
تہران / ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے خلاف تازہ بیانات جاری کیے ہیں۔ایران نے عراق میں امریکی اور سعودی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ سعودی عرب نے اردن پر ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں کیے گئے حملے عراقی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان کے مطابق حملوں میں ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جنہیں ایران نے عراقی سرکاری اداروں اور اربعین کے زائرین کی خدمت کے لیے قائم آرام گاہوں سے منسلک قرار دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان کارروائیوں کو "مجرمانہ، غیر انسانی اور اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد خطے میں تنازع کو مزید وسعت دینا ہے۔ وزارت نے حملوں میں ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور عراقی حکومت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے اردن پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب نے اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اردن کی سلامتی اور استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ایران فوری طور پر اردن اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے بند کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، سعودی عرب، عراق اور اردن سے متعلق حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔



