
ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان، ایران اور دیگر ممالک سے تقریباً 20 تارکین وطن جن میں دو ایرانی خواتین بھی شامل ہیں، کے ایک گروپ کو وسطی افریقی جمہوریہ ملک بدر کر دیا ہے جو کہ جنگ زدہ خطہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ درجہ 4 پر جنگ زدہ قرار دیا گیا ہے جہاں تشدد اور بدامنی کی وجہ سے امریکی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’کسی بھی وجہ سے‘ اس ملک کا دورہ نہ کریں۔امریکی امیگریشن وکیل کے مطابق، جلاوطن ہونے والوں میں ایک ایرانی جمہوریت نواز کارکن بھی شامل ہے جو امریکا فرار ہو گیا تھا اور اسے امریکی امیگریشن عدالت سے قانونی تحفظ حاصل تھا۔دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک وسطی افریقی جمہوریہ کئی دہائیوں سے مسلح تنازعات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ یہ ملک امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے لیول 4 کی سفری ایڈوائزری میں شامل ہے۔محکمہ خارجہ نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ کسی بھی وجہ سے وسطی افریقی جمہوریہ کا سفر نہ کریں۔ امریکی شہریوں کو بدامنی، جرائم، اغوا، صحت، دہشت گردی اور دیگر خطرات کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔امریکی اہلکار، جس نے ملک بدری کے بارے میں بات کرنے کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آرمینیا اور عراق کے تارکین وطن بھی وسطی افریقی جمہوریہ بھیجے جانے والوں میں شامل تھے۔



