ایک نہیں دو پاکستان !

اسلام آباد میں بری اِمام کا مزار ہے جسے شاہ و گدا متبرک اور مقدس سمجھتے ہیں اور وہاں سلام کرنے کیلئے حاضری دیتے ہیں!بری امام کے پہلو میں نور پور شاہاں کی بستی ہے جو اسلام آباد کی ایک ذیلی بستی شمار کی جاتی ہے اور اسی لئے وہاں کیپیٹل ڈولیپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا حکم نافذ ہوتا ہے۔ یہ ادارہ جو اسلام آباد کو آباد کرنے کے ساتھ ہی بنایا گیا تھا ترقیاتی کام تو برائے نام کرتا ہے لیکن پاکستانی ریاست کے بیشمار اداروں کی طرح کرپشن کا گڑھ ہے اور جواہلکار اس میں تعینات ہوتے ہیں انہیں سرکار اور خاص طور پہ ملک پہ قابض یزیدی جرنیلوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے!نور پور شاہاں میں زیادہ تر غریب غربا رہتے ہیں ، وہ جنہیں بری امام سے خصوصی عقیدت ہے۔ لیکن طاقت اور اقتدار کے نشہ سے مغلوب سی ڈی اے کے بدمست اہلکاروں کی نظر میں ان کا غریب ہونا ہی ناقابلِ معافی جرم ہے لہٰذا ان اہلکاروں کی نظر میں نہ ان کی کوئی عزت ہے نہ توقیر!سو گذشتہ ہفتہ چشمِ فلک نے دیکھا کہ سی ڈی اے کے بلڈوزر آئے اور غریبوں کے درجنوں کچے پکے مکانوں کو یہ کہہ کر ڈھا دیا کہ وہ غیر قانونی طور پہ بلا اجازت بنائے گئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ان مکانوں میں بسنے والوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ان اہلکاروں کی مٹھیاں گرم نہیں کی تھیں!غریب دہائی دیتے رہ گئے اپنے اُجڑتے گھروں کی لیکن جن اہلکاروں کی آنکھوں پر رشوت کی چربی چھائی ہوئی تھی انہوں نے کسی دہائی پر کان نہیں دھرا اور منٹوں میں ہنستے بستے گھروں کواینٹوں اور توٹی ہوئی ٹین کی چھتوں کے ملبہ کا ڈھیر بناکر وہاں سے اکڑتے ہوئے چلے گئے!رعونت کے اس بے حیا مظاہرے کے چند دن بعد ہی سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سب سے متمول علاقہ میں ایک اونچی اور کئی منزلہ عمارت کے اپارٹمنٹس میں آباد مکینوں کو بیدخل کرنے کیلئے اپنے اہلکاروں کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری بھی بھجوائی۔ یہ عمارت جو کونسٹیٹیوشن ایونیو یااسلام کی شاہراہِ دستور پر پاکستان کی پارلیمان کے قریب لگژری اپارٹمنٹس کی کثیر منزلہ عمارت ہے جو اپنے مؤقر پڑوس کی نسبت سے سی ون کہلاتی ہے اور اس میں بڑے لوگوں کے ٹھکانے ہیں، ان کے عشرت کدے ہیں!
بڑے لوگ تو بڑے ہی ہوتے ہیں اور پھر پاک سرزمین کے بڑے وہ تو دنیا بھر کے بڑوں سے بڑے ہیں۔ ان بڑے پاکستانی معزز شہریوں میں، سی ون کے مکینوں میں پارلیمان کے اراکین ہیں، جرنیل ہیں، نامی بیوروکریٹ ہیں اور نامی گرامی صنعتکار اور تاجر شامل ہیں۔ظاہر ہے کہ ان بڑے لوگوں کا پاکستان میں کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ سی ڈی اے کے مغرور اور متکبر اہلکار نور پور شاہاں کے گھر بلا کھٹکے اجاڑ سکتے تھے، اور اجاڑے، اسلئے کہ غریب کی پاکستان میں کوئی شنوائی نہیں ہے، اس کی فریاد پہ کان دھرنے والا کوئی نہیں ہے لیکن بڑے لوگوں کو کوئی پاکستان میں بیدخل کرسکے یہ ناممکن ہے! سو گھڑی کی چھوتھائی میں وزیر اعظم کے دفتر سے حکم آگیا کہ بیدخلی کے عمل کو روک دیا جائے اور پولیس اور سی ڈی اے کے اہلکار وہاں سےچلے جائیں۔لیکن اس مختصر عرصہ میں ہی اسلام آباد پولیس کے اہلکار چند بڑے گھروں میں نصف شب کو زبردستی گھس کے وہاں حسبِ معمول مکینوں کو دھونس اور دھمکیاں دے چکے تھے اور بقول پیپلز پارٹی کے ایک معروف رہنما، جن کا پہلا نام میرے ذہن سے نکل رہا ہے لیکن ان کا آخری نام چن ہے اور وہ چن صاحب کی عرفیت سے ہی جانے جاتے ہیں، کچھ اپارٹمنٹس میں حسبِ عادت پولیس کے بدمست اہلکار توڑ پھوڑ بھی کرچکے تھے۔اسلام آباد کی پولیس ہو یا پاکستان کے کسی بھی بڑے یا چھوٹے شہر کی پولیس اس کے اہلکار دراصل وردی پوش ٹھگ ہیں جن کا کام عوام کو ڈرانا دھمکانا ہے اور دھونس اور دھمکی سے ان سے رشوت وصول کرنی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کے تمام کرپٹ اداروں میں سب سے زیادہ کرپٹ پولیس ہے!یہ دو واقعات جو چند روز کے وقفہ سے پاکستان کے دارالحکومت میں ہوئے ہم جیسے لوگوں کو کیا، بیشمار پاکستانیوں کو، یہ سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں کہ ایک پاکستان ہے یا دو پاکستان؟ایک پاکستان نور پور شاہاں کے اور پاکستان کے 98 فیصد پاکستانیوں کا مسروقہ پاکستان ہے جہاں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور اسلئے نہیں ہیں کہ وہ غریب ہیں اور غریب کو پاکستان پر قابض دو فیصد ڈکیت اشرافیہ کی نظر میں جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے!یہ دو فیصد پاکستانی اشرافیہ دراصل جرنیلوں، ان کے منظورِ نظر سیاسی گماشتوں، چند انتہا کے کرپٹ بیوروکریٹ، صنعتکاروں اور بڑے تاجروں کی مافیا ہے جو ملک کے ہر شعبہء حیات پر قابض ہے اور اسے جونکوں کی طرح چوس رہی ہے اور قوم کے غریبوں کا آخری قطرہء خون بھی نچوڑ لینا چاہتی ہے!اصل چودھراہٹ اس مافیا میں ان یزیدی جرنیلوں کی ہے جو ستر برس سے زیادہ عرصہ سے پاکستان کو اپنی ملکیت اور میراث سمجھ کر اس پر قابض ہے۔ پاکستان بنانے والے قائد کو تو اللہ نے اس قاتل گروہ کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے ہی اٹھا لیا اور ان کی رحلت کے تین برس بعد ان کے جانشین قائدِ ملت لیاقت علی خان کو قتل کرنے کے بعد سے ہی یہ وردی پوش مافیا ملک کو اپنے طاغوتی شکنجہ میں کسے ہوئے ہے اور جان نہیں چھوڑ رہی!دنیا میں پاکستان کے طاغوتی فراعین جرنیلوں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ یہ نہ صرف ملک کے ہر شعبہ پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں بلکہ دھڑلے سے ملت فروشی بھی کر رہے ہیں!پاکستان کا کونسا شعبہ ہے جس پر کوئی حاضر سروس جرنیل یا ریٹائرڈ جرنیل قابض نہیں ہے۔ بساطِ ریاست کے ہر خانے پر کوئی نہ کوئی جرنیل بیٹھا ہوا ہے۔ یعنی
؎ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجامِ گلستاں کیا ہوگا!
