Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

شامِ ملال

آج Switzerland کے بہت پر فضا مقام پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں،بہت اہم پیش رفت ہے اس لئے بھی اہم ہے کہ ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے قارئین کو اس بارے اپنے خیالات سے بھی آگاہی دینی تھی مگر پھر ذہن عتیق صدیقی کی اہلیہ مرحومہ کے ایصال ِ ثواب کے لئے ہونے والی شامِ ملال کی جانب مبذول ہو گیا اور دل کا یہی فیصلہ رہا کہ شامِ ملال کو ہی موضوع بنایا جائے،جب سے عتیق صدیقی کی اہلیہ کی رحلت کی خبر آئی تو دل ملول تھا اس بنا پر بھی کہ میں مرحومہ کی تدفین میں شرکت نہ کر سکا ،یہ مجھ پر فرض تھا اور بوجوہ میں یہ فرض ادا نہ کر سکا،ایک کالم تعزیت کے عنوان سے لکھ کر کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی،عتیق سے فون پر طویل گفتگو ہوئی اور دل کا ملال اور بڑھ گیا،فون پر کی گئی گفتگو ذاتی تھی لہٰذا اس کو گفتگو کا حصہ نہیں بنانا چاہتا،مگر اتنا ضرور کہوں گاکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی بات کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش بھی کریں تووہ بات آپ کو اپنے حصار میں رکھتی ہے چہ جائیکہ وہ بات جس کے حصار میں آپ خود ہی رہنا چاہیں ،یہ کوئی کلیہ تونہیں ،اپنی اپنی ترجیح کی بات ہے،اور اگر یہ آپ کی ذاتی ترجیح ہو اس کی وجہ شائد یہ ہو کہ انسان تادیر غم کی کیفیت میں رہنا چاہتا ہے،کیوں؟ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا،جواب اگر موجود بھی ہو تب بھی جواب سے گریز کیا جاتا ہےایسا کیوں ہوتا ہے اس کی نفسیاتی وجوہات بھی ہیں،عام معمول سے ہٹ کر آپ کبھی تنہائی اور خاموشی چاہتے ہیں اور میں تو کبھی کبھی تنہائی،خاموشی کے ساتھ ساتھ کمرے میں تاریکی بھی چاہتا ہوں شائد اس لمحے کو گمبھیر بنانے کے لئے،یہ لمحے آئے مگر کم آئے ،آئے ضرور،کسی نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو بے چین کئے بغیر فلسفے کو سمجھ نہیں سکتے ،یا پھر خود کو الجھن میں ڈالے بغیر فلسفہ پڑھا نہیں جا سکتا،یا فلسفہ پڑھ کر الجھن بڑھ جاتی ہے،کالج یا یونیورسٹی کے دورمیں محبت بھی فلسفہ بنی رہتی ہے اور ہزار بحث کے باوجود یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ محبت کیوں ہوتی ہے اور جب شعور کو پہنچتے ہیں تو اس بات پر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ڈی کارڈ سے ہیگل تک سارے فلسفی فلسفے میں خدا تلاش کرتے رہے پھر نطشے نے بتایا کہ خدا تو ہے ہی نہیں ،بات کہاں سے کہاں جا پہنچی،بات تو بے وجہ اُداس ہونے کی ہو رہی تھی،بات یہی ہے سب سے اچھی اُداسی بے سبب اُداسی ہے عتیق صدیقی نے اپنی مرحوم اہلیہ کاغم منانے کا بہانہ تلاش کیا ،شامِ ملال کا انتظام کیا،میں وقت پر ہی پہنچ گیا تھا،سیپارہ ختم کیا تو پتہ چلا ہال بھر چکا تھا،لوگ امڈے چلے آ رہے تھے، یہ عتیق کی شخصیت کا سحر تھا،تلاوتِ قرآن سےابتدا، پھر حمد باری تعالی اور نعتِ رسولِ مقبول ،مولانا تصور گیلانی نیو یارک کی ایک مذہبی شخصیت بن چکے ہیں ،اکثرتقاریب میں ان کی شرکت تقریب کو معتبر بناتی ہے ،بڑی محبت سے ملے ،مولانا کو خصوصی دعا کے لئے مدعو کیا گیاتھا، مولانا کا تلفظ اور لہجہ ان کے بیان کو حسین بناتا ہے انہوں نے خوبصورت باتیں کیں ،اور مرحومہ کے لئے دعائےمغفرت کی،عتیق کے دونوں صاحبزدگان اور ان کی اہلیہ نے اپنے دکھ کا اظہار کیا،عتیق کے بھائی نے اپنے خاندان کے بارے میںتفضیل سے بتایاکہ مرحومہ کی خاندان میں کیا قدر و منزلت تھی ،پشتون روایات کیا ہیں،طاہرہ شریف،انجم خلیل،تسنیم بشیر،بشیر قمر اور مامون ایمن بھی مقررین میں شامل تھے ناصر علی سید اور طاہر خان نے عالمانہ باتیں کیں،مقررین میں میرا نام بھی شامل تھامگر وقت کی کمی کے باعث میں بات نہ کر سکا،قارئین کی خدمت میں وہ تحریر پیش کر رہا ہوںخواتین و حضرات ۔پہلے کبھی یہ ہوتا تھا کہ کوئی مر جاتاتو نعش کو گھر پر ہی رکھتے تھے،گھر والے نعش کے پاس ہی بیٹھے رہتے،کبھی کوئی چیخ سسکیاں، آنسوماحول کو ماتمی بنائے رکھتے تھے،پھر سسکیاں،آنسو اور جانے والے کا دکھ قبرستان تک جاتا تدفین ہوتی اور وہی دکھ سسکیوں،اور آنسوؤں کے ساتھ اس گھر میں لوٹ آتااور اسی لاش کو تلاش کرتاجس کو ابھی ابھی دفن کیا گیا تھا، پھر سوگ، پُرسہ اور عزہ داری،اور ایک تسلی۔۔کل نفس ذائقہ الموت، آج ہم بھی اس تعزیتی اجلاس میںسوگ میں ہیں،پُرسے اور عزہ داری کے لئے جمع ہوئے ہیںکہ عتیق صدیقی کا غم سمیٹ لیں،غم سمیٹنے کی کوشش میںہم کہہ رہے ہیںعتیق صدیقی رو مت،صبر کرو،موت تو برحق ہے اور کل نفس ذائقہ الموت،میں عجیب کیفیت میں ہوں بھیڑ کے ساتھ کبھی نہیں چلا تو آج سوچتا ہوں تعزیت کے لئے ادا کئے جانے والے یہ چار جملے وہ باریک سوئیاں ہیں جو ہم تعزیت کے نام پر اس شخص کے سینے میں اتار دیتے ہیںجو سراپا ملال ہوجس کو اپنی خستگی کی بھی خبر نہیں مگر ہر ذی نفس کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ یہ باریک سوئیاں پسماند گان کے سینے میں پیوست کر دیں،مسئلہء جبر و قدر پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں ،مگر دل نے کبھی اس دستاویز پر دستخط نہیں کئے ،موت اس مقام پرکھڑا کر دیتی ہے جہاںایمان متزلزل ہو جاتا ہے،یقین کی لو کپکپانے لگتی ہے
ایک بچہ ماں کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔۔کیسے کہیں۔۔ کل نفس ذائقہ الموت
ایک خوبصورت بیس سال کا جوان جس کے سر سے گولی گزر جائے اس موت پرکس دل سے کہیں۔۔ کل نفس ذائقہ الموت
ایک جوان لڑکی جو سہاگ رات کو بیوہ ہو جائے ۔۔۔وہ زبان کہاں سے لائیں جو کہے ۔۔کل نفس ذائقہ الموت
اور وہ بچہ جو خون کے سرطان سے مر جائے اور اس کی ماں تڑپتی ہو دل کانپ جاتا ہے کہتے ہوئے۔ کل نفس ذائقہ الموت
کتابوں میں لکھا ہے کہ روزِ جزا کے بعد موت کو ذبح کر دیا جائیگامگر جب تک دنیا ہے موت ہے ۔ موت بر حق ہے مگریہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے جنازے اپنی آنکھوں پر اٹھائے گھومتے ہیں ، ان کو دفن کر دیتے ہیں مگر لاش سینے سے لپٹی رہتی ہے،سوگ کی طوالت وہ طے کرے گا جو سوگ میں ہو،جو وقت کی ضربات سے ٹوٹا ہے اسی کو معلوم ہے کہ وہ کہاں کہاں سے ٹوٹا ہے،عتیق صدیقی تعزیت کے نام پر دو آنسو لایا ہوں یہی قبول کر لو ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button