Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

جب حکومت کی ترجیح عوام ہوں

پنجاب میں ماحولیات، صفائی اور عوامی خدمت کے سفر میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کردار

سیاست صرف اقتدار کا نام نہیں، یہ خدمت کا ایک مسلسل امتحان بھی ہے۔ انتخابی نعروں کی گونج وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتی ہے، لیکن عوام کی یادداشت میں وہ حکومتیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے فیصلوں سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری پیدا کرتی ہیں۔ ریاست کی اصل طاقت بلند و بالا عمارتوں یا سرکاری فائلوں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عوام اپنے اداروں پر کرتے ہیں۔پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ یہاں اگر کوئی اصلاح کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے ملک تک محسوس کیے جاتے ہیں، اور اگر یہاں کوئی کمزوری رہ جائے تو اس کی بازگشت بھی قومی سطح پر سنائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنی حکومت کے آغاز ہی سے عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی اور انتظامی فعالیت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ان اہداف کو عملی جامہ پہنانے میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔سرکاری محکموں کی کامیابی صرف بجٹ سے نہیں ہوتی بلکہ وژن، نگرانی اور عملدرآمد سے ہوتی ہے۔ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، جنگلی حیات اور صفائی جیسے شعبے بظاہر سیاسی شہ سرخیوں کا حصہ کم بنتے ہیں، مگر حقیقت میں یہی وہ شعبے ہیں جن کا تعلق براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی، صحت اور مستقبل سے ہے۔آج دنیا موسمیاتی تبدیلی کے ایک غیر معمولی دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی حدت، غیر معمولی بارشوں، خشک سالی، سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ماحولیات کا محکمہ محض ایک سرکاری دفتر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا محافظ بن جاتا ہے۔پنجاب حکومت نے ماحولیات کے شعبے میں اصلاحات، نگرانی اور ادارہ جاتی فعالیت پر خصوصی توجہ دی۔ شجرکاری کو فروغ دینا، آلودگی کے خاتمے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، سموگ جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا اور ماحول دوست پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ایسے اقدامات ہیں جو محض آج نہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔اسی طرح صفائی کے نظام میں بہتری ایک ایسا موضوع ہے جس کا تعلق براہِ راست شہری وقار اور عوامی صحت سے ہے۔ صاف شہر صرف خوبصورتی کی علامت نہیں ہوتے بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان بھی ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے، جدید مشینری کے استعمال، نگرانی کے مؤثر نظام اور عوامی شکایات کے فوری ازالے پر توجہ دی۔ ان اقدامات کا مقصد صرف کچرا اٹھانا نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باوقار اور مطمئن محسوس کریں۔مریم اورنگزیب کی انتظامی حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ اور ادارہ جاتی جوابدہی ہے۔ سرکاری دفاتر کی کارکردگی صرف اجلاسوں سے بہتر نہیں ہوتی بلکہ اس وقت بہتر ہوتی ہے جب متعلقہ وزیر خود میدان میں موجود ہو، منصوبوں کا جائزہ لے اور افسران سے نتائج طلب کرے۔ یہی اندازِ حکمرانی کسی بھی انتظامی ڈھانچے میں جان ڈال دیتا ہے۔جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کا شعبہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ قدرتی وسائل کا تحفظ محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ قومی امانت ہے۔ اگر درخت محفوظ رہیں گے، جنگلات میں اضافہ ہوگا اور قدرتی ماحول برقرار رہے گا تو آنے والی نسلیں بھی ایک متوازن ماحول میں سانس لے سکیں گی۔ اس حوالے سے جاری منصوبے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی حکومت کے لیے تنقید ایک فطری عمل ہے۔ جمہوری معاشروں میں سوال اٹھانا عوام کا حق اور جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاہم مثبت تنقید اور تعمیری تجاویز ہی کسی نظام کو بہتر بناتی ہیں۔ جہاں اچھا کام ہو وہاں اس کا اعتراف بھی قومی ذمہ داری ہے، کیونکہ غیر جانبدار تجزیہ ہی صحافت اور جمہوریت دونوں کا حسن ہے۔مریم اورنگزیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے اپنے محکموں کو محض رسمی انداز میں چلانے کے بجائے انہیں زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی ہے۔ یقیناً ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں، بہت سے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اصلاحات ایک مسلسل سفر کا نام ہیں، کوئی ایک دن کا معجزہ نہیں۔عوام کی توقعات بجا ہیں۔ وہ صاف ماحول بھی چاہتے ہیں، بہتر شہری سہولیات بھی، محفوظ قدرتی وسائل بھی اور ایسے ادارے بھی جو وقت پر کام کریں۔ یہی وہ منزل ہے جس تک پہنچنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور عوام تینوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ایک کامیاب وزیر وہ نہیں ہوتا جو صرف بیانات دے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنے محکمے میں نظم و ضبط، جوابدہی اور کارکردگی کی روایت قائم کرے۔ اگر یہ روایت مضبوط ہوتی ہے تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ صاف فضا، سرسبز ماحول، مؤثر اداروں، بروقت عوامی خدمت اور شفاف حکمرانی سے بھی اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ یہی جدید ریاست کا تصور ہے اور یہی وہ سمت ہے جس کی جانب دنیا بڑھ رہی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حکومتوں کی اصل پہچان ان کے عوامی کردار سے ہوتی ہے۔ اگر عوام کے مسائل کو اولین ترجیح بنایا جائے، اداروں کو جوابدہ رکھا جائے، وسائل کو دیانت داری سے استعمال کیا جائے اور منصوبوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے تو ترقی محض ایک نعرہ نہیں رہتی بلکہ زمینی حقیقت بن جاتی ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے سپرد محکموں کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ یقیناً وقت اور عوام کریں گے، لیکن یہ امر واضح ہے کہ ماحولیات، صفائی، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں کو حکومتی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی شعبے آنے والے پاکستان کی صحت، معیشت اور معیارِ زندگی کا تعین کریں گے۔ اگر اس سفر میں رفتار، شفافیت، میرٹ اور عوامی شمولیت برقرار رہی تو پنجاب نہ صرف انتظامی اصلاحات بلکہ ماحول دوست اور عوام دوست حکمرانی کی بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button