Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

طاقت کا اظہار یا جنگ سے گریز!

مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کئی محاذوں پر برقرار ہے۔ اگر یہ مزید بڑھتی ہے تو ،غلط اندازے یا کسی بڑے واقعے کی صورت میںیہ کشیدگی تیزی سے وسیع جنگ میں بدل سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شدید کشیدگی کے ادوار میں اکثر ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں جنگ کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیتی ہیں، کیونکہ ایک بڑی علاقائی جنگ کے معاشی اور انسانی نقصانات سب کے لیے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور اس میں کئی ممالک براہِ راست شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، مثلاً،وسیع علاقائی تنازع کا خطرہ،تیل اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،تجارت اور بحری راستوں پر دباؤ۔انسانی بحران اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ۔صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اور سفارتی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں تاکہ کشیدگی کو بڑے تنازع میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
اس وقت آبنائے ہرمز اور خلیجی خطہ بدستور سب سے حساس محاذ ہیں۔تاریخی طور پر ایران نے کئی بار آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں جہاز رانی محدود کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس راستے پر آزادانہ جہاز رانی کو برقرار رکھنے کے لیے بحری موجودگی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ عالمی جغرافیائی سیاست کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اب بھی عالمی تشویش کا باعث ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز، ایران، اسرائیل، غزہ اور خلیجی خطے سے متعلق پیش رفت کی وجہ سےحالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے اردگرد فوجی اور بحری تناؤ میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے جس نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور جہاز رانی کے بارے میں خدشات بڑھا دیئے ہیںامریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی اور ٹکراؤ کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ صورتحال ’’طاقت کے اظہا ر‘‘ اور’’براہِ راست جنگ سے گریز‘‘ کا ایک انتہائی پیچیدہ اور نپا تلا امتزاج ہے۔ دونوں ممالک اپنے نظریاتی اور تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کررہے ہیں لیکن ایک دوسرے کے خلاف باقاعدہ اور کھلی جنگ چھیڑنے سے مسلسل گریز بھی کررہےہیں۔دونوں فریقین اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے اور اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرنے کے لیے طاقت کے اظہار کو بطور ہتھیار استعمال کررہےہیں۔
امریکہ مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں اپنے بحری بیڑے، جنگی طیارے اور پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تعینات رکھتا ہے تاکہ ایران پر دباؤ برقرار رہے۔ امریکہ کے لیے سب سے بڑا پروجیکشن فوجی سے زیادہ معاشی ہے۔ ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کر کے اس کی معیشت کو مفلوج کرنا بھی طاقت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، ضرورت پڑنے پر امریکہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں یا ایرانی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دیتا ہے کہ اس کی سرخ لکیریںعبور کرنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔دوسری طرف ایران براہِ راست امریکی فوج سے ٹکرانے کے بجائے خطے میں اپنے حامی گروپوں کے ذریعے اپنی طاقت کا لوہا منواتا ہے۔ یہ نیٹ ورک ایران کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ سرحدوں سے دور رہ کر بھی امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکے۔
آبنائے ہرمز کے دہانے پر ایران کی موجودگی اس کا سب سے بڑا کارڈ ہے۔ عالمی تیل کی سپلائی لائن کو روکنے کی دھمکی دینا ایران کی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔ایران نے مقامی سطح پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کیا ہے، جس کا مظاہرہ وہ خطے میں مختلف تزویراتی اہداف کو نشانہ بنا کر کرتا رہتا ہے۔ طاقت کے اس شدید مظاہرے کے باوجود، دونوں ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ایک مکمل اور براہِ راست جنگ دونوں کے لیے تباہ کن ہوگی۔
امریکہ جانتا ہے کہ ایران پر حملہ افغانستان یا عراق جیسا نہیں ہوگا۔ ایران کا جغرافیہ، اس کی عسکری صلاحیت اور اس کا پراکسی نیٹ ورک پورے مشرقِ وسطیٰ کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس سے عالمی معیشت زمین بوس ہو سکتی ہے۔ایران جانتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور روایتی جنگ میں امریکی فضائی اور تکنیکی برتری ان کی حکومت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ایران ہمیشہ اپنی بقا کو اولیت دیتا ہے۔امریکہ اور ایران کے تعلقات کی موجودہ صورتحال نہ جنگ، نہ امن کی ہے۔یہ جنگ سے گریز کی پالیسی ہی ہے جو انہیں براہِ راست تصادم سے روکتی ہے، لیکن اپنے مفادات کے تحفظ اور ڈیٹرنس کو قائم رکھنے کے لیے وہ مسلسل طاقت کا اظہارکرتے رہتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک ایسی تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں جہاں معمولی سی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے لیکن فی الحال دونوں کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کو دباؤ میں رکھنا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی جنگ شروع کرنا۔ جب بھی دونوں کے درمیان براہِ راست تصادم کی نوبت آتی ہے تو جوابی کارروائیاں انتہائی نپی تلی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ماضی میں جب براہِ راست حملے ہوئے تو حملے سے پہلے بالواسطہ پیغامات بھیجے گئے تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو اور بات کھلی جنگ تک نہ پہنچے۔سخت بیانات کے باوجود، دونوں ممالک سوئٹزرلینڈ یا عمان جیسے ثالثوں کے ذریعے ہمیشہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو فوری طور پر جنگ میں بدلنے سے روکا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک ایسی کیفیت میں ہیں جس کو نہ جنگ، نہ امن کہہ سکتے ہیں۔اس کی چند اہم وجوہات بھی ہیں،دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مکمل جنگ نہیں ہو رہی لیکن فوجی کشیدگی، دھمکیوں، پابندیوں اور محدود حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے مگر اعتماد کی شدید کمی ہے اور مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوتے ہیں۔دونوں فریق بظاہر وسیع جنگ سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں کشیدگی دوبارہ بڑھی ہے جس کے باعث عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور اقوامِ متحدہ نے شہریوں پر اس کے انسانی اثرات سے خبردار بھی کیا ہے۔اس صورتحال کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہےکہ دُنیا بے چینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ کچھ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بندر عباس اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل اور سفارتی حل اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔امریکہ اور ایران کے تعلقات اس وقت ایک نازک موڑ پر ہیں، جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ پائیدار امن بلکہ کشیدگی، محدود تصادم اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں ۔یہ کنڑولڈکشیدگی ہے یعنی جنگ کے دہانے تک پہنچ جانا لیکن اس میں کودنے سے بچنا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button