کو رضائے الہیٰ سمجھا اور ان کی علت معلوم کرنے کی کوشش نہیںکی، اس لیے دنیا میں جتنی ایجادات ہوئی ہیں ان کا سہرا غیر مسلموں کے سر ہوتا ہے۔ورنہ مسلمان بھی یہ سب کچھ کر سکتے تھے، اگر وہ وجہ جاننے کی کوشش کرتے اور رضائے الہیٰ کو وجہ نہ سمجھتے۔جب تک اسلام میں بادشاہت نہیں آئی تھی، مسلمانوں نے بہت سے کارنامے انجام دئیے۔ مسلمانوں نے ہی سائنسی طریق کو اپنایا۔ ان ہی سے مغرب نے اِسے اپنایا۔ لیکن جب مسلمان بادشاہوں نے اُسے اپنے لیئے خطرہ سمجھا تو یہ بات پھیلائی گئی کہ سائنس پڑھنے والے ملحد ہو جاتے ہیں۔جن مسلمان ملکوں میں انگریزوں نے قبضہ کیا، ان کے مذہبی رہنمائوں نے مسلمان بچوں کو انگریزی پڑھنے سے روکا کہ یہ شیطان کی زبان ہے۔ اور لڑکیوں کو بھی پڑھائی سے دور رکھا۔اس کے اثرات آپ آج بھی بر اعظم افریقہ اور بر صغیر ہندوستان میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تو ہندوستان میں سر سید احمد خان کی انتھک محنت تھی کہ مسلمان بچے انگریزی پڑھنا شروع ہو گئے۔ لیکن ریاضی اور سائنس میں پھر بھی پیچھے رہ گئے ۔ جب مسلمانوں نے سائنس پڑھنا شروع کی تب بھی سائنسی طریق فکر کونہیں اپنایا۔کیونکہ سائنسی فکر میں کیوں کا سوچنا پڑتا تھا۔وہ تو ہم نے سیکھا ہی نہیں۔اس لئے آ ج بھی دنیا کے اکثر مسلمان ملکوں میں مسلمان بچے سائنس پڑھتے ہیں لیکن ان سے بہت کم ہی ایجادات سرزد ہوتی ہیں۔اس لیے کہ سائنس ایک مضمون کے طور پر پڑھی جاتی ہے نہ کہ سائنسی انداز فکر اختیار کرنے کے لیے۔جس میں cause and effect پر توجہ دی جاتی ہو۔علامہ اقبال نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، وہ اسلام پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی اور پستی کی طرف توجہ دی۔ اور اس توجہ کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مسئلہ تدبیر اور تقدیر کو موضوع بنایا۔ اسی طرح کچھ دوسرے مسائل بھی جنہیں انہوں نے جواب شکوہ میں پیش کیا۔ تقدیر کا مسئلہ پرانا اور اور ایمان کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ اس پر کھل کر بات کرنامذہبی قائدین کے ساتھ ٹکر لینے کے مترادف تھا، جو علامہ نہیں چاہتے تھے۔ اسی طرح وہ اجتہاد پر گہرا یقین رکھتے تھے جو امت مسلمہ نے بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ اس کی اہمیت کے پس منظر میں، علامہ اپنے خطبات کے مجموعے کا نام ہی Reconstruction of Religious Thought in Islam رکھ دیا تھا۔ جس میں اجتہاد کی اہمیت پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔ لیکن اتنی عالمانہ بحث اور وہ بھی انگریزی زبان میں، اسلامی قائدین کومتوجہ نہیںکرا سکی۔ اگر علامہ کے کچھ ایسے شاگرد ہوتے جو ان کے پیغام کو صحیح جگہ پہنچانے اور اس کا دفاع کرنے میں جُت جاتے، تو شاید علامہ کی کوشش کوئی نتیجہ دکھا پاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔جس طرح علامہ کے پیغام امت مسلمہ کو عظمت رفتہ واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوئے، ان میں ان کو پیغام تقدیر کے بارے میں بھی کوئی قابل شناخت نتیجہ نہیں دکھا سکا۔یہ مسئلہ اتنا گھمبیر ہے کہ اس کی ابتداءپہلے علمائے دین سے کرنی پڑے گی۔ اگر وہ اس کو سمجھ جائیں اور اس کی حمایت کا بیڑہ اٹھا لیں، تو امکان ہے کہ مسلمان بھی اپنے عقائد درست کر لیں۔ اس کے بغیر کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔اس میں اس نا چیز کے خیال میںکوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ تقدیر پر ایمان رکھنے سے دنیاوی ترقی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔جب تک مسلمان تقدیر کے بجائے تدبیر پر ایمان نہیں لائیں گے، یہ دنیاوی ترقی میں پیچھے ہی رہیں گے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قران مجید نے کہا ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ نہیں ہلتا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اللہ کا اشارہ نظام فطرت کی طرف ہے جو سب اسکی مرضی سے چلتا ہے۔ اس میں انسان کے اعمال کا کوئی تعلق نہیں۔ اس نے اس نظام کو ہمیشہ کے لیے تعین کر دیا ہے، اس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔اب آخر میں کیا یہ سوال بنتا ہے کہ کیا مسلمانوں کو ہر اپنی کامیانی یا نا کامی پر صرف یہ کہہ دینا کہ یہ ا للہ کی مرضی تھی ، مناسب ہے؟ یا ہمیں اپنی کامیابی اور ناکامی کی ذمہ واری خود قبول کرنا چاہیئے، اور اس کے پیچھے جو عوامل ہیں ان پر غور کرنا چاہیئے، اور صرف اللہ پر ہر بات ڈال کر اپنی نا سمجھی کا ثبوت نہیں دینا چاہیے۔ کیا کہتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ پر؟۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button