طالبان نے ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی؛ پولیس کا نام شرطہ رکھ دیا

افغان طالبان نے نئے قانونِ شرطہ کے تحت افغانستان میں ہر قسم کے مظاہروں پر ملک گیر پابندی عائد کردی ہے۔طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز قانون جاری کیا جسے سپریم لیڈر ہبتہ اللہ اخوندزادہ کی منظوری حاصل ہے۔ اس نئے قانون کی شق 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا احتجاجی مظاہرہ ممنوع ہوگا۔قانون میں اس پابندی کے دائرۂ کار یا اس کی خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی مخصوص سزا کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ طالبان نے نئے قانون میں پولیس کے لیے ’’شرطہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبوں کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی انتہائی محدود رہے ہیں۔نئے قانون کے ذریعے پابندی کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔



