Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امریکہ ،ایک مذہبی ملک ؟

امینہ نائٹ بروکلین کے گنجان آباد علاقے فلیٹ بش میں پیدا ہوئی تھی۔ حد نگاہ تک پھیلی ہوئی اپارٹمنٹ بلڈنگوں کی قطاروں ‘ بازاروں میں لوگوں کے ہجوم ‘ گروسری سٹوروں اور کافی شاپس سے لدے پھندے اس علاقے میں زیادہ تر سیاہ فام لوگ رہتے ہیں۔ امینہ اسی علاقے کی ایک رہائشی بلڈنگ کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں اپنے والدین اور پانچ بہنوں کے ساتھ رہتی تھی۔ یہاں سے ہائی سکول اور کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدوہ امریکی ریاست Tennessee کے شہر Nashville چلی گئی۔ وہاں اس نے Vanderbilt University سے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اس شہر میں طویل عرصے تک رہنے کے باوجود وہ فلیٹ بش ہی کو اپنا گھر سمجھتی تھی۔ اپنی بہنوںسے دور رہنا اس کے لیے مشکل تھا۔ مگر شادی کے بعد اسے اپنے شوہر کے ساتھ ٹیکساس کے ٹائون فورٹ ورتھ جانا پڑا۔محمد عبداللہ ایک آئل کمپنی میں کام کرنے کے علاوہ اسی جگہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض بھی ادا کرتا تھا۔ امینہ کا والد بہت عرصہ پہلے جزائر غرب الہند کے ایک جزیرے Trinidadسے نقل مکانی کر کے امریکہ آیا تھا۔فلیٹ بش میں سیاہ فام مسلمان بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ امینہ کے والد نے انکی تبلیغ کے زیر اثر مسیحی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اسکی بیوی Trinidadکے قریب واقع ایک جزیرے گیانا سے امریکہ آئی تھی۔ اس نے شادی کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔امینہ زندگی بھر حجاب پہن کر گھر سے نکلتی تھی۔ فورٹ ورتھ جانے سے پہلے وہ سوچتی تھی کہ وہاں اسے نسلی تعصب کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا۔ اسکا یہ اندیشہ غلط ثابت ہوا۔نیویارک سے 1800 میل دور ٹیکساس کے اس ٹائون میں وال مارٹ‘ ٹارگٹ اور میکڈونلڈ اسے بروکلین کی یاد دلاتے تھے۔ اس جگہ کی سفید فام خواتین اسکے حجاب کو دیکھ کر مسکرا دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نے امینہ کو دیکھ کر کہا I love Texas تو امینہ نے بھی مسکرا کر یہی جملہ دہرا دیا۔ امینہ 2018میں ٹیکساس آئی تھی۔ اسوقت اسکی عمر 35برس تھی۔ اب وہ چھ بچوں کی ماں ہے اور فورٹ ورتھ میں ڈے کئیر سینٹر چلاتی ہے۔ دو برس پہلے اس نے سوچا کے عید کے موقع پر اپنے گھر میں لوگوں کو جمع کرنے کے بجائے ڈیلاس کے واٹر پارک میں ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے۔ وہ بڑی تعداد میں مسلمان خواتین کو مدعو کرنا چاہتی تھی اس مقصد کے لیے اس نے ایک ویب سائٹ بنائی اور انٹر نیٹ پر دعوتی کارڈز تقسیم کئے۔ اس کارڈ میں اس نے فل سائز سوئمنگ سوٹ کو ضروری قرار دیا اور نمایاں طور پر Muslim Only بھی لکھ دیا۔ خلاف توقع اسکی پارٹی بڑی کامیاب رہی اور تین سو کے لگ بھگ خواتین نے اس میں شرکت کی۔ اس نے ایک سال بعد عیدلاضحیٰ کے موقع پر دوبارہ یہ تقریب منعقد کی تو ٹائون کے زیر انتظام چلنے والے واٹر پارک کی انتظامیہ نے پھر اسکے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ دو سال بعد یہ پارٹی اتنی مقبول ہوئی کہ اسے ڈیلاس کی مسلم کمیونٹی میں ایک روایت کا درجہ حاصل ہو گیا۔رواں سال جب امینہ نے عیدلاضحی سے پہلے اس پارٹی کی تیاریاں شروع کیں تو اسے جاننے والوں نے ٹیکساس میں بڑھتے ہوے مسلمان مخالف جذبات کے بارے میں آگاہ کیا۔ امینہ نہیں جانتی تھی کہ ٹیکساس کے سیاستدان‘ گورنر‘ اٹارنی جنرل‘ ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر اور دائیں بازو کا میڈیا مسلمانوں کو ایک مختلف قوم اور امریکہ کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہ تھا ٹیکساس میں مسلمانوں کی تنظیم Council On American Islamic Relations کو گورنر Greg Abbottyنے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہواہے۔ امینہ کو اسوقت بدلے ہوے حالات کا پتہ چلا جب اسکے شوہر نے اسے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اسکی واٹر پارک پارٹی کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ عبداللہ نے اسے بتایا کہ ایک مقامی پوڈ کاسٹر Nicholas Rice نے اپنی پوڈ کاسٹ میں لوگوں سے پوچھا ہے کہ اگر کوئی کرسچین اپنی تقریب کے کارڈ پر یہ لکھ دے کہ Christian Only تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ اسی دوران ایک صحافی نے امینہ سے رابطہ کیااور پوچھا کہ کیا مذہب کے نام پر لوگوں کوکسی بھی تقریب میںشامل ہونے سے منع کرنا امریکی روایات اور قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ امینہ نے اسے جواب دیا کہ Muslim Only سے اسکی مراد دوسرے مذاہب کے لوگوں کو خارج کرنا نہیںبلکہ مسلمانوں کے مخصوص سوئمنگ ڈریس کے بارے میں آگا ہ کرنا ہے۔اسکا یہ جواب میڈیا کے شور شرابے کو کم نہ کر سکا۔ ڈیلاس کے Blaze ٹی وی چینل کی ہوسٹ Sara Gonzales نے کہا کہ مسلمان Islamification Of Texas کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مخالفت کو دیکھتے ہوے عبداللہ نے مسلم کمیونٹی کے کہنے پر ایک نیوز کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ مسلمان تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور امریکی قوانین کی پابندی کو ضروری سمجھتے ہیں مگر اسکے بات شروع کرتے ہی ایک سفید فام شخص نے بہ آواز بلند کہاGet him out of this country. This is America. This is a Christian country.اس ہنگامے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر گورنر گریگ ایبٹ نے امینہ نائٹ کی پارٹی کو یہ کہہ کر منسوخ کردیا کہ ڈیلاس کا واٹر پارک لوگوں کے دیئے ہوے ٹیکس کے پیسوں سے چلتا ہے۔ اس میں کسی کو مذہب کے نام پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس نوع کے مسلمان مخالف جذبات کئی وسط مغربی اور جنوبی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ امینہ نائٹ کی واٹر پارک پارٹی کی تنسیخ نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکی قوم پرست اپنے ملک کو ایک مذہبی ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ آج کے دور میں تو ایسا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کے بعد کیا ہو گا اسکے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button