معاہدہ ہو رہا ہے؟

Chester EDgerکی ایک کتاب The face of politicsپچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں منظرِ عام پر آئیChester EDgerبرطانیہ میں سیاہ فام سیاست کا ایک کردار تھا،وہ چرچ کے Biship رہے، فلسفے سے خاص لگاؤ رہا،دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں پر بھی ان کی ایک کتاب منظرِ عام پر آئی تھی Chester EDgerچرچ میں تاریخ کے حوالوں سے ملکوں کے درمیان جنگو ں میں خون ریزی پر بھی بات کرتے رہے اور اپنےfollowersکو جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتے رہے اپنی کتاب The Face of Politics میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگوں کی وجہ سے عام شہریوں اور بالخصوص بچوں پر کیا نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں،اور یہ اثرات بچوں کی شخصیت کو کس طرح مسخ کرتے ہیں بظاہر وہ معمول کی زندگی گزارتے ہیں مگر ان کا نظریہ جنگ، امن، اور سیاست کے بارے میں بدل جاتا ہے ان میں سے کچھ جنگ سے نفرت کرتے ہیں اور کچھ جنگ کی حمائیت کرتے ہیں ان میں تشدد کا جذبہ بھی انگڑائی لیتا ہے،ایسے عناصر کو تشدد پسند سیاست دان چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ،دوسری جنگ عظیم کے بعد انگلینڈ میں MANN publicatios بہت مقبول ہوئیں یہ چھوٹے چھوٹے کتابچے ہوتے تھے جن کا موضوع انسان اور انسانیت ہوتا تھا یہ لندن میں مفت تقسیم کئے جاتے تھے۔عوام میں ان کتابچوں کی بہت پذیرائی تھی، لوگ ان کتابچوں کو اپنے بچوں کے لئے بہت اہم سمجھتے تھے وہ اسکول جن کا انتظام چرچ کے پاس تھا وہ ان کتابچوں کو اپنے طلباء کے لئے ضروری سمجھتے تھے اور ان کو نصاب میں بھی شامل کر لیا گیا یہ کتابچے پچھلی صدی کی پانچویں میں لکھے گئے اور پڑھے گئے ان کتابچوں کے خالق کا نام کبھی ظاہر نہیں کیا گیاجب یہ کتابچے لکھے جارہے تھے اور پڑھے جا رہے تھے اس وقت Chester EDgerشائد اوائل عمری میں رہے ہونگے ان کتابچوں کا اثر Chester EDger کی شخصیت پر گہرا رہا ہوگاChester EDger اپنی عمر کے آخری سالوں میں ممبر آف پارلیمنٹ سے بھی ملے اور ان سے کہا کہ وہ اسلحہ نہ بنائیں اور یہ رقم تعلیم اور صحت پر خرچ کریںممبرز آف پارلیمنٹ نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم آپ کے خیالات قبول کر لیں تو بہت جلد کسی opresserکی فوج کشی کا شکار ہو جائیں گے بالکل یہی صورت حال امریکہ میں پیش آئی جب جیسی جیکسن نے کانگریس اور سینیٹ سے کہا کہ ہمیں ویت نام کی جنگ سے کچھ نہیں ملاسو امریکہ کو چھوٹے ملکوں پر فوج کشی سے باز آ جانا چاہیئے کانگریس اور سینیٹ کے اراکین نے وہی جواب دیا جو Chester EDgerکو انگلینڈ کے ممبر آف پارلیمنٹ نے دیا تھا،اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ زندگی جو اخلاقیات کی پابند ہو اور خون ریزی کے نتیجے میں دوسرے ملکوں کے شہریوں کا درد بھی سمجھے سیاست میں قابلِ قبول نہیں،غزہ کے Genocideپر دنیا خاموش نہ بیٹھی زبردست مظاہرے ہوئے ریلیاں نکالی گئیں مگر غزہ میں بمباری کم نہ ہو سکی،دنیا میں امن پسندوں کی آواز نہیں سنی گئی کہیں کہیں یہ مظاہرے پر تشدد بھی ہوئے مگر حکومتوں پر مظاہروں اور ریلیوں کا کوئی اثر نہ ہوا،امریکہ اور یورپ کے تقریبا ً تمام