بے شعوری میں سیاسی لڑائیاں !

موسم کی شدتوں کو دیکھتے ہوئے دل میں اللہ سبحانہ و تعالی کی کرامات کا خیال آتا ہے کہ اللہ نے ہمیں کیسے کیسے خوبصورت موسموں سے لبریز کرتے ہوئے اک آزاد دھرتی پر انسان کی شکل میں اشرف المخلوقات کی صنف میں پیدا کیا ہے اور اللہ کی مہربانیوں کی انتہا دیکھئے کہ ہم انسانوں کو آخری نبی حضرت محمد مسطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کا اُمتی بنا کر معتبری کے منصب پر بٹھا دیا جب اُمت ِ محمد ﷺکا مبارک نام ہمارے ساتھ ہے تو ایسے میں اپنے شجروں کو اہمیت دینا بے معنی سا لگتا ہے دل کہتا ہے کہ سارے شجروں کے ٹکڑے کر کے جلا دوں اور اُمت محمدی کی نسبت کو ماتھے پر سجا لوں ایسا مبارک کام اگر اجتماعی طور پر انجام پذیر ہو جائے تو فرقوں میں بٹی یہ قوم تسبیح کے دانوں کی طرح یکجہتی کی زندہ مثال بن جائے گی جانتا ہوں کہ ایسا ہونا ابلیسی طاقتوں کو کہاں گوارہ ہے وہ انسان کو بہکا کرگمراہی کے چوک میں لے جا کر اُنھیں گمراہ کر دیتی ہیں ۔قدرتی طور پر ہمیں چار موسم عطا ہوئے کاش کہ اللہ نے ہمیں ایک ایسا موسم بھی عطا کیا ہوتا جس کی دانش بھری فضا ء میں ہم عقل سے تہی دست نہ رہتے اور جمہوری جمال کے خدوخال ہنر اسلام کے تحت سنوارتے چلے جاتے تو آئین میں درج نظریات اسلامی اُصولوں کے بر عکس نہ ہوتے مسلمان ہوتے ہوئے غیر اسلامی نظریات کو فوقیت دینااسلامی شعور سے دستبرداری کا اعلان نہیں تو اور کیا ہے ؟ نہ جانے ہمارے مفکرین ،معاشی ماہرین ملک میں علم و ادب کی ،دین اسلام کے عملی نفاذ کی وہ بنیادیں کیوں نہیں فراہم کر رہے جس پر ہماری اسلامی ، ایٹمی ریاست پورے وقار سے بلند قامت ہو کر کھڑی رہے اور مثبت فکری روایا ت سے،اخلاقی اقدار کی پھیلتی خوشبو کی وجہ سے آنے والی نسلیں بھی مسحور ہو سکیں ۔میرے محترم عطا ء الحق قاسمی فرماتے ہیں کہ سیاست کسی تنہا مسافر کا سفر نہیں ،اس میں کارکنوں کی طاقت ،عوام کا اعتماد جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ سب اہم ہوتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ سیاست میں ہم خونداہ ہوں کہ ناخواندہ سب کے سب شخصیت پرستی میں ایسے اندھے ہو تے ہیں کہ سیاسی شخصیات کے مفادات پر ،ان کی وعدہ خلافیوں پر ،اُن کی بد عنوانیوں پر نظر ڈالنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور شخصیت کے سحر میں ڈوبے یہ لفظی جمہوری قوم ریاستی تقدس ،ریاستی استحکام سے اس قدر گریزاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکر کے عروج و زوال سے لاپرواہ ہو کر صرف الزام تراشی و بہتان کو ہتھیار بنا کر معاشی امن کو سیاسی دہشت سے تہس نہس کرتے ہوئے اُسے قرضوں کے کیمپ تک محدود کر دیتی ہے اور جمہوری صداقت کا سانس لینا سزا ہو جاتا ہے آفرین اُن چند مثبت سوچ و فکر کے حامل دانشورروں و عام مفکرین پر جو ایسے حالات میں بھی جمہوری نظام کی آس لئے زندہ ہیں اور قید حیات کے گھٹے گھٹے سے نظام ِ تنفس میں بھی اُمید لئے بیٹھے ہیںبہتری سوچ اور اچھے دنوں کی آشا سے بھر پور ذہن و قلوب اسی ریاست کے سینے پر ڈھڑکتے ضرور ہیں مگر اُنھیں اُن کے مزاج کے مطابق عمل پیرا نہیں ہونے دیا جاتا جس سے جبر کے طویل وقفے طویل تر ہوتے جا رہے ہیں اور بیشعوری کے اندھیرے چھٹنے کا نام نہیں لے رہے ہم زندہ قوم کے ترانے والی قوم ایسی خوابیدہ ہے کہ اذیت کی کروٹیں تو لیتی رہتی ہے مگر بیداری کے عمل سے نہیں گزر پاتی سیاست عوامی خدمت کا نام ہے مگر اسے عام آدمی کی رسائی سے دور کر کے ذریعہ خاص بنا دیا گیا ہے اس ہتک آمیز روایتوں کے باوجود یہ بیشعور ی میں سیاسی لڑائیوں کے ،سیاسی جھگڑوں میں مگن رہتے ہیں یہ ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے شخصیت پرستی کے بت پر اپنی محبتوں کے پھول نعروں کی صورت نچھاور کرتے رہنا فرض اولین سمجھتے ہیںعقل و شعور سے تہی دست یہ طبقہ جان کر شاید انجان رہتا ہے کہ وہ سیاسی شخصیت جو اپنے انتخابی کامیابی پر کروڑں کی کثیر رقم لگا کر ایوان میں داخل ہوتا ہے وہ اپنے مفادات کے لئے اپنی نسل کی فلاح و بہبود کو مقدم جانتا ہے اُسے عوام الناس کی تکالیف کا احساس صرف انتخابی جلسوں میں ہوتا ہے جس کا ذکر ایوان میں نہیں کرتا اس جھوٹ و فریب کے کرداروں کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود بھی اپنا رہبر تسلیم کرے تو شعور کی کمی واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے اور یہی کمی سیاسی شخصیات کی کامیابی بنتی ہے دہائیاں گزر گئی ہیں مگر بے شعوری میں یہ سیاسی لڑائیاں آج بھی جاری ہیں ذرا سوچیں کہ ہم اپنی نسل کو کس نظام کے حوالے کر رہے ہیں ۔



