ضمانت

پرانے زمانے لد گئے،پرانے زمانے اچھے بھی تھے،تکلفات نہ تھے سادگی تھی،بھول پن تھا ،لوگ ایک دوسرے کے کام آجاتے تھے،جب ایک دوسرے کے کام آتے تھے تو ایک دوسرے کو پہنچانتے بھی تھے،جانتے بھی تھے،جب ہم ایک دوسرے کے کام آتے ہیں تو انسانیت پنپتی ہے،جب جاننے پہچانے لگتے ہیں تو اعتبار بڑھتا ہے،لین دین سے آدمی پہچانا جاتا ہے،آدمی لین دین کا کھرا ہوتو عزت بھی بڑھتی ہے،وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے،اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو،اسی لئے آپس کے بہت سے جھگڑے اور تنازعات محلے کے بڑے بوڑھے بیٹھتے اور سلجھا دیتے ،اور لوگ ان کے فیصلوں کو مان بھی لیتے تھے ،یہ طریقہ گاؤں دیہاتوں میں بھی رائج تھا۔پنچائیت کا نظام تھا گاؤں کے معتبر لوگ پنچائیت میں بیٹھتے ،گاؤں کے لوگوں کے سامنے دونوں فریق اپنی اپنی بات رکھتے کبھی کبھار گواہی بھی دی جاتی، پنچ سر پنچ کے مشورے سے معاملات سلجھا دیتے اور ان کے فیصلے مان لئے جاتےمغلوں کے دور میں بھی پنچائیتیں اپنا کام کرتی رہیں ،کوئی ملک گیر عدالتی نظام تو تھا نہیں،وہ جہاں تک عدلِ جہانگیری کی بات ہے ایسے قصے کتابوں میں اچھے لگتے ہیں،انگریز آئے تو ایک عدالتی نظام بھی لاگو ہو گیا،شہروں میں معاملات عدالتوں میں لائے جانے لگے،وکیلوں کا نیا پیشہ متعارف ہوا،انگریزوں کے عدالتی نظام سے لوگ مطمئن تھے،انصاف مل جاتا تھا،دیہاتوں میں پنچائیتیں کام کرتی رہیں مگر زمینداری نظام میں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ گاؤں کے معاملات میں زمیندار کا عمل دخل نہ ہو،کہیں بات زمیندار کے ظلم پر آ جاتی تو پنچ ہوں یا سر پنچ سب ہی زمیندار کے حمائیتی،غریب کے ساتھ انصاف نہ ہوتا،جب یہی معاملات کہیں انگریز کی عدالت میں آتے تو پنچائیت کے فیصلے الٹ جاتے،مگر انگریز نے زمینداری نظام کو ٹوٹنے نہیں دیا،اس نظام کی حفاظت بھی کی زمیندار انگریز کی حمائیت پر کمر بستہ ہواتو انگریز نے بھی ایک آنکھ بند کر لی،مگر دوسری آنکھ سے دیکھتا بھی رہا،تقسیم کے بعد پاکستان میں زمیندار کو کھلی چھوٹ ملی ،اور عدالتی نظام درہم برہم ہو گیا،عدالتی نظام میں سیاست نے ٹانگ اڑا دی،دوسری جنگ عظیم کےموقع پر کسی نامہ نگار نے چرچل سے پوچھا تھا کی ہم جنگ ہار رہے ہیں تو چرچل نے بھی سوال داغ دیا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں نامہ نگار نے کہا کہ ہاں برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو چرچل نے کہا پھر ہم جنگ ہار نہیں سکتے،،جنگ میں ہار جیت کا تعلق انصاف سے جوڑ کر چرچل نے ایک کلیہ بیان کر دیا،اس کلیہ نے یہ بات واضح کر دی کہ اگر ملک میں انصاف کا بول بالا ہو تو عوام اپنے ملک کے لئے کھڑے ہوتے ہیں،پھر ملک کا دفاع عوام کی ذمہ داری بن جاتا ہے،Anglo-Saxon Lawمیں بھی plea bargain کی گنجائیش تھی اور جدید قانون میں یہ بھی کسی فریق کا حق ہے،ملکوں کے درمیان معاہدے اور مذاکرات بالواسطہ طورپر اسی قانون کے تحت ہوتے ہیں اور عالمی قانون اس کی صراحت کرتا ہے،ایک زمانہ تھا کہ کسی ملک کے سفیر کی بات اس ملک کی کمٹ منٹ سمجھی جاتی تھی،عراق کویت جنگ میں امریکی سفیر کے ایک بیان کو عراق نے امریکہ کی کمٹ منٹ سمجھا اور اسی تاثر میں کویت میں فوجیں اتار دیں،جس سفیر نے وہ کمٹ منٹ دی تھی وہ کبھی منظرِ عام پر نہیں آئیں اور بعد میں عراق کو اس جنگ کا بھگتان بھگتنا پڑا،پھر یہ روش بن گئی،بات کرنا اور مکر جانا،کسی بھی ملک پر جھوٹے الزام لگانااور اس پر چڑھائی کر دینا،عراق کے ساتھ بھی یہی ہواپانامہ کا بھی یہی قضیہ ہے ،اور حالیہ دنوں میں ہم نے وینزویلا میں بھی یہی دیکھا،پھر دنیا حیران ہو گئی کہ صدر ٹرمپ نے اوبامہ دور میں ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ منسوخ کر دیا،اور اصرار کیا کہ نیا معاہدہ کیا جائے اور نئے معاہدے پر مجبور کرنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دو بار فوج کشی کی اومان میں مذاکرات ہوئے دستخط ہونے ہی والے تھے کہ امریکہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا اور جنگ شروع کر دی،پھر اسلام آباد میں بیس گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے اور جے ڈی وینس بلا جواز مذاکرات چھوڑ کر امریکہ واپس چلے گئے اب امریکہ یہ اصرار کر رہا ہے کہ معاہدہ اس کی شرائط پر کیا جائے اورایران ناقابلِ یقین حد تک منطقی انداز میں اپنی شرائط پر اصرار کر رہا ہے ۔ایران کے سائنس دانوں اور Military Strategists کی ذہانت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ انہوں نے جنگ کی تعریف ہی بدل دی،فرسودہ اور روائیتی جنگ کو ترک کیا اور جدید جنگ کو روشناس کرا دیا ،میزائیل اور ڈرونز نے ہوائی جہازوں کی Dog Fight کو تبدیل کر دیا،امریکہ کے بحری بیڑے جو طاقت کی علامت تھے وہ جنگ میں کام نہ آسکے ابراہام لنکن اور جیرالڈ فورڈ کو پیچھے جانا پڑا،سنا ہے کہ ان پر ایرانی میزائیل لگے ہیں اور ان کی مرمت ہو رہی ہے سینٹا گارسیا تک میزائیل داغ کر ایران نے نئی حدود طے کردیں،اب یہ بحری بیڑے دور سے میزائیل داغ سکتے ہیں قریب نہیں آسکتے،قریب آئے تو وہ ایرانی میزائیلوں کی زد میں ہونگے،سو یہ بھرم بھی ٹوٹا، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بے تحاشا بمباری کی مگر وہ ایران نہ تو مزاحمت توڑ سکے نہ ہی اس کا عزم توڑ سکے،آپریشن فریڈم کا اعلان ہوا مگر وہ سعودیہ کے اس حکم کے بعد غیر موثر ہو گیا کہ امریکی جہاز سعودی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکتے،ہر چند کہ امریکہ ناکہ بندی جاری ہے اور اس کا ایران کو نقصان بھی ہو رہا ہے مگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتے، اب ایران یہ بات بھی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے گا اور نہ ہی یہ شرط ماننے کے تیار ہے کہ یورینیم کی افزودگی بیس سال کے لئے روک دے گا،اب بات یہاں پر اٹکی ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا ہوگااور وہ گزرگاہ کا ٹول بھی لے گا،چونکہ یہ ایک مصروف گزرگاہ ہے اور اس کا کوئی بدل بھی نہیں تو اس کو استعمال کرنے والے ایران کو ٹول دینے پر آمادہ ہو جائیں گے،یہ صورتِ حال بہت واضح ہے ایک اور بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے عالمی جرائد نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ امریکہ،روس اور چین کے بعد چوتھی سپر پاور ایران