پاکستان میں آزادیٔ تحریر و تقریر پر عائد پابندیوں کی تازہ مثال۔ شیما کرمانی!

اس ہفتے کراچی میں کراچی پریس کلب کے باہر جنرل عاصم منیر نے ایک مرتبہ پھر اپنی ڈکٹیٹر شپ اور رعونیت کا مظاہرہ دنیا کے سامنے کیا۔ پاکستان کی معروف رقاصہ اور کتھک ڈانسر شیما کرمانی جب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کیلئے کراچی پریس کلب پہنچیں تو پولیس نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور باہر آنے کو کہا۔ جب شیما کرمانی نے باہر نکلنے سے انکار کیا تو پھر لیڈی پولیس کو بلا لیا گیا اور پھر حجاب پوش پولیس والیوں نے اپنی ہی صف کی ایک خاتون کو ساڑھی اور سفید بالوں سے پکڑ کر گاڑی سے گھسیٹنا شروع کر دیا۔ ان کی مدد کو آنے والے مردوں نے لیڈی پولیس کو مشورہ دیا کہ اس کی ٹانگیں اٹھا کر گاڑی میں ڈالو۔ مزاحمت کرتی سفید بالوں والی شیما کرمانی چیخ چیخ کر میڈیا کو بتارہی تھیں کہ دنیا دیکھ لے کے ایک پچھتر سالہ عورت کیساتھ پیپلز پارٹی کیا سلوک کررہی ہے لیکن شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ سندھ پولیس یا پیپلز پارٹی والوں کا نہیں بلکہ ایک ذہنی طور پر معذور فوجی جنرل عاصم منیر کے احکامات پر عملدرآمد ہورہا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ دیگر خواتین کیساتھ ملک بھر میں کیا جارہا ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض سے بچ جانے والی 75سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو قید کیا ہوا ہے۔ جیسے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں سالوں سے رکھا ہوا ہے اور اب جنرل کی مرضی سے عمران خان کی طرح بشریٰ بی بی کی آنکھ کی بینائی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس طرح سے صنم جاوید کو اغواء کر کے رکھا ہوا ہے۔ جس طرح سے امریکن شہری خدیجہ شاہ کو بغیر کسی چارجز کے مہینوں تک جیل میں بند کئے رکھا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جی ایچ کیو کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہونے والی شیما کرمانی کے والد پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھے اور ریٹائر ہونے کے بعد کراچی الیکٹرک کارپوریشن کے چیئرمین بھی رہے۔ شیما کرمانی نے اپنے فن کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا جس کے اعتراف کے طور پر شیما کرمانی کو حکومت نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔شیما کرمانی کا نام اپنے فن کے علاوہ ان کی پاکستان کی خواتین کیلئے نا انصافیوں کے خلاف آوازاٹھانے والوں میں بھی بہت نمایاں ہے۔ وہ اس وقت بھی ایک بہت محترک سوشل ایکٹوسٹ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ گرفتاری کے دوران بھی ان سے سوال و جواب کیے جارہے تھے۔ کسی نے پوچھا آپ کراچی پریس کلب کس سلسلے میں پریس کانفرنس کرنے جارہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ مدرز ڈے کے حوالے سے میں پریس کانفرنس کرنے جارہی تھی۔ جس بے ہودہ، بہیمانہ اور بے عزتی کے طریقے سے انہیں اپنی ڈرائیونگ سیٹ سی گھسیٹ کر نکالا جارہا تھا تو شیما کرمانی نے شہلا رضا کو بھی للکارا اور بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کا بھی ذکر کیا کہ اس حکومت میں ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے۔ یعنی اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ایک آرمی کا فیلڈ مارشل ایک عورت کے بولنے سے بھی اسقدر خوفزدہ ہے کہ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ہی اس کی زبان بند کر دینا چاہتا ہے۔ ہم نے تو سنا تھا کہ ایک آرمی کا فیلڈ مارشل یا جنرل تو غیر معمونی طور پر جری اور بہادر ہوتا ہے مگر اس ہفتے دیکھ لیا کہ جنرل صاحب تو ایک 75سالہ عمر کی خاتون کے منہ کھولنے پر بھی خوفزدہ ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے سے اسقدر خائف ہیں کہ اس خاتون کے سفید بالوں کابھی خیال نہ کیا، کچھ بھی ہو صرف اس ایک بزدل اور ڈرپوک جنرل کی وجہ سے ہماری ساری فوج بدنام ہورہی ہے۔ ایک خبر یاد آرہی ہے کہ جب فیض حمید کی بیوی نے بے وفائی کرنے پر کولہے میں گولی داغ دی تھی جنرل صاحب کئی مہینوں تک جی ایچ کیو ملٹری ہاسپٹل میں زیر علاج رہے تھے لعنت ہے ایسے جنرلوں پر جنہوں نے اپنی پشت اور ٹش پر گولیاں کھا کر ہماری فوج کے سجیلے جوانوں کو شرمسار کر دیا۔