تو گلستاں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ استعماری اور سامراجی مفادات کا غلام بنا ہوا ہے۔یزیدِ وقت، خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نوٹنکی صدر ٹرمپ کا بے دام غلام ہے اور اپنے آقا کا حکم بجالانا اس کا ایمان اور دھرم ہے۔ اس کا قبلہ واشنگٹن ہے اور اس کا زعم یہ ہے کہ جب تک اس کے قبلہ کا سایہ اس کے سر پر ہے اس کا دنیا میںکوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا!اِسی زعم میں وہ پاکستان کے مقبولِ عوامی لیڈر اور رہنما عمران خان کو زندان میں قیدِ تنہائی کی صعوبتوں سے گذار رہا ہے اور فرعونی تکبر سے یہ کہتا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہے عمران جیل کی سلاخوں سے باہر نہیں نکل سکے گا!یہ یزید نہ صرف نوٹنکی ٹرمپ کا غلام ہے بلکہ ٹرمپ کے خلیجی حکمرانوں کا بھی غلام ہے اور اس کی غلامی سے خلیج کے فراعین بھرپور فائدہ اٹھا کر پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کر رہے ہیں جو وہ غلاموں کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں۔متحدہ عرب امارات ایک تنکے برابر ملک ہے جس کے حکمراں پاکستان کو اس کی ایران دوستی کی سزا دینے میں انسانیت کے ہر معیار سے گر چکے ہیں!پہلے تو امارات نے پاکستان کو جو ساڑھے تین ارب ڈالر ادھار دئیے ہوئے تھے ان کی واپسی کا مطالبہ کردیا یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کا مقروض خزانہ اس کا بار نہیں اٹھا سکے گا۔وہ تو خدا بھلا کرے سعودی عرب کا کہ اس نے پاکستان کے خزانے میں پانچ ارب ڈالر جمع کرواکے پاکستان کو رسوائی سے بچا لیا لیکن امارات کے چھٹ بھئیے حکمرانوں کی پاکستان دشمنی نے اس کے بعد ایک اور وار کیا اور ہزاروں پاکستانیوں کو شیعہ ہونے کے الزام میں راتوں رات اپنے ملک سے نکال دیا۔ جس نام پر بھی یہ شبہ ہوا کہ یہ شیعہ نام ہے اس کے حامل پاکستانی کو بیدخل کردیا اور نہ صرف راتوں رات بیدخل کیا بلکہ ان کے بنک اکاؤنٹس بھی منجمد کردئیے اور غریب خالی ہاتھ وطن لوٹنے پہ مجبور ہوئے!یہ ہے ان کا کردار جواپنے آپ کو بڑے زعم سے مسلمان کہتے ہیں اور اپنے سامنے کسی اور مسلمان کو گرداننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ ایران سے دشمنی کی ایک بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ اس کے باسی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ایران کی دشمنی میں اور سامراج کی غلامی میں پاکستانیوں کو شیعہ ہونے کی سزا بھی مل رہی ہے!لیکن پاکستانی اشرافیہ کی بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ امارات کی اس فرعونی حرکت پر احتجاج کا ایک حرف زبان پر نہیں لائی۔ تحریری یا تقریری احتجاج تو رہا کجا!احتجاج کی ضرورت اسلئے نہیں محسوس ہوئی کہ امارات سے نکالے جانے والے پاکستانی غریب ہیں اور غریبوں کی اس بے ضمیر اور بے غیرت اشرافیہ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔ کیڑے مکوڑوں کی کیا اوقات۔ انہیں اپنے مسلیں یا غیر کیا فرق پڑتا ہے!اشرافیہ کے زعماء کو ان جائیدادوں کی فکر ہے جو پاکستان کو لوٹ کر دبئی میں بنائی گئی ہیں۔شاید ہی کوئی جرنیل یا رذیلیہ سیاستدانوں میں کوئی ایسا ہو جس کا محل دبئی میں نہیں ہے۔ ڈکیت زرداری اور نام کے شریفوں کی تو ان گنت جائیدادیں ہیں۔ سو انہیں غریب پاکستانیوں کی فکر نہیں بلکہ اِنھیں اپنے اُن محلات کی فکر ہے جو دبئی میں ان کے عشرت کدے ہیں۔ ڈرتے ہیں کہ امارات کے فراعین حکمراں اگر ناراض ہوگئے تو محل ان کے ہاتھ سے چلے جائینگے!
کہنا پڑتا ہے کہ
قومے فروختن وہ چہ ارزاں فروختن!



