قرض، ڈالر اور بے روزگاری: پاکستان آخر کب تک؟

تحریر: آصف اقبال
پاکستان ایک عجیب معاشی دائرے میں پھنسا ہوا ملک بن چکا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر ملک میں آتے ہیں، مگر پھر بھی ڈالر کی قلت ختم نہیں ہوتی۔ کبھی روپے کی قدر گرتی ہے، کبھی مہنگائی آسمان کو چھوتی ہے، کبھی آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینی پڑتی ہے، اور کبھی درآمدات روکنے کے لیے سخت پابندیاں لگانی پڑتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جتنا کماتا ہے، اس سے کہیں زیادہ خرچ کر دیتا ہے۔پاکستان کی سالانہ درآمدات تقریباً 55 سے 70 ارب ڈالر کے درمیان رہتی ہیں، جبکہ برآمدات بمشکل 30 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں۔ یعنی ہر سال 25 سے 30 ارب ڈالر کا خسارہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ خسارہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم یعنی ریمیٹنسز سے وقتی طور پر پورا کیا جاتا ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔اب ذرا غور کیجیے کہ پاکستان درآمد کیا کرتا ہے۔ تیل اور گیس پر تقریباً 15 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں، مشینری پر اربوں ڈالر لگتے ہیں، پام آئل، دالیں، کیمیکلز اور کئی بنیادی اشیاء باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی چیزیں پاکستان خود پیدا یا تیار کر سکتا تھا، مگر دہائیوں کی غلط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی اور صنعتی ترقی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہم یہ صلاحیت پیدا نہ کر سکے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے ہی ڈالر ملک میں آتا ہے، وہ فوراً درآمدات کی ادائیگی میں واپس چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ڈالر کا بحران بار بار واپس آتا ہے۔ جب تک تجارتی خسارہ کم نہیں ہوگا، معیشت بار بار اسی دلدل میں پھنستی رہے گی۔پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ اس کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ہے۔ دنیا کے ان چند ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ کسی بھی ملک کے لیے بہت بڑی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب ان نوجوانوں کو روزگار ملے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ نئے گریجویٹس اور تربیت یافتہ افراد لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت صرف 5 سے 6 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کر پاتی ہے۔ باقی لاکھوں نوجوان یا تو بے روزگار رہ جاتے ہیں، یا اپنی صلاحیت سے کم درجے کی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، یا پھر ملک چھوڑنے کا سوچتے ہیں۔جب نوجوانوں کے پاس روزگار نہ ہو تو صرف معاشی مسائل پیدا نہیں ہوتے بلکہ سماجی اور سیکیورٹی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ مایوسی بڑھتی ہے، جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور سیاسی عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ اس لیے بے روزگاری صرف ایک معاشی بحران نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔اس کا حل کیا ہے؟حل صرف ایک مضبوط نجی شعبہ ہے، مگر نجی شعبہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب ملک میں سستی توانائی، کم ٹیکس، قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کا تسلسل اور کاروبار دوست ماحول موجود ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کاروباری طبقہ اکثر غیر یقینی صورتحال، مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور پیچیدہ ٹیکس نظام کا شکار رہتا ہے۔پاکستان کی معیشت کا ایک اور خطرناک پہلو سرکاری پنشنوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت اپنے ملازمین کی پنشن دینے کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں پنشن کا نظام زیادہ تر “ان فنڈڈ” ہے، یعنی حکومت کے پاس ایسا کوئی بڑا مستقل فنڈ موجود نہیں جہاں پہلے سے رقم جمع ہو۔ جب کوئی ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو اس کی پنشن اسی سال کے بجٹ سے ادا کی جاتی ہے۔2023 میں پنشن کا حجم 800 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا، اور ہر سال اس میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں حکومت کے لیے پنشن دینا بھی ایک بڑا بحران بن جائے گا۔ پھر یا تو عوام پر مزید ٹیکس لگیں گے، یا بنیادی سرکاری سہولیات میں کٹوتی کرنا پڑے گی۔اس تمام بحران کے پیچھے ایک اور خطرناک عادت بھی موجود ہے، اور وہ ہے قرض لینے کی عادت۔پاکستان کو جب بھی معاشی مشکل پیش آتی ہے، فوری حل کے طور پر نئے قرض کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک اور ادارے پاکستان کو قرض دیتے رہے ہیں۔لیکن اصل مسئلہ قرض لینا نہیں، بلکہ اس قرض کا استعمال ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی قرض لیتے ہیں، مگر وہ اسے صنعت، انفراسٹرکچر، تعلیم اور ایسی سرمایہ کاری پر خرچ کرتے ہیں جو مستقبل میں آمدنی پیدا کرے۔ پاکستان میں زیادہ تر قرض جاری اخراجات پورے کرنے، سبسڈیز، سرکاری خرچ اور وقتی بحران ٹالنے پر خرچ ہوتا رہا۔ یعنی قرض سے کوئی نئی دولت پیدا نہیں ہوتی، صرف قرض کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب پرانے قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لینے پڑتے ہیں۔ یہی وہ معاشی چکر ہے جس میں پاکستان مسلسل پھنسا ہوا ہے۔سچ یہ ہے کہ پاکستان کو اب وقتی ریلیف نہیں بلکہ سخت معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسی اصلاحات جو شاید ابتدا میں تکلیف دہ ہوں، مگر ملک کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنا سکیں۔ برآمدات بڑھانا ہوں گی، غیر ضروری درآمدات کم کرنا ہوں گی، صنعت اور زراعت کو جدید بنانا ہوگا، نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دینا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر حکومت کو فضول اخراجات کم کرنا ہوں گے۔دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اگر پاکستان نے اب بھی حقیقت کا سامنا نہ کیا تو قرض، مہنگائی، بے روزگاری اور ڈالر بحران آنے والی نسلوں کا مقدر بن جائیں گے۔



