Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پاکستان کے سارے ٹی وی چینلز، پنک ہو گئے!

پاکستان کی تاریخ میں آخری خبریں آنے تک دو خواتین کو پنکی کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ایک بے نظیر بھٹو جن کا گھریلو نام پنکی تھا اور دوسری عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جن کی عرفیت بھی پنکی کے نام سے ماضی میں مشہور رہی۔ اس ہفتے پاکستان کے تمام پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل ٹی وی چینلز اچانک پنک ہو گئے اور ہر ٹی وی نیوز پر نیوز کاسٹر اور تجزیاتی پروگرام میں اینکرز پنکی پنکی کا ورد کرنے لگے۔ اچانک سے اے آر وائی سے لیکر جیو نیوز تک پنکی کی کہانیوں، وارداتوں اور ویڈیوز سے بھر گئے۔ پنکی کی گرفتاری بھی دکھائی جاتی رہی، پنکی کی کورٹ میں آنے کی چال ڈھال بھی دکھائی جاتی رہی اور پنکی کی آڈیو بھی لیک کر دی گئی۔ آئی ایس پی آر اور تمام فوجی نشریاتی اداروں کی طرف سے تمام میڈیا کو ہدایات جاری کر دی گئیں یا بالفاظ دیگر بادشاہ سلامت کا فرمان جاری کر دیا گیا کہ جسقدر زیادہ پنکی کے ایشو کوٹی وی پر اٹھایا جا سکے تو اٹھائو۔ ہم نے جب اچانک پنکی پنکی کا ورد دیکھا اور سنا تو فوراً ہی سمجھ گئے کہ یہ تازہ ترین واردات بادشاہ سلامت حافظ سید عاصم منیر شاہ خود ساختہ فیلڈ مارشل کی طرف سے ہی ڈالی گئی ہے جس کی بعدازاں تصدیق بھی ہو گئی۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کئی مرتبہ عرض کر چکے ہیں اپنے قارئین اور سامعین کو حافظ کی ڈکٹیٹر شپ میں اس وقت کوئی درخت کا پتہ نہیں گر سکتا اس کی مرضی کے خلاف اور آسمان پر اس کی مرضی کے بغیر کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ پاکستان میں اس وقت خبر یا اسٹوری تو بہت دور کی بات ہے ٹی وی پر چلنے والے ٹکرز بھی وہاں موجود بریگیڈیئروں اور جونیئر جنرلوں کی اجازت کے بغیر نہیں چل سکتے چہ جائیکہ پنکی کی ایک دم سے اتنی کوریج شروع ہو جائے۔ اب آپ کو بتا ہی دئیے دیتے ہیں کہ پنکی کا اصل نام انمول ہے اور یہ عورت ایک عرصے سے ڈرگ کوئین کے نام سے منشیات کے حلقوں میں جانی جاتی ہے۔ خاتون کو کوکین کو پروسیس کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور پنکی پولیس، رینجرز اور فوج کے تعاون کیساتھ یہ کام کئی سالوں سے کررہی ہے اور اس کا تعلق کسی حدتک آصف زرداری سے بھی بتایا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو کچھ عرصہ قبل آصف علی زرداری کی ایک رکھیل ایان علی کو بھی اس طرح سے بڑے ڈرامائی انداز میں باہر لایا گیا تھا۔ جب جب فوجی جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کا دھیان مہنگائی سے ہٹایا جائے یا عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے ہیجان سے ہٹایا جائے یا ایک نئی آئینی ترمیم کے ذریعے حافظ جی کو اپنے اختیارات بڑھانے کے ایشو سے ہٹایا جائے تو وہ اس طرح کاایک نیا پینڈورابکس کھول دیتے ہیں۔ پنکی کی جو ریکارڈنگ میڈیا میں سنائی جارہی ہے وہ ایک پولیس افسر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ کر لو جو بھی کرنا ہے تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے پولیس اور رینجرز اونچے حلقوں تک رسائی حاصل ہے جنہوں نے اسے اب تک سنبھالے رکھا تھا اور وہ اونچا حلقہ فوج کے سوا کون ہو سکتا ہے۔ آئی ایس آئی، اسرائیل کے موساد، شاہ کے زمانے کی ایرانی ایجنسی ساوک اور انڈین ایجنسی را کی طرح سے پاکستانیوں کے دن رات میں اس طرح سرایت کر چکی ہے کہ اب بھائی بھائی پر شبہ کرتا ہے کہ کہیں وہ آئی ایس آئی کا مخبر تو نہیں ہے۔ ایسے میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پنکی کے سالوں سے جاری پھلتے پھولتے کاروبار کا آئی ایس آئی کو علم نہ ہو۔ ہم نے تو یہاں تک سن رکھا ہے کہ آئی ایس آئی یہاں تک بتا سکتی ہے کہ فلاں فلاں شخص نے کس رنگ کا انڈرویئر پہن رکھا ہے اور انمول عرف پنکی جو کراچی سے لیکر لاہور تک، اسکولوں سے لیکر یونیورسٹیز تک اور ینگ لڑکوں سے لیکر ٹین ایج لڑکیوں تک سب کو منشیات، کوکین اور آئس جیسے نشے فراہم کرتی رہی ہے سالوں سے اور آئی ایس آئی لاعلم ہو۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ فوجی جرنیلوں آئی ایس آئی ،آئی ایس پی آر، آئی بی اور ایم آئی والوں نے سارے پاکستانیوں کو بےوقوف سمجھ رکھا ہے کہ جو وہ کہہ دیں گے ، جو وہ دکھادیں گے، سارے پاکستانی اس پر من و عن یقین کر لیں گے۔ اور تو کچھ نہیں مگر ہمیں پنکی کی گھر سے گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار یاد آگئیں جن کے گھر کا درازہ توڑ کر ٹھڈے مار کر خاتون کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر پولیس نے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی پولیس کی طرح گرفتار کیا تھا، پنکی کے کیس میں پولیس والے پنکی کے گھر بڑےآرام کیساتھ گئے، درازے کی بیل بجائی، خاتون پولیس افسر کو آگے کیا۔ درازہ کھلا پنکی نے انہیں ویلکم کہا، اندر آئے اور پھر انہیں اپنے حصار میںساتھ لگائے بغیر پولیس وین میں بٹھا کر لے گئے۔ سب کچھ پاکستانی ٹی وی چینلز نے دکھایا۔ نہ پنکی کے گریبان میں ہاتھ ڈالا، نہ کوئی دوپٹہ کھینچا گیا، دوپٹہ تو کیا کھینچتے وہ پہنے ہوئے ہی نہیں تھی۔
دوسری ویڈیو دیکھ کر ہمیں شیما کرمانی یاد آگئیں۔ ٹی وی پر مسلسل یہ دکھایا جاتا رہا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کو پولیس والوں نے کس طرح سے عدالت میں پیش کیا، پنکی ایک بڑے بدمعاشیانہ طریقے سے دھوپ کا چشمہ لگائے کچہری میں خرام خرام معطر معطر تشریف لارہی ہیں۔ پنکی کے ساتھ تین چار لیڈی پولیس والیاں ہیں جو چار فٹ ہٹ کر پیچھے پیچھے چل رہی ہیں پھر ایک پولیس کانسٹیبل دو فٹ کے فاصلے سے ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہے کہ میڈم اس طرف وہ پنکی وہاں مڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب ملک کی مایہ ناز فنکارہ اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ، سوشل ایکٹیوسٹ اورر سوسائٹی میں عزت اور مرتبے کی حامل پچھتر سالہ شیماکرمانی کو ان کی گاڑی اسٹرینگ ویل سے گھسیٹ کر ،دھکے دے کر پولیس وین میں بٹھایا گیا تو ساری دنیا میں اس پر تھو تھو کی گئی۔ پاکستان میں دو طرح کا انصاف ہوتا ہے ایک ایلیٹ کلاس کیلئے، چاہے وہ مقدمے میں نامزد ملزمہ ہی کیوں نہ ہو اور ایک عام سے آدمی یا عورت کیلئے جو شیما کرمانی کی طرح سے قوم کا اثاثہ ہو۔ اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کا نام تحریک انصاف کیوں رکھا تھا۔ اب آپ کو پتہ چل گیا ہو گا کہ عمران خان نے دو پاکستان کے بجائے ایک پاکستان کا نعرہ کیوں بلند کیا تھا اور لوگ کیوں اس کے ساتھ ہیں۔ فوج میں بھی عوام میں سے ہوتے ہیں اور وہاں بھی لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button