Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

خلیجی ممالک کا اضطراب!

خلیجی ممالک کے لوگ کئی عشروں تک اپنے ارد گرد ہونیوالی جنگوں کو ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھتے رہے۔ عراق‘ شام‘ یمن اور غزہ کے لوگ طویل عرصے تک خوفناک جنگوںمیں الجھے رہے۔ اسوقت خلیجی ممالک میں عام تاثریہ تھا کہ امریکہ کے اتحادی ہونے کی وجہ سے جنگ کے شعلے ان تک نہ پہنچ سکیں گے۔ یہ خواب اب بکھر چکا ہے۔ امریکہ ایران جنگ نے اس تصور کو ادھیڑ کے رکھ دیاہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ خلیجی ممالک کا حفاظتی حصار زمین بوس ہو چکا ہے۔ انکی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور اب وہ اپنی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملی وضع کر رہے ہیں۔انکی سرزمین پر بنے ہوے امریکی اڈے انہیں ایران کے ڈرون اور میزائلوںکی یلغار سے نہ بچا سکے۔ انہیں اب احساس ہوا ہے کہ جدید اسلحے سے لیس یہ امریکی تنصیبات انکے لیے اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن چکی ہیں۔ ایران امریکی اڈوںپر حملے کے بہانے انکی عمارتوں‘ ہوائی اڈوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سترہ جون کو ہونیوالے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود خلیجی ممالک کو یہ ڈر ہے کہ ایران کسی بھی وقت ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ انکے اس خوف کو دور کرنے کے لیے گذشتہ ہفتے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے ان ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کی اور انہیں یقین دلایا کہ امریکہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ بدھ کے روز مارکو روبیو نے کویت میں صحافیوں سے کہا کہ امریکہ ایران سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جو اسکے عر ب اتحادیوں کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ لیکن لگتا ہے کہ عرب ممالک نے انکی یقین دہانیوں کو قبول نہیں کیا۔ انکا احساس عدم تحفظ اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ وہ یہ تسلیم نہیں کر رہے کہ امریکہ انہیں ایران کی جارحیت کے مقابلے میں تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ مارکو روبیو کے دورے کے موقع پر امریکی اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں کے مطابق خلیجی حکمرانوں نے اپنی مسلح افواج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر یہ ہتھیار کہاں سے آئیں گے اسکے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی اسلحے کے ڈھیر تو پہلے ہی سے انکے پاس موجود ہیں اب ان میں اضافہ کتنا کار آمد ثابت ہو گااسکا جواب کسی کے پاس نہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں دبئی اور دوحہ کی فلک بوس عمارتوںپر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے بہت کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ سیاحوں نے اس طرف کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کاروبار ٹھپ پڑے ہیں اور دوسرے ممالک سے آئے ہوے محنت کش واپس جا رہے ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود امریکہ اور ایران کی جھڑپیں ان اقوام کے خوف میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ اس جنگ سے پہلے ان ریاستوں کے حکمران مل جل کر دفاعی پالیسیاں بناتے تھے اب اس خطے کا ہر ملک اپنے دفاع کے بارے میں جداگانہ طرز عمل اختیار کر رہا ہے۔ ان ممالک میںبحرین‘ کویت‘ عمان‘ قطر‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ سب GCC یعنی Gulf Cooperation Council کے ممبر ہیں۔ یہ گروپ ایران عراق جنگ کے دوران علاقائی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے مارچ 1987 میں بنایا گیا تھا۔ اب انکے تعلقات میں بڑھتی ہوئی خلیج کا اندازہ انکی دفاعی پالیسیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کیساتھ اپنے اتحاد کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر کے وقتی طور پر اپنے تحفظ کا بندوبست کیا ہے۔ سعودی عرب‘ امریکہ اور ایران دونوں سے گفت و شنید کر رہا ہے۔ عمان اس لیے صدر ٹرمپ کے غیض و غضب کا شکار ہے کہ اس نے ایران کیساتھ آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کے لیے مذاکرات کئے تھے۔
خلیجی ممالک جس بات پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیئے مگر ان میں سے کوئی بھی امریکہ ایران جنگ بندی کے معاہدے کو پسند نہیں کرتا۔ سعودی عرب کے اخبار اشراق الاسواط کے مطابق یہ معاہدہ ایران کو ایک علاقائی طاقت بنا دے گا۔ تجزیہ نگار عبدالرحمان الرشید نے لکھا ہے کہ ایران کی بیلسٹک میزائل کی انڈسٹری پورے خطے کے لیے خطرہ ہے اور لبنان اور یمن میں اسکے اتحادی گروپ اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے۔امریکہ ایران جنگ بندی معاہدے کی ایک شق کے مطابق امریکہ تین سو ارب ڈالر کا ایک فنڈ ایران کی تعمیر نو کے لیے قائم کرے گا۔ خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ اس فنڈ کے لیے ان سے رجوع کریگا۔ قطر میں مڈل ایسٹ کونسل کے ڈائریکڑ خالد الجابر نے کہا ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک کو A.T.M کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جمعرات کو خلیجی وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ ایران سے کسی بھی حتمی معاہدے سے پہلے اپنے عرب اتحادیوں سے صلاح مشورہ کرے گا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو کی ان یقین دہانیوں کے باوجود ہر خلیجی ملک ایران سے انفرادی طور پر مذاکرات کر کے عدم جارحیت کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان ممالک کے طرز فکر میں یہ تبدیلی ایک طرف اس خطے میں امریکی اثر رسوخ میں کمی کا باعث ہو گی تو دوسری طرف یہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button