مشرق وسطیٰ !شطرنج کاکھیل ختم

دنیا اس وقت جنگوں، معاشی بحرانوں اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔جنگ اور امن کی آنکھ مچولی آخر کار ختم ہوئی۔شکر خدا کا کہ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے،بس اب دُعا یہ ہے کہ یہ جیتا رہے اور جاگتا رہے تاکہ دُنیا سکھ کی سانس لے سکے۔مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے جنگ، تنازعات اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازعے نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سیاست کو متاثر کیا ، ایسے میں جب بھی امن معاہدے یا جنگ بندی کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آئی ہے تو عالمی سطح پر اسے اُمید کی ایک کرن سمجھا گیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے نے صرف سیاسی حلقوں ہی کو نہیں بلکہ ثقافتی اور سفارتی مبصرین کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جو برسوں کی کشیدگی، دھمکیوں اور محاذ آرائی کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدہ بھی ایک ایسا ہی اہم واقعہ ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دُنیا کے نقشےسے مٹانا چاہتے تھے۔ایرانی تہذیب و ثقافت کو قصۂ پارینہ بنانا چاہتے تھے۔اور وہ اب کل فارسی زبان کے امن معاہدے پر دستخط کررہے تھے اور دُنیا نے دیکھادنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھے جانے والے ملک کا ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنا جس میں دوسرےفریق کی زبان اور ثقافتی شناخت کو تسلیم کیا گیا ہو، محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور ثقافتی پیغام ہے۔ فارسی زبان میں معاہدے پر صدرٹرمپ کے دستخط ثقافتی احترام، سفارتی لچک، اعتماد سازی اور تعلقات میں بہتری کی خواہش کی علامت سمجھنا چاہئے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جو سیاسی اختلافات کے باوجود مکالمے اور امن کے امکانات کو روشن کرتا ہے۔سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ٹرمپ جیسے سخت مؤقف رکھنے والے رہنما کی جانب سے فارسی زبان کا استعمال اس بات کا اظہار ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات طاقت کے ایوانوں کو بھی تہذیب، تاریخ اور قومی تشخص کے سامنے احترام کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ انگریزی اورفارسی ز بان میں یہ معاہدہ قوموں کے کلچرکو سمجھنے مدد سے گا اور ایک دوسرے کے قریب لائے گا،یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو دیا جا سکتا ہے کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات اور امن کی گنجائش موجود ہے۔ سفارت کاری میں ایسے علامتی اقدامات اکثر مذاکرات کی کامیابی اور مستقبل کے تعلقات کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں
بین الاقوامی تعلقات میں زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافتی شناخت اور قومی وقار کی علامت بھی ہوتی ہے۔ ایران اپنی زبان اور ثقافت کی حفاظت کرنا چاہتا ہےاگر ایران کسی اہم بین الاقوامی معاہدے کو فارسی زبان میں مرتب کرنے یا اس پر فارسی متن کو ترجیح دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کا مطلب صرف زبان کا انتخاب نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت، ثقافتی خودمختاری اور قومی وقار کا اظہار بھی ہے۔ایران نے ہمیشہ اپنی زبان، ثقافت اور تہذیبی شناخت کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ فارسی زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کے تاریخی شعور اور قومی وقار کی علامت ہے،فارسی زبان ایران کی تہذیب، تاریخ اور قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ ایران دنیا کی ان چند قدیم تہذیبوں میں شامل ہے جنہوں نے ہزاروں سال کے سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی زبان، ادب اور ثقافت کو محفوظ رکھا ہے۔ فارسی زبان نہ صرف ایران کی سرکاری زبان ہے بلکہ فردوسی، سعدی، حافظ اور مولانا رومی ،شاعرمشرق ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال جیسے عظیم شعرا ءکی ادبی میراث بھی اسی زبان سے وابستہ ہے۔ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو کئی زبانوںپر عبور حاصل تھا مگرانہوں نے غفلت کی نیند میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے ، اپنی تہذیب کی پہچان کروانے ،خود کو منوانے اور اپنی شناخت قائم رکھنے کے لئے فارسی زبان کا استعمال کیا ۔کیونکہ وہ اس کی قدر جانتے تھے۔ فارسی زبان اپنی قدیم پہچان رکھتی ہے اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ اگر سمندر کوکوزے میں بند کرنا ہوتو فارسی زبان سے بہتر اور کوئی زبان نہیں ۔
ڈاکٹر علامہ محمداقبال کا شعر ہے۔
تہران ہو گر عالم ِمشرق کا جنیوا
شاید کرہَ ارض کی تقدیر بدل جائے!
یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت اکثر قومی معاملات میں فارسی زبان کے استعمال کو اہمیت دیتی ہے۔کسی معاہدے کا فارسی زبان میں ہونا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ ایران عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ جدید دنیا کا حصہ ہونے کے باوجود اپنی ثقافتی شناخت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جو قومیں اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت کرتی ہیں، وہ عالمی سطح پر بھی اپنی الگ پہچان برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان کو سرکاری، سفارتی اور بین الاقوامی معاملات میں استعمال کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی تہذیبی خودمختاری کا اعلان کرتی ہے۔پاکستان کو بھی اس طرز عمل پر غور کرنا چاہئے۔ایران دنیا کی ان چند قدیم تہذیبوں میں شامل ہے جنہوں نے ہزاروں سال کے سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی زبان، ادب اور ثقافت کی حفاظت کی۔ زبان کا استعمال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل اہمیت معاہدے کی شقوں، اس پر عمل درآمد اور دونوں ممالک کے عملی اقدامات کی ہوتی ہے۔امن صرف سرحدوں کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ زبانوں، ثقافتوں اور قوموں کے درمیان باہمی احترام سے بھی جنم لیتا ہے۔تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگ اور دھمکیوں کے ذریعے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہوتا۔ آخرکار مذاکرات کی میز ہی وہ جگہ بنتی ہے جہاں دشمنی کے دروازے بند اور امن کے راستے کھلتے ہیں۔اگر ماضی کی تلخیاں مستقبل کی پالیسیوں پر حاوی رہیں تو یہ معاہدہ بھی سابقہ کوششوں کی طرح ناکام ہو سکتا ہے۔مکمل جنگ جتنی مہنگی ہوتی ہے، مکمل امن بھی اتنا ہی آسان نہیں ہوتا۔ اقوام کی دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اختلافات کو جنگ کے میدان کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کریں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ حالیہ معاہدہ اسی امید کا پیغام دے رہا ہے۔



