ظالموں نے پاکستان کو کیسے کھایا؟

ڑ اس سے پہلے کہ امریکہ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں لے جائے، پاکستانی حکومت نے خو دہی یہ ذمہ واری قبول کر لی ہے۔شہباز شریف کی حکومت مالیہ بڑھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، نہ اسے کہیں سے قرضہ ملتا ہے، اور نہ ہی امداد۔ حکومت بجائے کوئی دانشمندانہ قدم اٹھانے کے، جیسے کہ اپنے اللے تللے ختم کرنے کے، اور کرپشن کے نظام کو ختم کرنے کے، ایک آسان لیکن انتہائی تکلیف دہ قدم اٹھا رہی ہے اور وہ یہ کہ بجلی اور گھریلو گیس پر بے انتہا ٹیکس لگائے جا رہی ہے۔یہ ظلم کی انتہا ہے کہ آئی پی پیز کو بغیر بجلی لیے، پوری رقمیں دئیے جا رہی ہے، جو اربوں میں ہیں، اور سب اس کے سرمایہ کاروں کی جیب میں جا رہی ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ وہ سرمایہ کار کون ہیں؟یہ زیادہ تر مشہور ِزمانہ پاکستانی صنعتکار ہیں، کچھ غیر ملکی جن میں چینی نمایاں ہیں، اور سرکاری ادارے۔جو پاکستانی سرمایہ کار ہیں ان میں شامل ہیں۔منشا گروپ، نشاط گروپ، حبیب اللہ کوسٹل گروپ، دائود گروپ، اور سرکاری محکمے جیسے واپڈا اور فوجی فائونڈیشن۔انٹرنیٹ کے مطابق آئی پی پیز کے اکثریتی حصہ دار 40پاکستانی کنبے اور گروہ ہیں۔ ان کو باقی حصہ داروں کی طرح اپنے حصہ کا منافع باقاعدگی سے مل رہا ہے۔خواہ بجلی کی پیدا وار ہو یا نہ ہو۔ یہ بے شرم طبقۂ امراء عوام کا خون چوس رہا ہے اور ڈکار نہیں لیتا۔اس پر ستم یہ ہے کہ ملک میں بجلی کا بحران ہے۔لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔اگر حقائق پر نظر ڈالیں، جو ایک سابق وزیر گوہر اعجاز نے بتائے، کہ صارفین نے گذشتہ مالی سال میں 1.93 کھرب روپے ان بجلی والوں کو پیدا واری صلاحیت کی بنیاد پر ادا کیئے، ان میں دو پلانٹ ایسے تھے جنہوں نے ایک یونٹ بجلی بھی نہیں پیدا کی، اور تین ایسے جنہوں نے اپنی صلاحیت کا پندرہ فیصد بجلی بنائی۔ان انتہائی ظالمانہ معاہدوں کی وجہ سے حکومت ایک پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خریدی، اور کوئلہ سے چلنے والے پلانٹ سے دو سو روپے فی یونٹ خریدی۔جناب گوہر کا کہنا ہے’’ کہ صارفین کو ساٹھ روپے فی یونٹ بجلی دینا صرف اس لیے ہے کہ ٹھیکیداربد عنوان ہیں، بد انتظام ہیں اور نا اہل ہیں۔‘‘ کل پاورپلانٹ یونٹ 101ہیں۔52 فیصد پلانٹس کی ملکیت سرکاری ہے، اور 28فیصد کے مالکان نجی شعبہ میں ہیں۔کسی نے سوشل میڈیا پر یہ سلائیڈچلائی ہے کہ آصف علی زرداری کے 16آئی پی پیز ہیں، شریف خاندان کے28 اور دیگر لیڈران کے16۔ غور فرمایئے کہ کس طرح شریف خاندان اورزرداری عوا م کا خون چوس رہے ہیں۔گوہر صاحب کہتے ہیں کہ جب تک اس صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگیوں کے خلاف عوام نہیں اٹھ کھڑے ہو نگے، کچھ نہیں ہو گا۔ ہونا یہ چاہیئے کہ صرف اس بجلی کی ادائیگی ہو جو پیدا کی گئی ہو۔اور وہ بھی اس کمپنی سے جو سب سے سستی بجلی دے۔کیا عوام یہ سن رہے ہیں؟ راقم کاخیال ہے کہ نہیں۔یہ عوام احتجاج پسند نہیںہیں۔ان کے ساتھ جو سلوک کر لیں یہ برداشت کرتے ہیں۔یہ معاہدے نواز شریف اور شہباز شریف کی حکومتوں میں کیے گئے۔ ان حکومتوں نے سوچا کہ اگرچہ ضرورت آبی بجلی گھروں کی ہے، لیکن اول تو انکوبننے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ دوئم، ان سے کمیشن لینا مشکل کام ہے۔اس کے مقابلہ میں یہ پاور پلانٹ جو تیل سے یا گیس سے یا کوئلہ سے چلیں گے، نہ صرف اچھی آمدن ہو گی، یہ زر مبادلہ میں ہو گی اور مسلسل ہو گی، بجلی بنے یا نہ بنے۔چونا تو عوا م کو لگے گا۔بس وہی ہوا، کیبینیٹ سے فیصلہ کروایا گیا اور آئی پی پی کے پلانٹ لگنے شروع ہو گئے۔ اور اب حال یہ ہے کہ پلانٹ بند پڑے ہیں، کیوںکہ تیل نہیں ہے یا مہنگا ہے۔لیکن ادائیگیاں مسلسل ہو رہی ہیں۔ سارے سرمایہ کاروں کی چاندی ہے۔یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ قرضوں سے(اسی لیے شہباز شریف در درکی ٹھوکریں کھاتے ہیں کہ کہیں سے بلین دو بلین ڈالر مل جائیں۔)۔ جب عوام کے لیے بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی وجہ عموماً یہی ہوتی ہے کہ آئی پی پی کو موٹی رقمیں دینی ہوتی ہیں۔کبھی بجلی کی قیمت بڑھاتے ہیں اور کبھی پٹرول کی یا ڈیزل اور مٹی کے تیل کی۔اس کا تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سے کم ہی ہوتا ہے۔ آئی پی پی کی ادائیگیوں، قرضوں کی قسطوں، انتظامیہ اور محکمہ دفاع کے بجٹ میں سارا مالیہ کھپ جاتا ہے۔تعلیم اور صحت عامہ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔اب جس سے پوچھو، تو کہتا ہے کہ جب تک عوام نہیں اٹھیں گے، یہ آوے کا آوا سیدھا نہیں ہو گا۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا،نہ رادھا ناچے گی۔ایک تازہ خبر کے مطابق، پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے صحت اور تعلیم کے بجٹ سے 35 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ جو رقم پہلے ہی کونسی زیادہ تھی اور اب اس سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ یہ ہے قوم کی ماں کا کام۔تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت 485 روپئے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ کل صبح سے آپ دیکھیں گے۔وہ دن دور نہیں جب سرکاری سکول مستقل طور پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بند کر دیئے جائیں گے۔صرف نجی شعبہ کے سکول کھلے رہیں جن کی بڑی بڑی فیسیں صرف صاحب ثروت احباب دے سکتے ہیں۔اور لوگوں کو صحت کی سہولتیں دینے کے لیے جعلی ڈاکٹروں، حکیموں اور عطائی معا لجوںکی حوصلہ افزئی کی جائے گی۔
کیوں نہ ہم ایک جائزہ لیں کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن پر عوام غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور مار کٹائی تک اتر آتے ہیں۔مندرجہ ذیل کو ایک سے دس تک نمبر دیں۔ یعنی 1،اگر کوئی غم و غصہ نہیں اور10انتہائی شدید غم و غصہ۔ اس کے لیے ہماری رہنمائی تاریخ کے اوراق کریں گے۔اس مشق سے پہلے آئیے، دیکھیں کہ ماضی میں جو پاکستان میں احتجاج ہوئے وہ کیوں؟ اس میں ہماری مدد اے آئی نے کی ہے۔پہلا اور قابل ذکر فساد لاہور میں ختم نبوت تحریک نے ۱۹۵۳ء میںکیا۔ اسمیں قادیانیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کی مذہبی عبادت گاہیں تباہ کی گئیں اور کئی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے انہیں اعتراض تھا کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟اور اس کے نتیجہ میں ایوب خان کا مارشل لاء نافذ ہوا۔1968-69 میں ، ایوب خان کے خلاف مہم چلی۔اس کی بظاہر کئی وجوہات تھیں جیسے مہنگائی،بے روزگاری، اور آمرانہ طرز حکمرانی تھیں۔ اس احتجاج میں مزدوروں اور طلبہ نے وسیع پیمانے پر حصہ لیا۔ لیکن اس میں بھی مذہبی عنصر شامل تھا جو ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف مذہبی عناصر نے بڑے موثر انداز میں چلائی۔ ایوب خان کی حکومت تندہی کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کی پشت پناہی کر رہی تھی۔مذہبی طبقہ کا ایمان تھا کہ یہ مہم اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی۔اس کشمکش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ضروری نہیں عوامی احتجاج ہمیشہ حق بجانب ہوںلیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ایوب خان کو حکومت سے جانا پڑا اور خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرم بقول شخصے،’’وڑ‘‘ گیا۔لیکن چونکہ آنے والی حکومتوں کو ان ڈالروں کی ضرورت تھی جو باہر سے اس پروگرام کے لیے آتے تھے،اس کا حلیہ بدل بدل کر چلایا گیا۔ 1977 میں تحریک نظام مصطفٰی کے نام پر ملک گیر تحریک چلائی گئی۔ اس میںذولفقار علی بھٹو کے خلاف انتخابی دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ اور اس کا انجام بھی یوں ہی ہوا کہ جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگا دیا۔1983 میں، سندھ میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی جو جنرل ضیاء کے خلاف بحالی جمہوریت کے لیے چلائی گئی۔2007 میں وکلاء تحریک چلائی گئی۔ جو در اصل احتجاج تھا چیف جسٹس افتخارچودھری کی برطرفی کے خلاف، اور صدر پرویز مشرف کے خلاف تھا۔اسمیں عوام بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔فوجی حکومتوں کو ہمیشہ اگر کہیں سے مزاحمت ملی تو وہ عدلیہ سے تھی۔صدر پرویز مشرف نے بھی چیف جسٹس افتخار کو نکلوا دیا جو بالکل بے جا تھا۔ اوربالآخر ان کو بحال کرنا پڑا۔2014 میں، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا اسلام آباد میں ایک طویل دھرنا ہوا۔ اس میں انتخابی دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔اس کے بعد امریکہ کی طرف سے حکم جاری کیا گیا کہ پاکستان کی فوج معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ عمران خان کو زندان میں ڈال دے اور پی ٹی آئی کو نا کارہ بنا دے۔ یہ حکم پیچھے سے کہاں سے آیا تھا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔پھر ہماری تابعدار فوج نے ایک منصوبہ بنایا اور اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔ اس منصوبہ کی ابتداء عمران خان کی گرفتاری سے ہوئی ، جس سے تحریک کے کارکنوں نے احتجاج شروع کیے اور ان کی گرفتاریاں ہوئیں۔9مئی کا سارا ڈرامہ پہلے سے تیار تھا۔مئی 2023 میں، عمران خان کو گرفتار کیا گیا جس سے لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں احتجاج ہوئے۔ فوجی ملی بھگت سے ایسا دکھایا گیا جیسے احتجاجی فوجی تنصیبات پر حملے کر رہے تھے۔اس واقعے کو بنیاد بنا کر تحریک کے ہزاروں کارکن گرفتار کیے گئے۔ اور فوجی عدالتوں میںمقدمات چلائے گئے۔اس واقعہ کی وڈیوز سے صاف پتہ چلتا تھا کہ تحریک کے کارکن ان حملوں میں شامل نہیں تھے۔ جیسے تحریک کی معزز کارکن ، ڈاکٹر یاسمین ایک گاڑی کی چھت پر بیٹھی کارکنوں کو منع کر رہی تھیں کہ وہ کمانڈر کے گھر میں نہ جائیں۔ لیکن حکومت نے انہی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ وہ وڈیو بھی غائب ہو گئی۔ان مندرجہ بالا واقعات سے صاف رحجان نظر آتا ہے کہ احتجاجوں کا عسکری کاروائی اور مارشل لاء کاگہرا تعلق تھا۔ یعنی پہلے احتجاج ہوتے تھے اور پھر فوجی حکومت کا قیام ہوتا تھا۔ان احتجاجوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو کچھ عوامل کار فرما نظر آتے ہیں، جیسے عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ جانا، طاقتور طبقہ کا احتساب نہ ہونا، فرقہ وارانہ کشیدگی اور وسائل کی تقسیم پر بے اطمینانی، وغیرہ۔ موجودہ حالات میں انتخابات کا چوری ہو جانا اور جعلی حکومت کا قیام۔معاشی بد حالی جو فیکٹریاں بند ہونے اور برآمدات میں کمی سے جو حالات بنے۔ ان حالات کے علاوہ وہ حالات قابل غور ہیں جو بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے پیدا کیے۔ جن کامنبع، عوام کو سیاسی کونے سے لگانا، وسائل کی لوٹ، اور صوبائی خود مختاری کا نہ ہونا ہے۔ گلگت بلتستان میں شیعہ اکثریت کو ا نکے حقوق نہ ملنا، اور عسکریت کا زور بھی وجوہات ہیں۔اسی طرح آزاد کشمیر کے عوام کو حقیقی آزادی اور حقوق نہ ملنا بھی احتجاجوں کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب میں ایسے حالات نہیں ہیں، غالباً یہی وجہ ہے کہ پنجابی آسانی سے سڑکوں پر نہیں نکلتے۔ ان تمام واقعات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی افواج کو ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کی فکر دامنگیر رہتی تھی۔وہ سیاستدانوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے اور سچ بھی یہ کہ بہت سی کالی بھیڑوں نے سب سیاستدانوں کو ولن بنا دیا تھا۔اور سیاسی نظام کو گندا۔ پھر فوج کو بلایا جاتا تھا کہ وہ آکر انتظام سنبھال لے۔اکثر سیاسی حکومتیں اکھاڑ پچھاڑ کا شکار رہیں۔جس کی وجہ سے مارشل لاء لگتے رہے۔ نون لیگ اور زرداری نے فوج کے ساتھ مفاہمت کر لی اور یہ طے پایا کہ مل جل کر پاکستا ن کو لوٹیں گے۔ اگر تحریک انصاف ہماری راہ کا روڑا بنتی ہے تو اس کی قیادت کو زندان میں ڈال کر بالکل اپا ہج کر دیں گے۔لندن میں منصوبہ سازی ہوتی رہی اور منصوبے بنتے رہے۔ ایک بڑا ڈر تھا کہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بڑی کامیابی حاصل کرے گی، تو اس کا علاج بھی ڈھونڈ لیا گیا۔ فارم 47 میں اعداد کی رد و بدل کے ساتھ جو ہارا وہ جیت گیا۔ ہن کر لو موجاں۔معاملہ یہیں نہیں ختم ہوا۔ پھر آئینی رکاوٹیں پر ترمیمیں کی گئیں جن سے عدلیہ مکمل طور پر انتظامیہ کے زیر اثر آ گئی اور ملک کے تین آئینی اداروں میں آزادی ختم ہو گئی۔اور عملاً پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگ گیا۔



