Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

الطاف حسین کا بڑھا ہوا ہاتھ، فیلڈ مارشل کا فیصلہ اور کراچی کی منتظر سیاست !

کچھ شہر صرف نقشے پر نہیں ہوتے، وہ لوگوں کے سینوں میں بھی بستے ہیں۔ کراچی ایسا ہی شہر ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس نے ان لاکھوں انسانوں کو پناہ دی جو 1947 کے طوفان میں سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے، صرف ایک خواب لے کر کہ یہاں ان کی آواز سنی جائے گی، یہاں ان کی شناخت کا احترام ہوگا، یہاں وہ اجنبی نہیں ہوں گے۔ مگر تاریخ نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی المیے سے کم نہ تھا۔جو مہاجر اس سرزمین پر آئے، انہوں نے صرف ہجرت نہیں کی بلکہ اپنے خواب، اپنی صلاحیتیں اور اپنی جوانیاں بھی اس نئی ریاست کی تعمیر کے لیے وقف کر دیں۔ انہوں نے پاکستان کی بنیادوں میں اپنا لہو ملایا، اردو زبان کو قومی شناخت کا حصہ بنایا، بیوروکریسی سنبھالی اور ریاستی اداروں کو استحکام دیا، تجارت اور صنعت کی رگوں میں جان ڈالی، اور ایک نوزائیدہ ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی بڑی طاقت میرٹ، تعلیم اور محنت تھی۔ انہوں نے اقربا پروری کے بجائے قابلیت اور کارکردگی کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی طبقہ خود کو ریاستی پالیسیوں کے حاشیے پر محسوس کرنے لگا۔ کوٹہ سسٹم نے ان کے بچوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود کر دیے، سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ سکڑتا چلا گیا، اور سیاسی نمائندگی کا سوال ہر انتخاب کے ساتھ ایک تازہ زخم کی صورت ابھرتا رہا یہ احساسِ محرومی آہستہ آہستہ ایک اجتماعی بے چینی میں تبدیل ہونے لگا اسی پس منظر میں ایک نوجوان الطاف حسین نے کراچی اور حیدرآباد کی گلیوں سے وہ آواز بلند کی جو لاکھوں دلوں میں برسوں سے دبی ہوئی تھی۔ 1978 میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) اور پھر 1984 میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا قیام محض ایک سیاسی جماعت کا ظہور نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے طبقے کے اجتماعی احساسات، مطالبات اور بے چینی کا اظہار تھا جو بالآخر ایک منظم سیاسی قوت کی شکل اختیار کر گیا۔1988 سے لے کر کئی دہائیوں تک کراچی اور حیدرآباد کے بیشتر حلقوں میں ایم کیو ایم نے جو انتخابی طاقت دکھائی وہ محض تنظیمی مہارت کا نتیجہ نہ تھی، وہ طاقت اس یقین سے پیدا ہوئی تھی کہ پہلی بار کسی نے ان کی تکلیف کو نام دیا، پہلی بار کوئی ان کا اپنا بول رہا تھا۔ ناقدین نے ہمیشہ اس جماعت پر تشدد اور لسانی سیاست کے الزامات لگائے، اور یہ الزامات بعض اوقات حقیقت سے مکمل طور پر خالی بھی نہ تھے۔ مگر ایک سوال ایسا ہے جس پر کم ہی غور کیا گیا: جب ایک طبقے کو ریاست مسلسل طاقت اور جبر کی زبان میں جواب دے تو وہ مکالمے کی زبان کہاں سے سیکھے؟ اور جب نمائندگی کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں تو کیا احتجاج ہمیشہ پھولوں اور خاموش نعروں کی زبان میں کیا جا سکتا ہے؟ویسے اگر ایم کیو ایم واقعی ایک دہشت گرد تنظیم تھی تو وہ آج تک کراچی کے عوام کے دلوں میں زندہ کیوں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ چار دہائیوں سے نہیں دے سکی۔ 1992 میں آپریشن کلین اپ کا آغاز ہوا، رینجرز کے بوٹ شہر کی گلیوں میں اترے، نائن زیرو کو گھیرا گیا اور کارکنوں کو اٹھایا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1996 میں دستاویز کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کی بڑی تعداد لاپتہ ہوئی یا طویل عرصے تک انکمیونیکیڈو حراست میں رکھی گئی اور ایسے افراد پر تشدد کا خطرہ بطور خاص زیادہ تھا۔ مگر جتنا دباؤ بڑھا اتنا ہی ووٹ بھی بڑھتا رہا۔ 2013 کا آپریشن آیا، 2016 کا نائن زیرو چھاپہ آیا، الطاف حسین کو لندن میں محاصرے میں لیا گیا۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران اس کے دو سو سے زائد کارکنان لاپتہ ہوئے۔ ان میں سے بعض زندہ واپس آئے، بعض کی تشدد زدہ لاشیں سندھ کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں، جبکہ بہت سے افراد آج بھی لاپتہ شمار ہوتے ہیں۔ ناقدین اکثر ایم کیو ایم پر مہاجر قوم پرستی کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم جماعت کا مؤقف ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف نسلی پس منظر جس میں سندھی اور پشتو بولنے والے افراد کو نمائندگی ملی، اور کئی مواقع پر انہیں اہم تنظیمی اور انتخابی عہدوں تک بھی پہنچایا گیا۔ستمبر 2025 میں بھی ایم کیو ایم کے دو سینئر رہنما، نثار احمد پنہور اور انور خان ترین، کراچی سے لاپتہ ہوئے، ( واضح رہے کہ نثار احمد پنہور سندھی ہیں اور انور خان ترین پشتون ہیں ) جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ نثار احمد پنہور کے اہلِ خانہ کے مطابق یہ ان کا پانچواں مبینہ اغوا تھا۔ ان کے بیٹے نے مؤقف اختیار کیا کہ بعد ازاں انہیں بھی حال ہی میں حراست میں لیا گیا ہے اور عید الفطر سے اب تک دونوں کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہ آ سکیں۔نثار احمد پنہور سندھی ہیں۔ وہ متحدہ کے دور میں صوبائی وزیر اور رکنِ قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں اور ان کی عمر اسوقت تقریباً پینسٹھ برس ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا واحد “قصور” الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے سیاسی وابستگی اور قربت ہے۔ بہرحال، ان جیسے واقعات نے شہری سندھ میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو ایک بار پھر سیاسی اور انسانی حقوق کے مباحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ زندہ انسانوں کی داستانیں ہیں۔ باپ بیٹوں کے سامنے اٹھائے گئے، بہنوں نے عدالتوں میں درخواستیں دیں اور قانون نافذ کرنے والوں نے انہیں دھمکیاں دیں، پھر بھی کراچی کا وہی طبقہ ہر بار ایم کیو ایم کے حق میں کھڑا ہوتا رہاہے۔ مجھے نہیں پتہ کیا یہ دہشت گردی کی محبت تھی؟ یا یہ اس درد کا اظہار تھا جو ریاست نے خود پیدا کیا؟کیونکہ باوجود اسکے کراچی کا ایک بڑا طبقہ ہر انتخاب میں ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑا نظر آتا رہا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ محض ایک سیاسی جماعت سے وابستگی تھی، یا پھر اس احساسِ محرومی اور درد کا اظہار جسے اس طبقے نے برسوں اپنے ساتھ جڑا ہوا محسوس کیا ہے ؟ شاید حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے،میں ایم کیو ایم کا ناقد ضرور رہا ہوں، مگر یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جن لوگوں پر تشدد، بھتہ خوری اور جرائم کی سیاست کے الزامات عائد کیے جاتے تھے، ان میں سے بڑی تعداد آج انہی گروہوں کا حصہ ہے جنہیں ریاستی سرپرستی اور سیاسی گنجائش میسر ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی نے انہیں وہ مواقع فراہم کیے ہیں جن کا عام کارکن صرف تصور ہی کر سکتا ہے۔ انہیں بھی بخوبی علم ہے کہ عوام میں ان کی جڑیں گہری نہیں ہیں اور ان کی سیاسی حیثیت زیادہ تر سرکاری سہاروں کی مرہونِ منت ہے، اس لیے وہ موجودہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ کراچی جس سیاسی، انتظامی اور سماجی بحران کا شکار ہے، اس کی ذمہ داری سے یہ حلقے بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔اس کے برعکس وہ لوگ جو تمام تر دباؤ، ترغیبات اور پابندیوں کے باوجود اپنی اصل قیادت کے ساتھ وابستہ رہے، ان کے حصے میں اکثر مقدمات، گرفتاریوں، سیاسی محرومیوں اور لاپتگیوں کی داستانیں آئیں۔ یہی تضاد اس پوری کہانی کا سب سے اہم اور شاید سب سے تلخ پہلو ہے۔تاریخ میں ایسے بہت کم رہنما ملتے ہیں جن کے خلاف ریاست کی پوری مشینری لگ جائے، جنہیں دہشت گرد قرار دیا جائے، جن کے ہزاروں کارکنوں کو قید کیا جائے یا غائب کیا جائے، جن کا ہیڈکوارٹر مسمار کیا جائے، جن کی آواز پر پابندی لگائی جائے، مگر پھر بھی ان کے نام پر لاکھوں آنکھیں نم ہو جائیں۔ الطاف حسین انہی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جن کے سحر کو آج تک توڑا نہ جا سکا۔ 2022 میں برطانیہ کی عدالت نے انہیں بری کیا اور یہ بریت صرف قانونی فیصلہ نہیں تھی، یہ ان لاکھوں لوگوں کے لیے ایک اخلاقی تصدیق تھی جو یہ مانتے تھے کہ الطاف حسین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگست 2025 میں جب انہوں نے تقریباً 47 برس کے سفر کے بعد اپنی جماعت تحلیل کی اور وجہ یہ بتائی کہ خاندان پر جبر جاری رہا، کارکنوں کو ستایا جاتا رہا، مہاجروں کے حقوق نہ مل سکے اور پاکستان کا سخت نظام نہیں بدلا تو یہ شکست کا اعلان نہ تھا، یہ ایک زخمی مگر باوقار انسان کی آہ تھی۔مگر اسی زخمی انسان کی طرف سے آج صلح کا ہاتھ بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے فوجی قیادت خصوصنا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ باعزت اور ایمانداری پر مبنی مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، قومی مصالحت کا فارمولا پیش کیا ہے اور ماضی کی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ نئے سماجی معاہدے کی بات کی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی اپیل بھی کی ہے، وہی فیلڈ مارشل جن کے ادارے نے دہائیوں تک ان کی جماعت کے کارکنوں کے خلاف آپریشن کیا۔ یہ تضاد نہیں، یہ ایک گہری سیاسی پختگی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے سینکڑوں کارکنان لاپتہ ہوئے، جس کے خاندان کے افراد قتل کیئے گئے، جس کا دفتر گرایا گیا، جسے پاکستان میں تحریر وتقریر کی آذادی نہیں، جسے وطن سے ہزاروں میل دور جلاوطنی میں رہنے پر مجبور کیا گیا، وہ آج بھی صلح کی زبان بول رہا ہے۔ یہ کمزوری نہیں، یہ پاکستان سے ایک ایسی محبت کی علامت ہے جو تمام زخموں کے باوجود ٹھنڈی نہیں پڑی۔اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے ایک تاریخی آئینہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ جس شخصیت نے امریکہ اور ایران کے درمیان صلح میں بھرپور کردار ادا کیا، جن کی ثالثی نے ایک ممکنہ جنگ کو روکا اور جن کا نام آج عالمی سطح پر امن کے حوالے سے لیا جاتا ہے، کیا وہ اپنے ہی ملک کے اس محروم طبقے کے دلوں کا زخم نہیں بھر سکتے؟ ایم کیو ایم الطاف یہ نہیں مانگ رہے کہ فارم 47 کے ذریعے انہیں منتخب کرایا جائے، وہ درست جمہوری عمل کے تحت اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، وہ ریاست کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتے ہیں، تو پھر یہ دوری کیوں؟ کراچی کے لاپتہ کارکنوں کو واپس لانا، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا اور شہری سندھ کے مظلوم طبقے کو جمہوری عمل میں برابری کی بنیاد پر شامل کرنا، یہ کام اگر اس دور میں ہوئے تو تاریخ اسے نوبل امن انعام سے بھی بڑے اعزاز سے نوازے گی۔میں نے چار دہائیوں کی صحافت میں یہ دیکھا ہے کہ سیاسی جماعتیں کمزور ہو سکتی ہیں، تقسیم ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ منظرنامے سے غائب بھی ہو سکتی ہیں، مگر وہ سوالات نہیں مرتے جو انہیں جنم دیتے ہیں۔ کراچی کا شہری آج بھی شناخت کے لیے لڑتا ہے، اردو بولنے والے طبقے کا یہ احساس کہ فیصلے ان کے بغیر ہوتے ہیں آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا پینتالیس سال پہلے تھا، اور اگر ایک آواز کو خاموش کر دیا جائے تو وقت کے ساتھ کوئی دوسری آواز اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے سامنے آ جاتی ہے۔ مگر یہ خلا ابتک کوئی پر نہ کرسکا ، قومیں صرف زخم گن کر آگے نہیں بڑھتیں، ایک وقت آتا ہے جب مرہم رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔شاید وہ وقت آ گیا ہے۔ شاید تاریخ ایک بار پھر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ آج، تمام تلخیوں، فاصلے اور ماضی کے زخموں کے باوجود، الطاف حسین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب غیر مشروط طور پر دوستی اور مصالحت کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ یہ ہاتھ کسی شکست خوردہ شخص کا نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی رہنما کا ہاتھ ہے جو اپنے حامیوں کے دکھ، اپنے کارکنوں کی قربانیوں اور اپنی طویل جلاوطنی کے باوجود مکالمے اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل میں کیا ہونا چاہیے۔ شاید تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوگا کہ وہ فیلڈ مارشل، جن کا نام آج دنیا بھر میں امن، مصالحت اور سفارتی کامیابیوں کے حوالے سے لیا جا رہا ہے، اپنے ہی وطن کے ایک محروم اور شاکی طبقے کی جانب سے بڑھائے گئے ہاتھ کو تھامنے سے گریز کریں۔کیونکہ قوموں کی عظمت صرف میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی فتوحات سے نہیں ناپی جاتی، نہ ہی صرف بیرونی محاذوں پر حاصل کی گئی کامیابیوں سے ان کا مقام متعین ہوتا ہے۔ قوموں کا اصل قد اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر کے زخم کتنی حکمت، فراخ دلی، انصاف اور بصیرت کے ساتھ بھرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو زیادہ احترام سے یاد رکھتی ہے جو دشمنوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی لوگوں کے دل بھی جیت لیتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button