Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

سڑک بند کی جا سکتی ہے، سیاسی راستہ نہیں

میری پیدائش ڈسکہ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی کچھ عرصہ آبائی گاؤں بھیلو مہار میں پڑھا اور پھر والد صاحب کی رہائش کے باعث اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون فور آ گیا۔ یہی شہر میری تعلیم، عملی زندگی اور صحافت کا مرکز بنا والد صاحب نے بلو ایریا میں میرے لیے پرنٹنگ پریس قائم کیا اور اسی زمانے میں روزنامہ مرکز سے صحافتی سفر شروع ہوا۔ بعد میں مختلف اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستگی رہی۔اسلام آباد نے مجھے صرف روزگار نہیں دیا، سیاست کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی دیا۔ وفاقی سیکریٹریٹ، پارلیمان اور اہم سرکاری دفاتر کی طرف جانے والی سڑکیں میرے لیے جانی پہچانی تھیں۔ انہی سڑکوں پر سیاسی قافلے بھی دیکھے، احتجاج بھی، نعرے بھی اور آنسو گیس بھی۔ جماعت اسلامی کے احتجاج، مسلم لیگ ن کے مارچ، پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں، وکلا تحریک، دھرنے اور لانگ مارچ ان میں سے کئی واقعات میں، ایک صحافی اور شہری کی حیثیت سے، میں خود موجود رہا کئی مرتبہ آنسو گیس کے شیل بھی برداشت کیے۔ اس لیے اسلام آباد کی سیاسی تاریخ میرے لیے محض اخباری تراشوں کا موضوع نہیں، یہ میری آنکھوں کے سامنے لکھی جانے والی تاریخ ہے گزشتہ کچھ عرصے سے چند دوست اور کلاس فیلوز مجھ سے کہتے رہے کہ آپ نے اسلام آباد آنے والے اتنے لانگ مارچ اور دھرنے دیکھے ہیں، کبھی یہ بھی لکھیں کہ آخر ان سب سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو کیا ملا؟ یہ سوال میرے لیے ایک کالم کا موضوع بن گیا میں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے احتجاجوں، لانگ مارچوں اور دھرنوں کے بارے میں دستیاب تاریخی اور صحافتی مواد بھی دیکھا اور اپنے مشاہدے کو بھی سامنے رکھا۔ ممکن ہے کسی واقعے یا تاریخ کا کوئی حوالہ رہ گیا ہو، اس لیے اہلِ علم، صحافیوں اور قارئین کی اصلاح کا خیرمقدم ہے۔ تاریخ کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں، یہ اجتماعی حافظہ ہے۔مگر اس سارے مطالعے کے بعد ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے پاکستان میں سیاسی اختلاف کا مستقل راستہ اسلام آباد کی سڑک ہے یا پارلیمان؟یہ سوال کسی ایک جماعت کا نہیں، پوری سیاسی قیادت، حکومت، اپوزیشن اور ریاستی نظام کا سوال ہے پاکستان میں اسلام آباد رفتہ رفتہ صرف وفاقی دارالحکومت نہیں رہا۔ یہ اقتدار تک رسائی، سیاسی دباؤ اور احتجاج کی علامت بھی بن گیا۔1980 میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے خلاف شیعہ برادری کا احتجاج اسلام آباد پہنچا اور وفاقی سیکریٹریٹ کا محاصرہ ہوا۔ حکومت نے بالآخر شیعہ شہریوں کو ریاستی زکوٰۃ سے استثنا دینے کا اعلان کیا 1989 میں نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں اسلام آباد کی طرف آئیں۔ 1992 اور 1993 میں بے نظیر بھٹو کے لانگ مارچ اور سیاسی بحرانوں نے بھی دارالحکومت کو سیاسی کشمکش کا مرکز بنایا۔ 1996 میں جماعت اسلامی کا مارچ، 2007 سے شروع ہونے والی وکلا تحریک، 2009 کا لانگ مارچ، 2013 کا طاہرالقادری دھرنا اور 2014 کا طویل تحریک انصاف دھرنا یہ سب ہماری سیاسی تاریخ کے اہم ابواب ہیں خاص طور پر 2014 کا 126 روزہ دھرنا اس بات کی علامت بن گیا کہ اسلام آباد کی سڑکیں اب صرف آمدورفت کے لیے نہیں رہیں، سیاسی طاقت کے اظہار کا میدان بھی بن چکی ہیں یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے: پرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے حکومت کی پالیسی سے اختلاف، عوام کو متحرک کرنا اور اپنے مطالبات پیش کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے۔ لیکن اس حق کے ساتھ دوسروں کے حقوق بھی جڑے ہوئے ہیں ایک مزدور کے لیے بند سڑک صرف ٹریفک کا مسئلہ نہیں، اس کی ایک دن کی دیہاڑی کا مسئلہ ہے۔ ایک دکاندار کے لیے احتجاج کاروبار بند ہونے کا مسئلہ ہے۔ طالب علم کے لیے راستہ بند ہونا تعلیم میں رکاوٹ ہے مریض کے لیے یہی بند راستہ زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ بن سکتا ہے اسی لیے احتجاج کے سیاسی حق کے ساتھ اس کے سماجی اثرات پر بات کرنا بھی ضروری ہے 2024 کے اسلام آباد احتجاج کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے روزانہ تقریباً 190 ارب روپے کے معاشی نقصان کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ بعد میں اسے کئی دنوں کے مجموعی نقصان سے جوڑا گیا۔ لیکن یہ حکومتی تخمینہ تھا، آزادانہ طور پر آڈٹ شدہ حتمی نقصان نہیں۔ اعداد و شمار کی بحث میں یہ فرق برقرار رہنا چاہیے۔اصل سوال صرف معاشی نقصان کا بھی نہیں سوال سیاسی قیمت کا ہے لانگ مارچ کی سیاسی قیمت حکومت اور سیاسی جماعتیں ادا کرتی ہیں، مگر اس کی روزمرہ قیمت اکثر عام شہری ادا کرتا ہے۔دوسری طرف ریاستی ردعمل بھی کم اہم نہیں۔ کنٹینر، گرفتاریاں، راستوں کی بندش اور طاقت کا استعمال احتجاج کو وقتی طور پر محدود کرسکتے ہیں، مگر سیاسی سوال کو ختم نہیں کرتے میرے مشاہدے میں ایک بات بار بار درست ثابت ہوئی کنٹینر راستہ روک سکتا ہے، سیاسی اختلاف نہیں پولیس مجمع منتشر کرسکتی ہے، سیاسی مطالبے کو ختم نہیں کرسکتی۔ گرفتاری احتجاج کی شدت کم کرسکتی ہے، مگر اختلاف اپنی جگہ رہتا ہے اسی لیے سیاسی بحران کا آخری راستہ بالآخر مذاکرات ہی بنتے ہیں۔یہاں پارلیمان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔پارلیمان صرف قانون سازی کی عمارت نہیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا چاہیے، سوال پوچھنا چاہیے، جواب دینا چاہیے، اختلاف کرنا چاہیے اور پھر کسی نہ کسی آئینی راستے پر پہنچنا چاہیے۔اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے تو پھر بات کہاں ہوگی؟اگر سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اپنا اختلاف مؤثر انداز میں نہیں رکھ سکیں گی تو سڑک سیاسی دباؤ کا مرکز کیوں نہیں بنے گی؟مسئلہ صرف سڑک کا نہیں، مسئلہ پارلیمان کی طاقت کا بھی ہے۔وفاق اور صوبوں کے تعلقات بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے چاہییں۔ 18ویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری کے عمل کو آگے بڑھایا اور متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے بھی صوبوں کے مالی حصے میں اضافہ کیا۔ اس لیے وفاق اور صوبے کے اختلاف کو ہر حال میں وفاق دشمنی سمجھ لینا درست نہیں۔ وفاقی نظام اختلاف نہیں، اختیارات کی آئینی تقسیم کا نام بھی ہے۔مضبوط وفاق وہ نہیں جہاں صوبے کمزور ہوں۔ مضبوط وفاق وہ ہے جہاں وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، صوبے اپنے آئینی دائرے میں بااختیار ہوں اور اختلافات سڑک کے بجائے اداروں میں حل ہوں آج بھی اسلام آباد سیاسی احتجاج کا مرکز بنتا ہے۔ تاریخیں بدلتی ہیں، جماعتیں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر منظر اکثر وہی رہتا ہے: سیاسی قافلہ دارالحکومت کی طرف، کنٹینر سڑک پر، پولیس الرٹ اور عام شہری ٹریفک میں پھنسا ہوا چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کے اس سیاسی سفر کے بعد سوال یہی ہے ہم نے ان لانگ مارچوں سے کیا سیکھا؟ یقیناً بعض احتجاجوں نے عوامی مطالبات کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔ بعض مواقع پر حکومتوں کو فیصلے بدلنے پڑے۔ بعض تحریکوں نے مذاکرات کا راستہ کھولا۔ وکلا تحریک اس کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں سیاسی دباؤ بالآخر ایک بڑے ادارہ جاتی فیصلے تک پہنچا۔لیکن کیا ہر احتجاج نے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا؟کیا ہر دھرنے کے بعد پارلیمان زیادہ طاقتور ہوئی؟کیا عام آدمی کے روزگار، تعلیم، صحت، مہنگائی، بجلی اور امن کے مسائل حل ہوئے؟یہ سوال آج بھی ہمارے سامنے ہیں میرے نزدیک کسی لانگ مارچ کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچے، کتنے دن دھرنا جاری رہا یا کتنی بلند آواز سے نعرے لگے اصل پیمانہ یہ ہے کہ عوام کے کتنے مسائل حل ہوئے، سیاسی نظام کتنا مضبوط ہوا، پارلیمان کتنی بااختیار ہوئی اور آئینی روایت کتنی مستحکم ہوئی میں نے اسلام آباد کی سڑکوں کو سیاسی قافلوں سے بھرتے بھی دیکھا ہے اور چند دن بعد انہی سڑکوں کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹتے بھی دیکھا ہے۔ نعرے ختم ہوجاتے ہیں، کنٹینر ہٹ جاتے ہیں، دھرنے ختم ہوجاتے ہیں، مگر سیاسی سوال باقی رہ جاتے ہیں شاید یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ہم احتجاج تو کرلیتے ہیں، مگر احتجاج کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی مسئلے کا مستقل ادارہ جاتی حل تلاش نہیں کرتے۔ہم سڑک پر طاقت دکھاتے ہیں، مگر پارلیمان کو طاقتور بنانے کی مسلسل کوشش نہیں کرتے۔ہم حکومت کو گرانے کے راستے تلاش کرتے ہیں، مگر حکمرانی کو بہتر بنانے کے راستے کم تلاش کرتے ہیں۔پاکستان کو احتجاج کے حق سے محروم کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ احتجاج جمہوری حق رہے، مگر سیاسی نظام کا متبادل نہ بنے حکومتیں احتجاج سے خوف زدہ نہ ہوں اور اپوزیشن کو ہر بڑے سیاسی اختلاف پر اسلام آباد کا رخ نہ کرنا پڑے مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہ ہو پارلیمان محض تقریروں کی جگہ نہ ہو بلکہ سیاسی فیصلوں کا مرکز بنے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہتی ہیں، قیادتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، دھرنے ختم ہوتے رہتے ہیں، مگر ریاست اور عوام باقی رہتے ہیں۔آج بھی عام آدمی کے بنیادی سوال وہی ہیںروزگار کیسے ملے گا؟مہنگائی کیسے کم ہوگی؟ تعلیم اور صحت کیسے بہتر ہوں گی بجلی اور امن کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ معیشت کب مستحکم ہوگی؟ اور سیاسی اختلاف کب مستقل ادارہ جاتی راستے سے حل ہوگا؟ شاید ہماری چار دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ لانگ مارچ منزل نہیں، سیاسی دباؤ کا ایک ذریعہ ہے اصل منزل وہاں شروع ہوتی ہے جہاں سیاسی مطالبہ آئین کے دائرے میں حل ہو، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سنیں، مذاکرات کا دروازہ کھلا رہے اور پارلیمان وہ مقام حاصل کرے جو ایک جمہوری نظام میں اسے حاصل ہونا چاہیے میں نے جو دیکھا، جو برداشت کیا اور جو پڑھا، اسے قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے کسی تاریخی حوالے میں کمی یا غلطی رہ گئی ہو تو اصلاح میرے لیے باعثِ رہنمائی ہوگی مگر ایک بات میرے ذاتی مشاہدے میں آج پہلے سے زیادہ واضح ہے اسلام آباد تک پہنچنا سیاسی سفر کی آخری منزل نہیں اصل سیاسی سفر وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں اختلاف مکالمے میں بدلتا ہے، احتجاج مطالبے میں ڈھلتا ہے مطالبہ پالیسی بنتا ہے اور پالیسی عوام کی زندگی میں تبدیلی لاتی ہے سڑک بند کی جا سکتی ہے، سیاسی راستہ نہیں اور وہ سیاسی راستہ بالآخر آئین، پارلیمان، مذاکرات اور اتفاقِ رائے سے ہی نکلتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button