Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

فیفاورلڈ کپ میں پاکستان نہیں، مگر ہر گول میں اس کی دھڑکن شامل ہے !

امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ کا اسٹیج سج چکا ہے۔ روشنیوں سے بھرے اسٹیڈیم، پرچموں کا سمندر، شائقین کا شور، موسیقی کی گونج، اور دنیا بھر کی نظریں اس ایک گیند پر مرکوز ہیں جو کبھی کسی کھلاڑی کے قدموں میں رقص کرتی ہے، کبھی ہوا میں تیرتی ہے، کبھی جال چومتی ہے اور کبھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن روک دیتی ہے۔ یہ ورلڈ کپ صرف کھیل نہیں، ایک عالمی تہوار ہے، ایک ایسا میلہ جس میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میزبان ہیں، مگر اس کے اندر جنوبی ایشیا کی کہانی بھی چھپی ہوئی ہے، پاکستان کی خاموش موجودگی بھی ہے، نورا فتحی کی چمک بھی ہے، شکیرا کی عالمی شہرت بھی ہے، اور سیالکوٹ کے کاریگروں کے ہاتھوں کی وہ محنت بھی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے میدانوں میں دکھائی تو دیتی ہے مگر اکثر پہچانی نہیں جاتی۔مگر اس بار جب میں نے اس گیند کو دیکھا تو خیال آیا کہ دنیا جس گیند کے پیچھے دوڑ رہی ہے، وہ کسی یورپی یا امریکی شہر میں نہیں بنی۔ وہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بنی ہے، وہی سیالکوٹ جو دنیا کی تقریباً ستر فیصد فٹبالیں بناتا ہے اور جس کے کاریگروں کے ہاتھوں سے گزر کر ورلڈ کپ کی آفیشل گیند میدان تک پہنچتی ہے۔ یہ ایک عجیب منظر ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی قومی ٹیم موجود نہیں، لیکن پاکستان کی بنائی ہوئی گیند موجود ہے۔ دنیا کے بہترین کھلاڑی اسے لات مار رہے ہیں، مگر اس ملک کا اپنا پرچم میدان میں نہیں لہرا رہا۔ یہ صرف کھیل کی کہانی نہیں، یہ ایک قوم کی کہانی ہے۔ورلڈ کپ کے آغاز پر سب سے پہلے سوال یہ اٹھا کہ اس عالمی اسٹیج پر سب سے بڑا پرفارمر کون رہا۔ پہلا خیال شکیرا کی طرف جاتا ہے، کیونکہ شکیرا کا نام ورلڈ کپ کی موسیقی سے برسوں سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی آواز میں وہ عالمی اپیل ہے جو زبان، سرحد اور نسل سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ مگر پھر یوٹیوب اور سوشل میڈیا کی دنیا نے ایک اور حقیقت سامنے رکھی۔ کینیڈا میں نورا فتحی اپنے گانے کے ساتھ اسٹیڈیم میں لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر رہی ہیں، اور سوشل میڈیا پر ان کی پرفارمنس کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوا۔ ایک طرف روایتی عالمی شہرت تھی، شکیرا کی صورت میں، جو ورلڈ کپ کی موسیقی کی تاریخ کا روشن باب ہیں، اور دوسری طرف ڈیجیٹل عہد کی وائرل طاقت تھی، نورا فتحی کی صورت میں، جو نئے زمانے کی اسکرین، الگورتھم اور سوشل میڈیا کی رفتار سے ابھرتی ہوئی عالمی پرفارمر بن کر سامنے آئیں۔جنوبی ایشیا میں بہت سے لوگ نورا فتحی کی کامیابی کو بھارت کی کامیابی قرار دے رہے ہیں، اور یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے اور جزوی طور پر نامکمل بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نورا نے شہرت بالی ووڈ سے حاصل کی، اور ان کی فنی شناخت میں بھارتی فلم انڈسٹری کا کردار اہم ہے۔ بھارت نے انہیں پلیٹ فارم دیا، مارکیٹ دی، شناخت دی۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ نورا فتحی نہ بھارتی نژاد ہیں اور نہ بھارتی پیداوار۔ وہ کینیڈا میں پیدا ہوئیں اور ان کا تعلق مراکشی خاندان سے ہے، اور خود ان کی ورلڈ کپ پرفارمنس کو بھی ایک کینیڈین ہوم کمنگ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں سوال کسی کے کریڈٹ کا نہیں، بلکہ شناخت کی پیچیدگی کا ہے۔ کبھی کبھی شہرت ایک ملک دیتی ہے، جنم دوسرا ملک دیتا ہے، اور خواب کسی تیسرے ملک میں پورے ہوتے ہیں۔ نورا فتحی کی کہانی بھی یہی ہے، بھارت ان کی شہرت میں اپنا حصہ رکھتا ہے، کینیڈا ان کی پیدائش کا حوالہ ہے، مراکش ان کی جڑ ہے، اور فیفا ان کی عالمی پرواز کا اسٹیج ہے۔ یہی آج کی دنیا ہے، شناخت اب ایک لکیر میں قید نہیں رہتی۔لیکن پھر پاکستان کی نمائندگی کیا ہے؟ پاکستان کی نمائندگی اس بار کوئی گلوکار نہیں کر رہا، کوئی ٹیم نہیں کر رہی، کوئی کھلاڑی نہیں کر رہا۔ پاکستان کی نمائندگی ایک گیند کر رہی ہے۔ ایک ایسی گیند جو سیالکوٹ کے مزدور کے ہاتھوں سے نکل کر شکیرا کے گیتوں، نورا فتحی کی پرفارمنس اور دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں کے قدموں تک پہنچی ہے۔ اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے خوبصورت اور سب سے دردناک پہلو بھی ہے۔ یہ صرف ایک گیند نہیں، پاکستان کی صنعتی مہارت کا عالمی تعارف ہے۔ سیالکوٹ کے کاریگر برسوں سے دنیا کو فٹبال دے رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ خاموش ہیں مگر ان کی محنت دنیا کے سب سے شور انگیز میدانوں میں بولتی ہے۔ وہ خود شاید کبھی امریکہ کے اسٹیڈیم نہ دیکھ سکیں، مگر ان کے ہاتھوں کی بنی ہوئی گیند امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے میدانوں میں تاریخ بنا رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان میدان میں نہیں اترتا، مگر میدان پاکستان کی بنائی ہوئی چیز کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔اس بار استعمال ہونے والی جدید اسمارٹ فٹبال صرف چمڑے، ربڑ یا ڈیزائن کا نام نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی، کھیل اور فیصلوں کی درستگی کا ملاپ ہے۔ اس کے اندر سینسر نصب ہیں، جو گیند کی حرکت، ٹچ، رفتار اور لمحہ بہ لمحہ پوزیشن کا ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ یہ گیند صرف کھیلی نہیں جاتی، یہ پڑھتی بھی ہے، بتاتی بھی ہے، اور جدید فٹبال کے فیصلوں میں مدد بھی دیتی ہے۔ سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ ٹیکنالوجی، VAR سسٹم اور گیند کے اندر موجود سینسر مل کر اس کھیل کو ایک نئے دور میں لے جا رہے ہیں۔ یعنی وہ فٹبال جو کبھی گلیوں میں کپڑوں کے گولے سے شروع ہوئی تھی، آج مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے ساتھ ایک اسمارٹ آبجیکٹ بن چکی ہے، اور اس اسمارٹ آبجیکٹ کے دل میں آج بھی سیالکوٹ کے ہاتھوں کی محنت دھڑکتی ہے۔اور یہیں پاکستان کا فخر اور پاکستان کا درد ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ پاکستان فٹبال بناتا ہے، مگر ورلڈ کپ نہیں کھیلتا۔ دنیا پاکستانی گیند سے کھیلتی ہے، مگر پاکستانی ٹیم دنیا کے ساتھ نہیں کھیلتی۔ یہ جملہ صرف طنز نہیں، ایک قومی المیہ ہے۔ پاکستان 1948 سے فیفا کا رکن ہے، مگر آج تک فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔ پاکستان نے کوالیفائرز کھیلے، شکستیں دیکھیں، کبھی کبھی چھوٹی کامیابیاں بھی حاصل کیں، مگر عالمی فٹبال کی اصل میز پر پاکستان کے لیے آج تک کرسی خالی رہی۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہوگا کہ جس ملک کی فیکٹریوں سے ورلڈ کپ کی گیند نکلتی ہے، اسی ملک کے کھلاڑی ورلڈ کپ کے میدان تک نہیں پہنچتے۔جب میں فٹبال کا نام سنتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے لیاری آتا ہے۔ کراچی کا وہ علاقہ جہاں فٹبال صرف کھیل نہیں، ثقافت ہے، فٹبال کا محلہ ہے، فٹبال کا دل ہے۔ وہاں بچے گلیوں میں گیند کے ساتھ ویسے بڑے ہوتے ہیں جیسے دنیا کے دوسرے حصوں میں بچے کتابوں یا کھلونوں کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ وہ گیند کو ایسے چھوتے ہیں جیسے کوئی شاعر لفظ کو چھوتا ہے۔ ان کے پاؤں میں فطری توازن، جسم میں تال، آنکھ میں میدان کا نقشہ، اور دل میں کھیل کا جنون ہوتا ہے۔ لیاری کے نوجوانوں کے قدموں میں وہ مہارت موجود تھی جو کئی قومی ٹیموں کے کھلاڑیوں میں بھی نظر نہیں آتی۔مگر صلاحیت اور نظام دو الگ چیزیں ہیں۔ صلاحیت لیاری میں موجود تھی، نظام اسلام آباد میں غائب تھا۔ لیاری کے بچوں کے پاس جذبہ تھا، گیند تھی، محنت تھی، خواب تھے، مگر ان کے پاس وہ ریاستی ڈھانچہ نہیں تھا جو خواب کو پیشہ بناتا ہے۔ ان کے پاس وہ اسکاؤٹنگ سسٹم نہیں تھا جو گلی کے کھلاڑی کو قومی اکیڈمی تک لے جائے۔ اگر گزشتہ کئی دہائیوں میں فٹبال کو وہی سرکاری سرپرستی، وہی انفراسٹرکچر، وہی اکیڈمیاں اور وہی مالی وسائل ملتے جو دنیا کی کامیاب فٹبال قوموں کو ملتے ہیں، تو شاید آج پاکستان بھی ورلڈ کپ کے کسی گروپ میں کھڑا ہوتا۔ شاید آج دنیا صرف سیالکوٹ کی گیند نہ دیکھتی، لیاری کے اسٹرائیکر، کوئٹہ کے مڈفیلڈر، پشاور کے ونگر اور لاہور کے گول کیپر کو بھی دیکھتی۔ یہ محض ایک خواب نہیں تھا، یہ ایک ضائع شدہ امکان تھا۔ہماری قومی ترجیحات کا مسئلہ یہی رہا ہے۔ ہم ہاتھ کی صنعت کو تو عالمی مارکیٹ تک پہنچا دیتے ہیں، مگر پاؤں کے ہنر کو میدان تک نہیں پہنچاتے۔ ہم گیند بنا لیتے ہیں، کھلاڑی نہیں بناتے۔ ورلڈ کپ میں آج 48 ٹیمیں شامل ہیں، کئی ایسے ممالک بھی کھیل رہے ہیں جن کی آبادی پاکستان کے ایک بڑے شہر سے کم ہے۔ مگر پاکستان اب بھی باہر کھڑا ہے۔ امریکہ میں اس وقت فیفا کا اسٹیج سج چکا ہے۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لوگ بھی اس عالمی میلے کو دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی نژاد امریکی اپنے بچوں کو میچ دکھا رہے ہیں، بھارتی نژاد امریکی نورا فتحی کے وائرل کلپس شیئر کر رہے ہیں، بنگلہ دیشی، نیپالی، سری لنکن اور افغان کمیونٹیز بھی اس جشن کا حصہ ہیں۔ مگر اس پورے منظر میں پاکستانی دل کے اندر ایک عجیب سی کیفیت ہے، خوشی بھی ہے کہ ہماری گیند دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر ہے، اور کسک بھی ہے کہ ہماری ٹیم وہاں نہیں۔ یہ کسک صرف کھیل کی نہیں، قومی سمت کی ہے۔پاکستان اگر چاہے تو فٹبال میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ آبادی ہے، نوجوان ہیں، محنت ہے، لیاری جیسے فٹبال کلچر ہیں، سیالکوٹ جیسی صنعتی طاقت ہے، بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی ہے، اور 48 ٹیموں کے ورلڈ کپ کی وجہ سے راستہ پہلے سے کچھ وسیع بھی ہوا ہے۔ مگر راستہ خود نہیں بنتا، بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے شفاف فیڈریشن، مستقل قومی لیگ، ضلعی سطح کی اکیڈمیز، اسکول فٹبال، خواتین فٹبال، کوچنگ پروگرام، ڈائسپورا ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ، کارپوریٹ اسپانسرشپ اور حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔نورا فتحی کی کامیابی بتاتی ہے کہ عالمی اسٹیج پر پہنچنے کے لیے صرف پیدائش کافی نہیں، پلیٹ فارم چاہیے۔ شکیرا کی کامیابی بتاتی ہے کہ ورلڈ کپ صرف کھیل نہیں، ثقافت بھی ہے۔ اور پاکستان کی فٹبال بتاتی ہے کہ محنت اگر صحیح جگہ پہنچ جائے تو دنیا اسے قبول کرتی ہے، مگر لیاری کی محرومی بتاتی ہے کہ ٹیلنٹ اگر نظام سے محروم ہو جائے تو وہ گلیوں میں بوڑھا ہو جاتا ہے۔تو جب آپ آج ورلڈ کپ کا کوئی میچ دیکھیں، شکیرا کا گیت سنیں، نورا فتحی کی پرفارمنس پر تالیاں بجائیں یا کسی سپر اسٹار کا شاندار گول دیکھیں، تو ایک لمحے کے لیے اس گیند کو بھی یاد کیجیے۔ ممکن ہے وہ گیند کسی سیالکوٹی کاریگر نے اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہو۔ ممکن ہے اس پر لگنے والی آخری سلائی کسی ایسے شخص نے لگائی ہو جس نے کبھی پاسپورٹ بھی نہ دیکھا ہو۔ اور ممکن ہے کہ اس گیند کے اندر پاکستان کی وہ صلاحیت چھپی ہو جو ابھی تک اپنے لیے میدان تلاش کر رہی ہے۔ یہی پاکستان کا المیہ بھی ہے اور یہی اس کی امید بھی۔ورلڈ کپ کے میدان میں جب اگلا گول ہوگا، جب کمنٹیٹر چیخے گا، جب شائقین اٹھ کھڑے ہوں گے، جب کیمرہ گیند کا تعاقب کرے گا، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس لمحے میں پاکستان بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے، شاید کسی برانڈ لوگو کے پیچھے، شاید کسی سینسر کے اندر، شاید کسی سلائی میں، شاید کسی کاریگر کی انگلیوں کے نشان میں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب گیند کے اندر سے نکل کر میدان میں آئے گا؟ کب سیالکوٹ کی فیکٹری اور لیاری کی گلی ایک قومی خواب میں بدلیں گی؟ کب پاکستان صرف فٹبال سپلائر نہیں، فٹبال نیشن بنے گا؟ کب دنیا پاکستانی گیند سے پاکستانی گول بھی دیکھے گی؟یہ ورلڈ کپ پاکستان کے لیے صرف فخر کا لمحہ نہیں، آئینہ بھی ہے۔ اس آئینے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کیا بنا سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ ہم کیا گنوا چکے ہیں۔ ہم دنیا کو فٹبال دے سکتے ہیں، مگر اپنے بچوں کو میدان نہیں دے سکے۔ ہم عالمی معیار کی گیند بنا سکتے ہیں، مگر عالمی معیار کا فٹبال نظام نہیں بنا سکے۔ پھر بھی امید باقی ہے، کیونکہ جس ملک کے ہاتھ دنیا کی بہترین فٹبال بنا سکتے ہیں، اس ملک کے پاؤں بھی ایک دن دنیا کے بہترین میدانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ریاست، فیڈریشن، کارپوریٹ ادارے اور قوم مل کر فٹبال کو محض کھیل نہیں، قومی امکان سمجھیں۔امریکہ میں فیفا کا اسٹیج سج چکا ہے۔ دنیا کھیل رہی ہے۔ شکیرا گا رہی ہے۔ نورا فتحی وائرل ہو رہی ہے۔ پاکستانی گیند میدان میں ہے۔ اب صرف پاکستانی ٹیم کا انتظار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button