
نیویارک کے میئرظہران ممدانی نے نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن کے کمشنر سیموئیل اے اے لیوائن کے ہمراہ ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق شہر کی جانب سے ایپ پر کام کرنے والے ڈلیوری پلیٹ فارمز کی گمراہ کن ٹِپنگ پالیسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں رواں سال جنوری سے اب تک ڈلیوری ورکرز کو اندازاً 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اضافی ٹپس کی صورت میں مل چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 26 جنوری 2026 سے نئی ٹِپنگ حفاظتی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد ڈلیوری ورکرز کو ملنے والی ٹپس میں دو گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں کام کرنے والے تقریباً 70 ہزار ایپ بیسڈ ڈلیوری ورکرز اب سالانہ بنیاد پر مجموعی طور پر 18 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر اضافی ٹپس حاصل کرنے کی راہ پر ہیں، جو اوسطاً ہر ورکر کے لیے سالانہ 2 ہزار 287 امریکی ڈالر اضافی آمدنی بنتی ہے۔میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ برسوں تک مختلف ڈلیوری ایپس نے ٹِپ دینے کے آپشن کو اس انداز میں چھپا کر رکھا کہ صارفین کے لیے اسے استعمال کرنا مشکل ہو جاتا تھا، تاکہ کمپنیاں اپنے منافع میں اضافہ کر سکیں، جبکہ اس کا نقصان ڈلیوری ورکرز کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے قانون تبدیل کیا، اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا، اور اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دوبارہ ان محنت کشوں کی جیبوں میں پہنچ چکے ہیں جو دھوپ، بارش اور ہر موسم میں اس شہر کے لوگوں تک کھانا پہنچاتے ہیں۔ نیویارک اب اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ محنت کشوں کا حق مار کر اپنے منافع میں اضافہ کریں۔”اقتصادی انصاف کی ڈپٹی میئر جولی سو نے کہا کہ جب کوئی صارف ٹِپ دیتا ہے تو وہ رقم صرف اور صرف ڈلیوری ورکر کی ملکیت ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایپ کمپنی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس کارکن کا حق ہے جو کئی منزلیں سیڑھیاں چڑھ کر یا بارش میں سائیکل چلا کر لوگوں تک ان کا کھانا پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق جنوری سے اب تک نیویارک سٹی کے ڈلیوری ورکرز کو 10 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر اضافی اس لیے ملے کیونکہ شہر نے ان کمپنیوں کو قانون کی پابندی پر مجبور کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی انتظامیہ یہ کارروائیاں جاری رکھے گی اور ہر اس پلیٹ فارم کے خلاف کارروائی کرے گی جو اپنے کارکنوں کو ان کا جائز حق دینے سے گریز کرے گا۔



