Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پنجاب حکومت 5ہزاد131ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرے گی

لاہور( آصف اقبال )
پنجاب حکومت آج آئندہ مالی سال کاپانچ ہزار ایک سواکتیس ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرے گی جس میں ترقیاتی، سماجی اور فلاحی شعبوں کے لیے اہم اعلانات متوقع ہیں،ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو ترقیاتی بجٹ میں مالی رعایت دینے کے بعد پنجاب کے ترقیاتی اخراجات کا حصہ سنتالیس فیصد تک محدود رہ گیا ہے، پنجاب حکومت وفاق کو اب تک پانچ سوستر ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے،بجٹ تخمینوں کے مطابق پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں تین ہزار سات سوترانوے ارب ستر کروڑ روپے ملنے کا امکان ہے جبکہ صوبائی محصولات سےایک ہزار تین سوتیس ارب روپے آمدن متوقع ہے،وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں سات فیصد اضافہ متوقع ہے، تنخواہوں کیلئے چھ سوپچاس ارب روپے اور پنشن کی مد میں پانچ سوپانچ ارب اسی کروڑ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پنجاب فنانس کمیشن کیلئےآٹھ سو ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،ترقیاتی اور فلاحی شعبوں میں بھی بڑے اعلانات متوقع ہیں، سماجی تحفظ کیلئے پچیس ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے ایک سوپچاس ارب روپے جبکہ آپریشنل اخراجات کے لیے پانچ سواسی ارب بیس کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے،دوسرے ترقیاتی و سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے پانچ سوستر ارب روپے اور بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کیلئےچون ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، مجموعی طور پر صوبائی اخراجات کا تخمینہ تین ہزار پانچ سوانہتر ارب ساٹھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے،صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر چھ سواسی ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جس میں مفت


ادویات کیلئےسو ارب روپے بھی شامل ہیں، کینسر اور فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی فنڈز بھی رکھے جائیں گے،تعلیم کے شعبے کے لیےنوسو ارب روپے سے زائد بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل اسکیمیں بھی بجٹ کا حصہ ہوں گی، ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے بیس ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے،وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دوسوارب روپے سے زائد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، رمضان پیکج کے لیے پینتس ارب روپے اور سبسڈی کی مد میں اسی ارب روپے سے زائد مختص کرنے کا امکان ہے۔یونیورسٹی گرانٹس کے لیے اٹھارہ ارب روپے جبکہ کسان کارڈ کے لیے دس ارب روپے، ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے تین ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،بجٹ میں حکومت کی ترجیح ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، سماجی تحفظ کے فروغ اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری قرار دی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button