وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین،سی پیک فیز ٹو سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

لاہور(آصف اقبال) وزیراعظم پاکستان نے چین کے شہر ہانگژو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری مسٹر وانگ ہاؤ سے ملاقات کی، جس میں پاک-چین تعلقات، سی پیک فیز ٹو اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مسٹر وانگ ہاؤ نے وزیراعظم کا ژجیانگ صوبے میں خیر مقدم کیا، جبکہ وزیراعظم نے ژجیانگ کی شاندار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور جدید معاشی ماڈل کو سراہتے ہوئے صدر شی جن پنگ کی دور اندیش قیادت کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے وژن “صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کو پائیدار ترقی کی بہترین مثال قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ژجیانگ صوبے کی ترقی اس امر کا ثبوت ہے کہ ماحولیات کے تحفظ، سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی معاشی نمو کو بیک وقت کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعت کاری اور ہنرمندی کے شعبوں میں تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر تعاون پاک-چین تعلقات کا اہم ستون ہے، جو صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے سی پیک فیز ٹو کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ملاقات کے دوران دو اہم تعاوناتی دستاویزات پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ پہلی مفاہمتی یادداشت ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان “سسٹر-پروونس” تعلقات کے قیام سے متعلق تھی، جس کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔وزیراعظم نے ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے درمیان چین-پاکستان مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے قیام کی دستاویز پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ یہ مرکز تعلیمی تعاون، عملی تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک ترقی، عوامی فلاح اور عملی تعاون کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔



