مغالطہ!

بھارت کا ایک سوامی ہے بہت وجیہہ،خوبصورت اُردو بولتا ہے خوبصورت ہندی اور سنسکرت،لگتا ہے کہ وہ صاحبِ مطالعہ ہے غالب کی تشریح بھی کرتا ہے، کہیں غلط کہیں درست، اقبال کی بات بھی کرتا ہے کہیں صحیح کہیں غلط،غالب اور اقبال پر اس کی بہت سی ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں،لہجہ اس کا بہت نستعلیق، شین قاف درست، کچھ علمی محاکموں میں بھی شریک ہوتا ہے،اور اس کو بہت پزیرائی ملتی ہے، وہی سوامیوں والی دھج، لمبے بال اور بڑی بڑی دو چادریں،بھارت کا اردو داں طبقہ اس پر صدقے وارے ،اس لئے کہ وہ دہلوی لہجے میں تقریر کر سکتا ہے،پچھلے دنوں سوامی کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اگر محمد ﷺہندوستان پدھارتے تو سارا ہندوستان مسلمان ہو جاتا اس کا خیال ہے کہ مذہب کردار سے پھیلتا ہے،مذہب کا پر چارک اگر صاحبِ کردار ہے تو وہ لوگوں کی توجہ کھینچ لیتاہے اور لوگ اس کی باتیں سنتے ہیں وہ کہتا ہے کہ جتنے صوفی ہندوستان آئے انہوں نے امن کی بات کی اور ظلم کی چکی میں پستے ہوئے لوگ ان کی جانب متوجہ ہو گئے ،مگر مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی اور ان میں سے ایک بھی سچا مسلمان نہ تھا اکبر مینا بازار میں لڑکیاں تلاش کرتا تھا،بابر بھی عورتوں کا رسیا، جہانگیر چرس اور عورت کا دلدادہ،شاہجہاں نے حرم آباد کر رکھے تھے،خلیجی مرد پرست،وغیرہ وغیرہ،سوامی کا تاریخی مطالعہ اخباری ہی سہی مگر اس میں بہت سی صداقتیں موجود ہیں،تاریخ اس سے بھی زیادہ گھناؤنی،ہم کئی بار اس سچائی کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ہندوستان میں تصوف آیا اسلام نہیں آیا اسلام آتا تو کردار بھی آتا، حملہ آور مسلمان ضرور تھے مگر اسلام سے نا واقف،محمود غزنوی کے ہندوستان پر سترہ حملے اسلام کے لئے نہ تھے، لوٹ مار کے لئے تھے،اکبر سے لے کر مغلیہ بادشاہت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کسی نے بھی ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی،اور اس سے بڑی حقیقت یہ تھی کہ تاریخ جن کو داتا گنج بخش کہتی یا معین الدین چشتی،یا کوئی اور کسی نےبھی یہ مطالبہ کبھی نہیں کیا کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کی جائے،قصور ان کا بھی نہیں سچ بات تو یہ ہے کہ عہد نبوی کے چھبیس سال نکال دیں جس میں اسلام کے کچھ احکامات نافذ ضرور تھے کلی طور پر اسلام نافذ نہ تھا اور اس کے بعد ملوکیت کا دور دورہ تھا،اور سچ یہی ہے کہ ملوکیت اسلام نہ تھی کارِ خلافت صرف اولوالامر پر چل رہا تھا، خلیفہ کی زبان سے نکلا ہوا ہر حکم آیت کا درجہ رکھتا تھا حکمِ خدا وندی تھا،ابرو کے ایک اشارے پر ہزاروں قتل ہوئے،یہ ہر دور میں ہوا وہ دور بنو عباس کا ہو، بنو امئیہ کا ہو فاطمین ہوں یا عثمانی سلطنت، ،مسلمان تھے مگر اسلام نہ تھا،اسلام نہ تھا تو کردار بھی ناپید،مگر مسلمانوں کے ذہنوں میں مولوی نے ابنِ کثیر ٹھونسا،یا ابن تیمیہ،یا پھر ہندوستان میں فرمائشی تاریخِ فرشتہ لکھوائی گئی جو جھوٹ کا ایک پلندہ ہے،مگر اس کا کیا کیجیے کہ مدارس اور اسکولوں کے نصاب میں یہی کچھ پڑھایا گیا،ساری کتابیں جعلی جو پڑھی جاتی ہیں قرآن برحق جو پڑھا نہیں جاتا، بس یہیں سے مغالطہ جنم لیتا ہے،کہا جاتا کہ جب سچ اپنے جوتے کے تسمے باندھ رہا ہوتا ہے تب جھوٹ ساری دنیا کا چکر لگا کر واپس آجاتا ہے،تو بس قرآن کی نہ تعلیم نہ تفہیم، جھوٹی احادیث، جھوٹا تصوف اور صوفی ازم، جھوٹے اولیاء جھوٹے صوفیا ان سب نے مل کر ایک نیا اسلام ایجاد کر لیا،اور یہ نیا مال خوب بکا،مغالطے نے منافع کمایا،اب آئیے فیس بک پر وسیم الطاف کی ایک ویڈیو پر،وسیم الطاف ایک ترقی پسند انسان ہیں ان کی چند ویڈیوز ہم نے دیکھی ہیں ان کی ایک محفل میں ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ محمدعلی جناح،لیاقت علی خان، علامہ اقبال،اور چند اور شراب پیتے تھے،ان کی بیویاں غیر مسلم تھیں،یا ان کے معاشقے غیر مسلم عورتوں سے تھے تو یہ مسلم ریاست کا مطالبہ کیسے کر سکتے تھے،ایک cricket commentaterہوا کرتے تھے جمشید مارکر،ان کے والد نے ایک کتاب لکھی تھی اس کتاب میں انہوں نے بانیان پاکستان کے بارے میں یہی کچھ لکھا تھاThe Petal of a Rose،اس سوال کے جواب میں وسیم الطاف جن کی فیس بک پر کافی following ہے انہوں نےپاکستان کی تخلیق کو ہی مشکوک بنا دیا،اور یہ بات بھی logical نہیں ہے اس پر بات ہو سکتی ہے مگر ایسی ویڈیوز سے ان ذہنوں میں مغالطے پیدا ہو سکتے ہیں جو گہرے مطالعے سے نہیں گزرے،ہم مغالطوں کی دنیا میں زندہ ہیں،اسلام کا نفاذ مغالطہ،اسلامی تاریخ مغالطہ،اسلام کی نام پر مبینہ طور پر بننے والا ملک بھی مغالطہ،اس کا نام بھی مشکوک،اس ملک میں ہونے والی سیاست بھی مغالطہ،یہ ملک نہ اسلامی نہ جمہوری،یہ بھی مغالطہ،اب سوال یہ ہے کہ اس ملک میں جو سیاسی تحریکیں چلیں کیا جمہوریت کے لئے تھیں،کسی نے نوابزادہ نصر اللہ خان کے بارے میں لکھا کہ نوابزادہ نصر اللہ خان پہلے جمہوریت کے لئے جد و جہد کرتے ہیں جب جمہوریت آ جاتی ہے تو نوابزادہ نصر اللہ خان مارشل لاء کے لئے جد و جہد کرتے ہیں،ایک تجزیہ نگار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نوابزادہ سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں،جب بے نظیر کی حکومت تھی اس وقت نواز شریف نے واشنگٹن میں ایک بیان دیا تھا کہ وہ کون سی مراعات ہیں جو بے نظیرامریکہ کو دے سکتی ہیں اور ہم نہیں دے سکتے،سو اب دیکھیئے یہ حب الوطنی بھی جعلی،علی الاعلان ملک کو بیچنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں ،سو سیاست دانوں کی سیاست اور حب الوطنی بھی مغالطہ،آج کل پاکستان میں پی ٹی آئی کی لانگ مارچ زیرِ بحث ہے،27 Septemberکی لانگ مارچ موخر کی جا چکی ہے اب چار اکتوبر کی تاریخ سامنے آئی ہے اس مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر ہی اختلافات ہیں اختلاف کرنے والوںمیں شوکت یوسف زئی سامنے آئے ہیں ،وہ پی ٹی آئی کے ترجمان بھی ہیں ،لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مطالبات یہ ہیں کہ عمران کو الشفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے،علیمہ خان، نورین نیازی،اور ڈاکٹر عظمی کو رہا کیا جائے،خاندان اور وکلاء کو عمران تک رسائی دی جائے،فون پر عمران کی بیٹوں سے بات کرائی جائے،یہ مطالبات پختون خواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کر رہے ہیں،بیر سٹر گوہر مذاکرات کے لئے کوشاں ہیں ،مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا تعلق عمران کی سہولیات سے ہے،ان مطالبات میں کہیں بھی پختون خوا ہ کے عوام کے بارے کوئی ذکر نہیں،شفیع جان صوبائی حکومت کے وزیر اطلاعات ہیں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہمیں عمران کی رہائی کے لئے ووٹ ملا ہے مگر عمران کی رہائی کسی بھی انتخابی عمل سے گزرنے والے کسی امیدوار کا منشور نہیں تھا نمائیندگان نے تو آئین کے تحت صوبے کی بہبود کا حلف لیا ہے،یہ مغالطہ دانستہ تخلیق کیا گیا،لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو حکومت نے اسلام آبادکے راستےcontainersسے بند کر دئیےہمارے فاضل کالم نگار پسند نا پسند کی بنیاد پر کالم لکھتے ہیں ۔ایک فاضل کالم نگار نے لکھا کہ اسلام آباد کنٹینرستان بن گیا ہے،یہ سچ بھی ہے مگر یہ بھی بتایا جائے کہ اگر اسلام آباد کو نہ بچایا جائے تو کیا کیا جائے،ہم عمران کی پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں ان کی سیاست سمجھ سے بالا تر ہی رہی ،وہ خود کہتے رہے کہ ان کو تجربہ نہ تھا اس لئے غلطیاں ہوئیں اور سارا کام جنرل باجوہ ہی کرتے رہے،،ان کا چار سالہ دور اقتدار مثالی نہ تھا،وہ کم از کم ان چار سالوں میں بنیادی اصلاحات کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا،ان کی سیاست کا دارومدار زیادہ تر جنرلز پر ہی رہا جنرلز ہی سیاہ و سفید کے مالک رہے اور ان کو عمران کی حمائیت حاصل رہی،بادی النظری میں یہی نظر آیا مگر پھر بھی ہم کھلے ذہن کے ساتھ اب بھی سمجھنا چاہتے ہیں کہ عمران کیا کرنا چاہتے ہیں ،عمران کا وہ کیا منشور ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے براہ کرم ہمیں لنگر خانوں،پناہ گاہوں انڈے مرغی کی پالیسی پر قائل کرنے کی کوشش نہ کی جائے،کوئی ایسا ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کا معاشی ماڈل جس کو اپنایا جا سکے،براہ کرم یہ بھی نہ بتایا جائے کہ عمران عوام کو لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھانے کے لئے آئے ہیں بس ایک نکتہ ہے جس پر بات کی جانی چاہیئے کہ پاکستانی عوام کو روٹی کیسے مل سکتی ہے،عمران کو یہ بات بھی ذہن نشیں کر لینی چاہیئے کہ فوج ایک حقیقت ہے اس سے لڑکر انارکی تو پیدا کی جا سکتی ہے ملک کی خدمت نہیں کی جا سکتی،کوئی ایسا فارمولہ جو ملک میں امن اور روٹی کی ضمانت دے سکے،ورنہ لانگ مارچ کرنا، افراتفری،انارکی، ٹکراؤ یا تصادم ملک کے حق میں نہیں ،سیاست ہمیشہ لاجیکل ہی ہوتی ہے مسائل کا حل مکالمے اور مذاکرات سے ہی نکلتا ہے اور یہی راستہ اختیار کرنا چاہیئے،اس کے برعکس جو بھی ہوگا وہ مغالطہ ہی ہوگا Illusions یا delusions مسائل کا حل نہیں ،ملک کا مسئلہ معاشی اور اقتصادی ہے ،اور قانون کی عمل داری کا بھی،ایلیٹ کلاس بھی ملک کا مسئلہ ہے،شہباز حکومت تین سال سے مسلط ہے خواجہ آصف تو خود کہتے ہیں کہ یہ ایک Hybrid نظام ہے جو ایک arrangementکے تحت لایا گیا ہے کل کو یہ لوگ چلے گئے تو یہی کہیں گے کہ جو کچھ کیا فیلڈ مارشل نے کیا اور معاشی ترقی کو عمران کی احتجاجی سیاست نے روک کے رکھا،اور ان سے حساب لینے والا کوئی نہیں ہوگا،خدا کے واسطے مغالطوں سے نکلیں ،مہذب طریقے اختیار کریں ،پاکستان ہر انڈکس میں باٹم پر ہے اگر ہوشمندی سے کام نہ لیا تو یہ ملک فاقوں سے مرےگا۔



