پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری عالمِ اسلام کے اتحاد و استحکام کی بنیاد ہے: حافظ طاہر محمود اشرفی

لاہور ( آصف اقبال ) مکہ معاہدے کے حوالے سے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے پسِ پشت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دوراندیش سوچ، حکمت و تدبر اور اتحادِ امت کا وژن جبکہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی بصیرت، تعاون، تحمل اور پاکستان پر غیر متزلزل اعتماد نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مشکل علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان اور سعودی عرب نے تصادم کے بجائے حکمت، اشتعال کے مقابلے میں تحمل اور اختلافات کے بجائے باہمی اعتماد، مکالمے اور تعاون کا راستہ اختیار کیا، جو عالمِ اسلام کے امن، اتحاد اور مشترکہ استحکام کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی جذبۂ وحدت کی عملی تصویر پاکستان میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جدوجہد میں بھی نظر آتی ہے، جو وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے وژن کے مطابق قائم کی۔ کمیٹی نے بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، قومی وحدت، رواداری اور ریاست و مذہبی قیادت کے درمیان اعتماد و مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات کو پاکستان کے امن، استحکام اور قومی سلامتی کے مشترکہ مقصد پر یکجا کرنا ایک اہم قومی خدمت ہے، جو ملکی تاریخ میں اتحاد، رواداری اور امن کے حوالے سے ایک یادگار باب کی حیثیت رکھتا ہے۔



