
امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور جاری کشیدگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ بیان امریکی سینیٹر کوری بوکر کی جانب سے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر چکا ہے۔پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں سے سفارتی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔رواں سال پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے علاقائی سطح پر مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھی ہے، خصوصاً سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ نئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں۔حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں بعض حلقے پاکستان کو صرف ایک سکیورٹی پارٹنر نہیں بلکہ علاقائی ثالث اور امن کے لیے ممکنہ سفارتی پل کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔



