Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

کورنگی لانڈھی فلائی اوور مکمل، 4 ارب روپے کے صنعتی ترقیاتی پیکیج کا اعلان

کراچی ( آصف اقبال ) صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کورنگی نمبر 5 کے 12 ہزار روڈ پر تعمیر کیے گئے کورنگی لانڈھی فلائی اوور کا افتتاح کردیا۔ 515 میٹر طویل فلائی اوور کی تعمیر پر 74 کروڑ 66 لاکھ 28 ہزار روپے لاگت آئی ہے، جس کی تکمیل سے کورنگی، لانڈھی اور ملحقہ صنعتی علاقوں میں ٹریفک کی روانی بہتر ہونے اور شہریوں کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات ملنے کی امید ہے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا وژن عوام کی خدمت ہے، اسی وژن کے تحت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم دن رات کام کررہی ہے۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا عوام پر احسان نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مجموعی طور پر 4 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، دونوں صنعتی علاقوں کے لیے 2،2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد صنعتی انفراسٹرکچر بہتر بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں اب صرف کام کا وقت ہے اور عوام ترقیاتی کام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کورنگی میں سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے ساتھ کورنگی کازوے، تاج حیدر فلائی اوور، کورنگی ڈھائی نمبر برج، عظیم پورہ فلائی اوور اور اب کورنگی لانڈھی فلائی اوور جیسے اہم منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ شاہراہ بھٹو کا آغاز بھی کورنگی سے ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی طور پر کام کرکے دکھانا ہے۔ ترقیاتی منصوبے صرف سڑکیں اور پل بنانے تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات، علاقوں کے درمیان رابطے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق فلائی اوور کا پل 240 میٹر طویل اور 7.5 میٹر چوڑا ہے، جبکہ اپ ریمپ 156 میٹر اور ڈاؤن ریمپ 119 میٹر طویل ہے۔ منصوبے کا فزیکل ورک 100 فیصد مکمل ہوچکا ہے جبکہ مالی پیش رفت 97.24 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔فلائی اوور کی تکمیل سے کورنگی، لانڈھی اور صنعتی علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، سفری سہولت میں اضافہ اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button