سندھ کا نوحہ: پیپلزپارٹی کے تیس سالہ اقتدار پر سورٹھ سندھو کا ایکس پر وائٹ پیپر !

سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان سندھی ہندو لڑکی سورتھ سندھو نے حال ہی میں سوشل میڈیا ایکس پلیٹ فارم پر اپنی آواز ریکارڈ کی، اور وہ آواز جس تلخی، جس درد، اور جس دو ٹوک سچائی کے ساتھ سامنے آئی، اس نے پاکستان کی سیاست کا ایک پرانا زخم ایک نئے زاویئے سے کھول کر رکھ دیا ہے اس لڑکی نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اعلان نہیں کیا کسی پارٹی کا جھنڈا نہیں اٹھایا اور نہ ہی وہ کسی اقتدار کی دعویدار تھی۔ وہ صرف ایک سوال لے کر کھڑی ہو گئی، اور سوال تھا پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو سے اس حکومت سے جو گزشتہ تین دہائیوں سے سندھ پر براجمان ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین کی بیٹیوں، ماؤں، بزرگوں، اور بچوں کو وہ بنیادی عزت، وہ بنیادی تحفظ، وہ بنیادی شناخت کیوں نہیں دے سکی جو دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کا پیدائشی حق ہوتا ہے۔یہ آواز سورتھ سندھو کے نام سے ایک ایکس اکاؤنٹ پر سامنے آئی، اور یہ آواز اس وقت بلند ہوئی جب چند ماہ قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں “Sindh Vision” اور “The Story of Sindh’s Transformation” کے عنوان سے ایک شاندار پریزنٹیشن دی تھی۔ سندھ کابینہ کے وزراء نے اس موقع پر مختلف محکموں کی تفصیلی بریفنگز دیں، اور تھر کول سے لے کر ونڈ انرجی تک، NICVD سے لے کر SIUT تک، پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر سیلاب متاثرین کے مکانات تک، ہر منصوبے کو سندھ حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے فخر سے کہا کہ سندھ کو ایک “گلاس ہاف ایمپٹی” صوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ادارے مضبوط کیے اور سروس ڈلیوری کو بہتر بنایا۔ اپوزیشن نے فوراً اعتراض اٹھایا کہ ایوانِ صدر جیسے قومی ادارے کو ایک صوبائی حکومت کی پولیٹیکل پرفارمنس بریفنگ کے لیے کیوں استعمال کیا گیا، مگر یہ سوال سیاسی بحث میں دب گیا۔ پھر اب چند ہفتوں بعد ایک دلیر لڑکی کی آواز سامنے آئی، اور اس نے وہ سوال اٹھائے جو ایوانِ صدر کی شاندار پریزنٹیشن میں موجود نہیں تھے۔اس لڑکی نے بلاول بھٹو زرداری سے، یعنی اس نوجوان قائد سے جو پیپلز پارٹی کی تیسری نسل کی قیادت کررہے ہیں اور جنہیں سندھ کا چہرہ کہا جاتا ہے، براہ راست مخاطب کیا۔ اس نے کہا کہ آپ نے سندھ کی ترقی کی جو راہیں دکھائیں، ان میں وہ بنیادی صحت مراکز کہاں ہیں جو سندھ کے گاؤں دیہاتوں میں صرف کاغذ پر زندہ ہیں اور حقیقت میں مردہ ہو چکے۔ شکارپور، لاڑکانہ، میرپورخاص، دادو کے سول ہسپتالوں کا ذکر کیوں نہیں ہوا۔ آپ نے فخر سے ادارے گنوائے، مگر اس لڑکی نے یاد دلایا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کی خراب حالت، سہولیات کی کمی، اسٹاف کی عدم موجودگی، اور رسائی کے مسائل پر برسوں سے رپورٹس موجود ہیں، اور ان رپورٹس میں ذکر ہے کہ کئی یونٹس یا تو غیر فعال ہیں یا ناکافی سہولیات کے ساتھ بمشکل چل رہے ہیں۔پھر اس آواز نے ایک ایسا سوال اٹھایا جو پاکستانی صحافت اور سیاست دونوں کو شرمندہ کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جب وائرس سے لوگوں کی جان جاتی ہے تو پورا علاقہ قرنطینہ کر دیا جاتا ہے، پورے نظام کا جائزہ لیا جاتا ہے، یہاں سندھ میں خواتین قتل ہوتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس نے کاروکاری کے ہزاروں مقدمات کا حوالہ دیا۔ یہاں مجھے بطور صحافی ایمانداری کے ساتھ یہ کہنا ہوگا کہ ’’ڈیڑھ سال میں پانچ ہزار خواتین‘‘والے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق چار سال کے دوران کاروکاری کے الزام میں 595 افراد قتل ہوئے، جن میں 466 خواتین شامل تھیں۔ یہ تعداد بھی ہولناک ہے، اور یہ صرف رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں۔ پاکستان کا قبائلی، جاگیردارانہ، اور پدرسری نظام جو اصل تعداد ہے، اسے کبھی کاغذ پر آنے نہیں دیتا۔ ہر کاروکاری کا شکار ہونے والی عورت کے ساتھ ایک خاندان کا فخر، ایک گاؤں کی خاموشی، اور ایک ریاست کی بے حسی دفن ہو جاتی ہے۔پھر اس آواز نے جبری مذہب تبدیلی کا موضوع اٹھایا، اور یہ موضوع شاید سندھ کے سب سے بڑے خاموش زخموں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی خواتین اور لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی، اور شادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق متاثرین میں تقریباً 75 فیصد ہندو اور 25 فیصد مسیحی لڑکیاں ہوتی ہیں، اور ان میں سے تقریباً 80 فیصد کیسز سندھ میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ وہ صوبہ ہے جس نے گزشتہ تین دہائیوں سے ایک ہی جماعت کو حکومت سونپی ہے، اور اسی صوبے میں اقلیتی بچیاں اغواء ہو رہی ہیں، ان کی شناخت بدلی جا رہی ہے، اور ان کے والدین عدالتوں کے دروازے پیٹ رہے ہیں۔ کوئی قانون ابھی تک منظور نہیں ہو سکا، کوئی موثر روک تھام موجود نہیں، اور وہ اقلیتی خاندان جو پاکستان میں رہ رہے ہیں صرف اس وعدے پر کہ یہ ملک سب کا ہے وہ آج اپنی بیٹیوں کے غم میں مغموم ہیں۔اس لڑکی نے کچے کے ڈاکوؤں کا ذکر بھی کیا۔ اس نے کہا کہ آپ پولیس کو ذاتی محافظوں کی طرح استعمال کررہے ہیں آپ کی پولیس گاؤں پر چھاپے مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور آپ نوڑو کو نہیں بھولے ہوں گے جہاں ایک سال تک گاؤں والوں کو پولیس کے گھیرے میں رکھا گیا۔ کچے کا علاقہ، یعنی سندھ اور پنجاب کے درمیان دریا کنارے کا وہ بے قانون خطہ جہاں ڈاکو ریاست سے زیادہ طاقت ور ہیں اور جہاں سے اغوا کاری کے واقعات کی روزانہ کی خبریں آتی ہیں۔ بطور صحافی میں یہاں احتیاط برتنا چاہتا ہوں، اس لڑکی نے ایک سال میں سات ہزار سے دس ہزار اغوا کے واقعات کا دعویٰ کیا، یہ مخصوص اعداد آزاد ذرائع سے ثابت نہیں ہو سکے، مگر یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ کچے کے علاقے میں اغوا اور جبری تاوان کا کاروبار بے لگام ہے، اور ریاست وہاں کے باشندوں کو وہ تحفظ نہیں دے سکی جو ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔پھر زمینوں کا موضوع، اور یہ موضوع شاید سندھ کی موجودہ حکمرانی پر سب سے سنگین الزام ہے۔ پاکستان کے بڑے اخبارات ڈان، جیو فیکٹ چیک، اور دی نیوز کی رپورٹس کے مطابق سندھ میں Green Corporate Initiative کے تحت تقریباً 52,713 ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی یا الاٹمنٹ رپورٹ ہوئی ہے۔
ان میں خیرپور میں 28,000 ایکڑ، مٹھی اور تھرپارکر میں 000 10,ایکڑ، دادو میں 9,305 ایکڑ، سجاول میں 3,408 ایکڑ، ٹھٹھہ میں 000 1,ایکڑ، اور بدین میں 1,000 ایکڑ شامل ہیں۔ عمرکوٹ میں 008 4,ایکڑ کے حوالے سے ڈان نے لکھا کہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا اور حتمی الاٹمنٹ ثابت نہیں۔ یہ زمینیں ان ہاریوں سے چھینی گئی ہیں جو نسل در نسل ان پر کاشت کرتے رہے ہیں، اور اب کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر بڑی کمپنیوں کو دے دی گئی ہیں۔ سندھ کا کسان، جو پہلے ہی پانی کی قلت، جاگیردار کی غلامی، اور قرضوں کی زنجیر میں جکڑا ہوا تھا، اب اپنی زمین سے بھی محروم ہو رہا ہے۔اور پھر پانی، بجلی، اور قدرتی وسائل کا قصہ۔ سندھ کے ساحل پر ونڈ کوریڈور دنیا کے بہترین کوریڈورز میں سے ایک ہے، اور یہاں سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، مگر آس پاس کے گاؤں اب بھی اندھیرے میں ڈوبے ہیں۔ پورا سندھ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے سے دوچار ہے۔ سی پورٹ یہاں ہے۔ نیچرل گیس کے ذخائر یہاں ہیں۔ پاکستان کا 40 فیصد کرڈ آئل سندھ سے نکلتا ہے۔ مگر سندھ کے دیہی علاقے میں ایک بزرگ عورت آج بھی پانی کے گھڑے کو سر پر اٹھائے کلومیٹروں چلتی ہے، اور سندھ کے ایک کسان کا کھیت آج بھی پانی کی ایک قطرے کا منتظر ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے، یہ کیسا ٹرانسفارمیشن ہے، یہ کیسا گلاس ہاف فل ہے۔اس آواز نے brain drain کا ذکر بھی کیا، اور یہاں بھی مجھے بطور صحافی احتیاط برتنی ہوگی۔ “ایک لاکھ چالیس ہزار افراد کا ایک سال میں سندھ چھوڑنا‘‘ اور’’تین ہزار سے زائد افراد کا 2026 میں خلیج کا رخ کرنا‘‘ والے مخصوص اعداد آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سندھ سے ہنرمند افراد، ڈاکٹرز، انجینئرز، اور ٹیکنیکل ماہرین مسلسل ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک نفسیاتی شکست ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی سرزمین چھوڑتا ہے، تو وہ صرف ایک ملازمت کی تلاش میں نہیں جاتا، وہ ایک ایسی ریاست سے فرار اختیار کرتا ہے جس نے اسے بطور شہری وہ عزت نہیں دی جس کا وہ مستحق تھا۔
اب آئیے ان تین دہائیوں کے اقتدار کا حساب لگائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 2008 سے مسلسل سندھ میں اقتدار میں ہے، یعنی 2008، 2013، 2018، اور 2024 کے انتخابات کے بعد بھی حکومت اسی جماعت کی رہی۔ یہ سلسلہ 2026 تک تقریباً 18 سال بنتا ہے۔ مگر اگر تاریخی تناظر میں دیکھیں تو 1988 سے 2026 کے 38 برسوں میں پیپلز پارٹی تقریباً 30 سال یا اس سے زیادہ سندھ میں اقتدار میں رہی، اور سندھ کی بیوروکریسی، پولیس، اور انتظامی ڈھانچے پر اس کا اثر 1988 سے مسلسل غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیوں میں اکثر یہ جملہ استعمال ہوتا ہے کہ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے سندھ عملی طور پر پیپلز پارٹی کے سیاسی اور انتظامی کنٹرول میں ہے۔کراچی کا قصہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں ایم کیو ایم کے میئر اور ناظمین منتخب ہوتے رہے، 1987 میں ایم کیو ایم نے کراچی میں بڑی کامیابی حاصل کی، مصطفیٰ کمال 2005 سے 2010 تک ناظم رہے، وسیم اختر 2016 سے 2020 تک میئر رہے، اور 2023 میں مرتضیٰ وہاب پیپلز پارٹی سے میئر منتخب ہوئے۔ مگر اصل سچائی یہ ہے کہ کراچی کے میئر اور ناظمین کے پاس انتظامی اختیارات بہت محدود تھے، کیونکہ پولیس، بیوروکریسی، ترقیاتی فنڈنگ، اور صوبائی اختیارات بدستور سندھ حکومت کے پاس رہے۔ 2020 کے بعد جب وسیم اختر کی مدت ختم ہوئی، تو شہر براہِ راست سندھ حکومت کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے چلایا گیا۔ یوں کراچی، جو پاکستان کا معاشی دل ہے، عملی طور پر گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے سندھ حکومت یعنی پیپلزپارٹی کے فیصلہ کن انتظامی اثر کے تحت ہے۔اور آج کراچی کی حالت اندرون سندھ کے شہروں جیسی ہی ہوچکی ہے یہاں کے نوجوان بچے بوڑھے سب پریشان حال ہیں اور یہاں اس لڑکی کا سوال اصل قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ تیس سال کی حکومت کی فہرست کیا ہے۔ کہاں ہے وہ ہسپتال جس کا دروازہ غریب کی بیمار ماں کے لیے کھلا ہو، کہاں ہے وہ اسکول جس میں استاد روزانہ آتا ہو، کہاں ہے وہ تھانہ جہاں ایک ہاری اپنے بھائی کے قتل کی FIR لکھوا سکے، کہاں ہے وہ عدالت جو ایک اقلیتی والدین کو ان کی اغوا شدہ بیٹی واپس دلا سکے۔ یہ سوالات کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ سوالات ایک ایسے نظام کے خلاف ہیں جو اپنی ہی سرزمین کے باشندوں کو شہری بنانے میں ناکام رہا ہے، اور انہیں صرف ووٹر بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔اب اس سیاسی تاریخ کے دوسرے رخ پر آئیں۔ 1988 سے سندھ میں مختلف ادوار کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں پر کرپشن، منی لانڈرنگ، اختیارات کے غلط استعمال، جعلی اکاؤنٹس، سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ، ترقیاتی فنڈز میں بے ضابطگیوں، اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات بنتے رہے ہیں۔ یہاں صحافتی اور قانونی احتیاط کا تقاضا ہے کہ یہ معاملات “الزامات” اور “ریفرنسز” کے طور پر بیان کیے جائیں، نہ کہ “ثابت شدہ جرم” کے طور پر، کیونکہ ان میں سے کئی مقدمات میں متعلقہ افراد عدالتوں سے بری ہو چکے ہیں، اور بعض ابھی بھی زیر سماعت ہیں۔ ناقدین بری ہونے والے مقدمات سے متعلق کہتے ہیں کہ یہ جوڑ توڑ اور این آر او کا نتیجہ ہیں۔!!!!!
بس یہاں تک لگائیں باقی ڈیلیٹ کردیں