ممالک اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتے رہے اور دنیا کے سامنے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام ہو تا رہا،اور اب ایسا ہی قتلِ عام لبنان میں ہو رہا ہے،اور دنیا خاموش ہے اس پس منظر میں یہ بات تو عیاں ہے کہ دنیا کی سیاست سے شرافت رخصت ہو چکی،میرے خیال میں شرافت کا لفظ مناسب نہیں ہے سیاست میں شرافت تو کبھی تھی ہی نہیں،ہماری تاریخ بھی اس حوالے سے ہمیں شرمسار کرنے کے لئے کافی ہے،مگر ہم اپنی ہی تاریخ کی بات کیوں کریں،دنیا میں طاقت کا ہی بول بالا رہا اور طاقت میں شرافت کا کہاں دخل،یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پچھلی صدی کے درمیانی دور میں سنجیدگی ضرور تھی اور یہ سنجیدگی عراق پر حملے کےبعد رخصت ہو گئی ،اور کھل کر جھوٹ بولا جانے لگا،ہم جانتے ہیں کہ عراق جنگ سے پہلے سی آئی اے اور پینٹاگون کے پراجیکٹ ہوتے تھے جو مختلف طریقوں سے حاصل کر لئے جاتے تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا پراجیکٹس کو پورا کرنے میں دہائیاں لگ جاتی تھیںاب لگتا ہے کہ پالیسی بدل گئی اور یہ سوچا گیا کہ امریکہ کے پاس ناقابلِ قیاس طاقت ہے تو کیوں نہ اپنے اہداف طاقت کے بل پر حاصل کر لئے جائیں،سو امریکہ ایران جنگ میں یہی خیال زیادہ توانا نظر آتا ہے،اور ٹرمپ نے اسی خیال سے اپنی بہت سی طاقت اس جنگ میں جھونک دی،مگر بدقسمتی سے اہداف حاصل نہ ہو سکے کبھی کسی نے یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ امریکہ جنگ کے دوران اتنا زچ ہو جائیگا کہ اس کو ایران جیسے مفلوک الحال ملک سے مذاکرات کرنے پڑیں اور ایران کو جنگ بندی کے لئے کچھ نکات پیش کرے گا اور ایران کی اتنی ہمت ہو سکتی ہے کہ وہ ان نکات کو مسترد کردے اور چاہے کہ امریکہ ایران سے برابری کی بنیاد پر بات چیت کر سکے،اب طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کی بے مثال ثالثی کی وجہ سے امریکہ اور ایران جنگ بندی پر راضی ہوگئے ،ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرائے گا،بہر حال بیش قیمت لمحہ آیا اور پاکستان نے اس موقع کو انتہائی خوبصورتی سے استعمال کیا،کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ طاقت کے پاس آنکھیں نہیں ہوتیں اور جب آنکھیں ملتی ہیں طاقت جا چکی ہوتی ہے،تاریخ نے اس بات کو بار بار ثابت کیا ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو گئی اس کے لئے ٹرمپ پر عالمی دباؤ تھا اور سب سے زیادہ گلف کا دباؤ،خلیجی ممالک نے امریکہ کو اڈے اس توقع پر دے دیئے تھے کہ امریکہ ان کا دفاع کرے گا مگر امریکہ خلیجی ممالک کا دفاع کر سکا نہ ہی اپنا،اس کے دو بڑے بحری بیڑے زخمی ہو گئے جن کی مرہم پٹی کرنی پڑی اس زخم کا امریکہ کو بھی اندازہ نہ تھااور ایران کی سخت جانی کا اندازہ نہ اسرائیل کو تھا نہ امریکہ کو،اور دنیا تو ایران کی سخت جانی پر حیران رہ گئی،جنگ بندی دو ہفتے کے لئے ہوئی تھی اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی وساطت سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا اس دوران آبنائے ہرمز سے کچھ جہاز ایران کو ٹول دے کر گزرتے رہے،ایران کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی تھی لہٰذا امریکہ کے زرخیز ذہن میں ایران کی ناکہ بندی یاBlockadeکا خیال آیا اور یہ حربہ کارآمد ثابت ہوا امریکی ناکہ بندی نے ایران کو واقعی نقصان پہنچایا اس ناکہ بندی کو بھی ایک ہفتے سے زائد ہو چکا ہے مگر ایران نے ابھی تک Surrenderنہیں کیا ہے ہر چند ٹرمپ کا یہ بیان بھی سامنے آچکا کہ ہم ایران کو صفحہء ہستی سے مٹا دینگے ابھی کل ہی ٹرمپ کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ایران کوچوبیس گھنٹے کا ایلٹی میٹم دے رہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم جنگ نہیں کرینگے دو دن قبل ایران نے اس امریکی جنگی جہاز پر دو میزائیل فائر کر دئے اس واقعے پر امریکی وزیر جنگ ہیگسیتھ نے کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق down play کیا ہے اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ امریکہ ایران سے دوبارہ جنگ نہیں چاہتا مگر یہ چاہتا ہے کہ ایران پر دباؤ جاری رہے اور اس سے زیادہ سے زیادہ شرائط منوا لی جائیں،دیکھیئے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے،ٹرمپ ایک کامیاب realtor اور بزنس مین ہیں وہ سیاست دان نہیں ہیں اسی لئے انہیں outsiderکہا جاتا ہے، وہ اگر سیاست کو تجارت سمجھنے لگیں تو اس کے نتائج تو ہونگے اب کہا جا رہا ہے کہ عباس عراقچی کے دورہ ٔچین کے بعد ایک بار بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے،کہا جا جارہا ہے کہ Epic Fury اپنے اختتام کو پہنچا، operation freedom عارضی طور پر معطل کیا جا رہا مگر ایران کی ناکہ بندی جاری رہے گی،خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان One Page Agreement پر بات ہو رہی ہے ایک خبر رساں ادارے نے خبر دی ہے کہ یہ معاہدہ طے پا جائیگا کہ ایران یورینیم کی افزودگی معطل کر دے گا غالباً دس پندرہ سال کے لئے ،افزودہ یورینیم روس کے حوالے کر دیا جائیگا،ایران سے پابندیاں بتدریج اٹھا لی جائیں گی ایران پیٹرو ڈالر سے منسلک ہو جائیگا، اور کے منجمد اثاثے بتدریج ایران کو مل جائیں گے ،ٹرمپ نے یہ خبر دی تھی کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر آپریشن فریڈم معطل کیا جا رہا ہے،ان اقدامات سے لگتا ہے کہ معاہدہ جلد ہو جائیگا اور کچھ تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ معاہدے پر دستخط پاکستان میں ہی ہونگے جو واقعتاً پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہوگا،بہرحال امریکہ ایران قضیئے کو کسی انجام تک تو پہنچنا تھا اب امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا چین کا سانس لے گی اس دوران امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا گو کہ کچھ خبر رساں ایجنسیاں وہ تباہ کاریاں دکھا رہی ہیں جو جنگ کے نتیجے میں امریکہ کا مقدر رہیں اور جن کا تخمینہ پچاس ارب ڈالرز کے قریب ہے،پھر بھی یہ رقم امریکہ کے لئے معمولی رقم ہے مگر اس جنگ کا تاوان دنیا بھر کو ادا کرنا پڑا اور ساری دنیا کی معیشت بیٹھ گئی ،جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا، پاکستان کی معیشت کو بھی بے انتہا نقصان اٹھانا پڑا ،مہنگائی اور ٹیکسوں نے عوام کی کمر توڑ دی اس جنگ کے خاتمے پر اگر ایران پاکستان گیس لائین کھل جاتی ہے تو یہ ایک اچھی خبر ہوگی۔