ہے ،امریکی اور مغربی میڈیا یہ بات کہہ رہا ہے مگر اس کے پیچھے چھپے عزائم کا تا حال پتہ نہیں،اسی میڈیا نے حماس کو بھی بہت بڑی طاقت بنا کر دنیا کو اس کی دہشت سے ڈرایا تھا،اب یہی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ ایران دنیا کی چوتھی سپر پاور ہے ایران کی معاشی ابتری کے تناظر میں یہ ایسا قرینِ قیاس بھی نہیں،مگر اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ایران نے اپنی بارگینگ پاور کا لوہا منوایا ہے اور بار بار امریکی Negociatorsکو اپنے جال میں پھنسا لیا ہے،اور اب تک امریکہ کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہو سکا، یہاں تک پہنچنے میں جہاں ایران کی کامیاب Negociationsکا دخل ہے وہاں ٹرمپ کی ناتجربہ کاری کا بھی دخل ہے ،اس میں سیاسی بلوغت نظر ہی نہیں آتی،اور غور کیا جائے تو اس کچی سیاست کا آغاز بش اول کے دور سے ہو گیا تھا،کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بش اول کے زمانے سے ہی امریکہ Deep Stateکے زیر اثر چلا گیا اور مبینہ طور پر سارے فیصلے جنرلز اور military contractors کر نے لگے،اگر اس بات پر یقین کر لیا جائے تو یہ قرین عقل نہیں ہوگا،کیونکہ بہر حال امریکہ میں کانگریس بھی ہے سینیٹ بھی ہے اور یہ اپنا کام بھی کر رہی ہیں ایسا نہیں ہوگا کہ ان اداروں نے آنکھیں بند کر لی ہونگی اور ایسا بھی نہیں کہ ری پبلیکن پارٹی کو آنے والے سالوں میں ہونے والے نقصان کا اندازہ نہیں ہوگا،امریکہ ایران مذاکرات Holdپر ہیں ایران اپنے چودہ نکات پر اصرار کر رہا ہے اور ٹرمپ ایران کے جواب کو بہتDisappointingاور احمقانہ کہہ رہے ہیں ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے ٹرمپ یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس وقت نہیں،اور ہر گزرنے والا لمحہ امریکہ کے لئے مہنگا ہوتا جا رہا ہے، عالمی دباؤ بڑھتا جارہا ہے ٹرمپ چین پہنچ گئے ہیں وزارت خارجہ کے کچھ افسران نے ہوائی مستقر پر ان کا استقبال کیا ،چین تائیوان کا مسئلہ بھی اٹھائے گا جو ٹرمپ کے لئے خاصا تکلیف دہ ہوگا ٹرمپ کے ارد گرد اسرائیل کے طرفدار تو موجود ہیں امریکہ کے طرفدار نظر نہیں آتے، یا کم نظر آتے ہیں نظر آتے ہیں تو متحرک نہیں،اس دورے میں چین کی پوزیشن مستحکم اور امریکہ کی پوزیشن کمزور ہے،آبنائے ہرمز پر بھی یقیناً بات ہوگی،امریکہ نے ہر طریقہ سے چین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہےکوشش کی گئی کہ چین کی ترسیل نہ ہونے پائے اس پس منظر میں چین چاہے گا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہی رہے،یہ حمائیت تو ایران کو مل سکتی ہے مگر ایران امریکہ مستقل جنگ بندی،دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت،اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی سیاسی صورت حال اور ایران کے کردار کی ضمانتیں کون دے گا، کیا امریکہ مشرق وسطی آسانی سے چھوڑ دے گا،اپنے مفادات سے دست بردار ہو جائیگاان سوالوں کے جواب ابھی آنے باقی ہیں ۔شائد اگلی دو دہائیاں ان سوالات کے جوابات دے سکیں،اس کے باوجود مشرق وسطی کا منظر نامہ بدل چکا ہے اور اس میں ایران کا نیا کردار لکھا جا چکا ۔



