Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

طبی اداروں کو تعلیم کے ساتھ تحقیق و جدت کے مراکز بنانا ہوگا: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان

لاہور ( آصف اقبال ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ صحت کا شعبہ حکومتوں کے لیے ایک اہم اور پیچیدہ چیلنج ہے، جس سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مضبوط اور مربوط صحت نظام کے ساتھ تحقیق، پیشہ ورانہ مہارت اور طبی ماہرین کی رائے کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک مقامی میڈیکل کالج میں منعقدہ طبی طلبہ کے اجتماع کلینکس26سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد عامر خان، پروفیسر ڈاکٹر فرید ظفر، ڈاکٹر رشید بھٹی، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت، ڈاکٹر عاطف کاظمی، فیکلٹی ممبران اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ طبی تعلیم کو محض نصابی علم اور ڈگری کے حصول تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ طلبہ میں تحقیق، تنقیدی سوچ، مسائل کے حل کی صلاحیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجز اور جامعات صحت کے شعبے میں تحقیق کے اہم مراکز بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو طبی علم کا صرف صارف بننے کے بجائے اپنے مقامی صحت کے مسائل کے حل کے لیے تحقیق اور جدت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ مقامی ضروریات کے مطابق طبی تحقیق کو فروغ دے کر نہ صرف صحت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان عالمی سطح پر طبی تحقیق میں بھی نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔ملک محمد احمد خان نے زور دیا کہ طبی فیصلوں میں ڈاکٹرز اور متعلقہ ماہرین کی پیشہ ورانہ رائے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ انتظامی نظام کا کردار طبی ماہرین کو سہولت اور معاونت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے حکومت، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے نوجوان طبی طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے صحت کے نظام کا مطالعہ کریں، وہاں ہونے والی اصلاحات اور کامیاب تجربات کو سمجھیں اور تحقیق کے ذریعے پاکستان میں ایک بہتر، مؤثر اور عوام دوست صحت نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ معیاری نجی تعلیمی ادارے اور مراکزِ امتیاز طبی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں معیاری طبی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی قومی ترجیح بنانا ہوگا تاکہ صحت کی سہولیات تک رسائی میں موجود فرق کم کیا جاسکے۔ملک محمد احمد خان نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی میں بڑے مقاصد مقرر کریں اور محنت، عزم اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے انہیں حاصل کریں۔ نوجوان ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں ملک و قوم اور پوری انسانیت کی خدمت کے لیے بھی بروئے کار لائیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی نےکلینکس 26 کے کامیاب انعقاد پر کالج انتظامیہ، فیکلٹی اور طلبہ کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button