ٹرمپ کا دورئہ چین اور ایران جنگ!

صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ وہ تہران میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے بعد چین کا دورہ کریں مگر انکی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ اس لیے انہوں نے وسط مارچ میں بیجنگ کے دورے کو منسوخ کر دیاتھا۔ اب یہ مذاکرات 14 مئی کو شروع ہوں گے۔ اس سمٹ کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ دونوں عالمی طاقتیں برابر کی سطح پر بات چیت کریں گی یا ان میں سے کسی ایک کو برتری حاصل ہو گی۔ صدر ٹرمپ اگر ایران جنگ کو اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے بعد ختم کر چکے ہوتے تو انھیں یقیناً برتری حاصل ہوتی۔ یہ جنگ کیونکہ سیز فائر کے باوجود جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اس لیے صدر ٹرمپ اس مقام و مرتبے پر متمکن نہیں جس کی انہیں خواہش تھی۔ امریکہ جب ایران جیسے کمزور ملک کو شکست نہ دے سکا تو وہ چین سے اپنی شرائط کیسے منوائے گا۔ مارچ کے اوائل میں جب امریکہ اور اسرائیل تہران میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو چین کو خطرہ تھا کہ تہران میں امریکہ نواز حکومت پورے مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدل کے رکھ دے گی لیکن مگر اب اسے ایسا کوئی خدشہ نہیں رہا۔ ایران کی بھرپور مزاحمت نے نہ صرف طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں نہیں رہنے دیا بلکہ اسے دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس سے چین کو مشرق وسطیٰ میں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔ امریکہ ایران جنگ کئی اعتبار سے چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ بیجنگ کیونکہ شروع ہی سے اس جنگ کی مخالفت کرتا رہا ہے اس لیے اسے ایک امن پسند ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں چین کی در پردہ کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ کے ترجمان Guo Jiakun نے کہا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ Wang Yi نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے اپریل کے اوائل میںمختلف ممالک سے 26مرتبہ رابطے کئے۔ ان ممالک میں ایران‘ روس‘ خلیجی ممالک اور اسرائیل شامل ہیں۔ ایران اپنے تیل کی پیداوار کا 90 فیصد حصہ چین کو برآمد کرتا ہے۔ تیل کی یہ ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے اس آبی راستے کی ناکہ بندی کے چین کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اگلے ہفتے بیجنگ میں ہونیوالے مذاکرات میں ایران جنگ اس لیے ایک اہم مسئلہ ہو گی کہ امریکہ اور چین دونوں اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ درست سہی کہ یہ جنگ جتنا عرصہ جاری رہے گی امریکہ کا ہر اعتبار سے نقصان ہوتا رہے گا اور چین اسکے ثمرات سمیٹتا رہے گامگر اس جنگ کی وجہ سے چین کی دیگر خلیجی ممالک سے تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے اس لیے وہ اسے طول دینے کے حق میں نہیں ہے۔امریکی جریدے The Dispatch کے حالیہ شمارے کے مطابق چین نے 2024 میں سعودی عرب سے 14 فیصد‘ عراق سے 11 فیصد‘ عمان سے سات فیصد‘ اور متحدہ عرب امارات سے چھ فیصد تیل برآمد کیا۔ یورپ اور افریقہ کو چین کی کل برآمدات کا دو تہائی حصہ خلیجی ممالک کی بندر گاہوں سے ہو کر جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اسوقت 1500 چینی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں۔ اسکے علاوہ AI ‘ ڈیجیٹل اکانومی اور گرین انرجی کے کاروبار میں چین اور خلیجی ممالک کا تعاون مثالی ہے۔ ایران چین کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے مگر چین کے خلیجی ممالک سے بھی وسیع مفادات وابستہ ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر چین ایران اور خلیجی ممالک سے اپنے تعلقات میں ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ چودہ مئی کے مذاکرات میںبھی اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ایران جنگ کے سائے اس سمٹ پر منڈلاتے رہیں گے مگر دونوں عالمی طاقتوں کے کئی دیگر ایسے مسائل بھی ہیں جنہیں طے کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔ چین کے ایک ارب سے زیادہ خریدار ایک ایسی تجارتی منڈی ہے جو امریکہ کے لیے کشش رکھتی ہے اسکے علاوہ اسکے پاس نایاب زمینی معدنیات کا ایسا ذخیرہ ہے جسکی امریکہ کو سخت ضرورت ہے۔ صدر شی جن پنگ ان عوامل کو ایک Liverege کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف چین چاہتا ہے کہ امریکہ تائیوان کی آزادی کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔ شی جن پنگ کے ایجنڈے پر یہ مطالبہ بھی ہو گا کہ امریکہ اپنی جدید ٹیکنالوجی بغیر سخت شرائط کے چینی کمپنیوں کو فروخت کرے۔ بیجنگ یہ بھی کہہ چکا ہے کہ امریکہ بلیک لسٹ کی ہوئی چینی کمپنیوں پر سے کاروباری پابندیاں ختم کر دے تا کہ وہ امریکی کمپنیوں سے کاروبار کر سکیں۔ ان مطالبات کے ہوتے ہوئے صدر شی جن پنگ ایران جنگ کے کارڈ کو ایک حد تک ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے یہ سمٹ اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ بیجنگ میں کامیابی حاصل کر کے ایک منجھا ہوا سیاستدان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا چین امریکہ سے کتنی مالیت کی زراعتی مصنوعات اور کتنے بوئنگ جیٹس خریدتا ہے۔ صدر ٹرمپ اگر چین سے اربوں ڈالر کے یہ معاہدے کر لیتے ہیں تو امریکی کسانوں کے علاوہ جنگی صنعت کو بھی فائدہ ہو گا۔ اس نوعیت کے معاہدے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کے لیے خاصے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 2017میں بھی دورئہ چین کے دوران اربوں ڈالر کے معاہدے کئے تھے مگر اسکے بعد دونوں ممالک کے درمیان چپقلش کئی برسوں تک جاری رہی تھی۔ اس لیے صدر ٹرمپ کے اس دورے کے نتائج بھی رفتہ رفتہ سامنے آئیں گے۔ چین اگر امریکہ کے کہنے پر ایران پر دبائو ڈال کے یہ جنگ ختم نہیں کراتا تو یہ اختلاف بھی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے۔ یوں ایران جنگ اس سمٹ کے پس منظر میں ہوتے ہوئے بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔



