کب پھٹے گا یہ آتش فشاں؟!

یہ کالم 10 مئی کو تحریر کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں تو اس وقت گیارہ مئی کا دن شروع ہوچکا ہے لیکن 10 مئی کو اسلام آباد میں ایک شاندار پریڈ کا اہتمام کیا گیا تھا اس فتح کا جشن منانے کیلئے جو سرکاری بیانیہ کے مطابق ایک برس پہلے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیکر پاکستان کا حالیہ تاریخ میں رقم کی گئی تھی!اس پاکستانی سرکار کے اعلان کے بموجب جو پاکستانی قوم کی بھاری اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتی اور اپنی بقاء کیلئے صرف اور صرف عسکری قیادت کی مرہونِ احسان ہے اس برس کے بعد ہر سال 10 مئی کو معرکہء حق کے عنوان سے منایا جائے گا اور جس پیمانے پر اس برس اس کو منایا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ قرینِ قیاس ہے کہ یومِ پاکستان، تئیس مارچ، اور یومِ استقلال یا یومِ آزادی، یعنی چودہ اگست کو جو پریڈ ہوا کرتی تھی اس سے بدرجہ وسیع پیمانے پر اس پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا!اس لئے کیا جائے گا کہ عمران خان کی عوامی اکثریت اور تائید کی حامل حکومت کا عسکری قیادت کی سرپرستی میں تختہ الٹنے کے بعد سے عسکری طالع آزماؤں کا آفتابِ اقبال، بقول شخصے، نصف النہار پر چمک رہا ہے۔ہماری اُردو زبان کا حسن اسے کہنا چاہئے کہ ایسی صورتِ حال کو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں ابنِ فلاں کے مقدر کا سورج تو سوا نیزےپہ آگیا ہے!سو سوا نیزے پر سورج فی زمانہ پاکستان میں، جسے میں وطنِ مرحوم کہتا ہوں، اور یوں کہتا ہوں کہ زندگی کی وہ لہر جو ایک زندہ و تابندہ قوم میں ہونی چاہئے وہ مجھے اپنی قوم میں دکھائی نہیں دیتی۔ یوں لگتا ہے کہ میری قوم کا سکھ اور چین عسکری طالع آزماؤں کی ہوسِ اقتدار اور جہانگیری کی نہ مٹنے والی بھوک نے جیسے سلب کرلیا ہے، اسے بیدردی اور دیدہ دلیری سے چرا لیا ہے !تو سوا نیزے پر آفتاب موجودہ پاکستان میں یا تو عاصم منیر کیلئے آگیا ہے یا ان پیشہ ور بے ضمیر سیاسی گماشتوں کیلئے، مثال کے طور پہ کٹھ پتلی وزیرِ اعظم (جسے وزیرِ اعظم کہنا اس منصب اور قوم کی عزتِ نفس کی توہین اور بے حرمتی ہے) شہباز شریف اور اس کے اتنے ہی بے ضمیر اور چھٹ بھئیے ساتھیوں کیلئے جو مسندِ اقتدار پہ بندروں کی طرح اچھل کود رہے ہیں، آگیا ہے!تو اسلام آباد کے جشنِ معرکہء حق، جسے پچھلے برس بنیانِ مرصوص، یا سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا نام دیا گیا تھا، میں جو نام بار بار لیا گیا وہ عاصم منیر کا تھا جو بلاشبہ آج پاکستان کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہے۔عمران خان کی منتخب حکومت کو گرانے کی سازش کا سرغنہ اس وقت کا سپہ سالار قمر باجوہ تھا اور اس نے یہ قبیح فعل، جسے مستقبل کا غیر جابندار مورخ قوم اور ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا نام دے گا، اپنے سامراجی اور استعماری آقاؤں کیلئے سر انجام دیا تھا اسلئے کہ سامراج کی نگاہ میں عمران خان ایک غلام قوم کا سربراہِ حکومت ہوتے ہوئے بھی اتنی جراءت اور حوصلہ رکھتا تھا کہ استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکے کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی غیر ملکی طاقت کو اپنے مفادات کے فروغ کیلئے کوئی فوجی اڈہ نہیں دیا جائے گا اسلئے کہ آئینِ پاکستان کی روح سے پاکستان مملکتِ خداد ہے اور اس پر اقتدارِ اعلیٰ اللہ کا ہے جسے پاکستان کے عوام اور جمہور کو اللہ کی نمائندگی کرتے ہوئے استعمال کرنے کا منصب سونپا گیا ہے !
پاکستان کی داغدار تاریخ میں کسی جمہوری حکومت نے پاکستان کی مقدس سرزمین کو غیر ملکی مفادات کیلئے رہن نہیں رکھا۔ ملت فروشی کا اعزاز اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف عسکری طالع آزماؤں کا ہے!
پاکستان کا پہلا عسکری طالع آزما، جنرل ایوب خان تھا جو عاصم منیر ہی طرح خود ساختہ فیلڈ مارشل ہوگیا تھا۔ استعمار کی سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کے پہلے جمہوری وزیرِ اعظم قائدِ ملت لیاقت علی خان کے قتل کی سازش میں ایک بڑا عنصر ان کا سامراج کو پاکستان میں فوجی اڈے دینے سے انکار تھا، اسی طرح جیسے عمران خان نے قائدِ ملت کی پیروی کرتے ہوئے واشگاف انکار کیا تھا سامراج کو پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کے کسی ممکنہ مطالبہ پر!
قائدِ ملت کو شہید کردیا گیا، یا کروایا گیا، لیکن ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد فورا” پشاور کےباہر، بڈا بیر کا اڈہ امریکہ کے حوالے کردیا !جنرل ضیا الحق نے اپنی آمریت میں اس وقت کے امریکی صدر سے باقاعدہ سودے بازی کی اور پھر فخر کیا کہ انہوں نے امریکی فوجی اڈوں کی معقول رقم پاکستان کیلئے امداد کے طور پہ وصول کی!ملت فروشی کی اس تاریخ کو تیسرے طالع آزما، جنرل مشرف نے بھی اپنے دورِ عسکری آمریت میں زندہ رکھا اور اس بے شرمی سے اس سیاہ تاریخ کو دہرایا کہ جو عالمی جنگ مبینہ دہشت گردی کے خلاف سامراجی طاقت نے شروع کی تھی اس میں چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ پاکستان کی سرزمین پر قائم امریکی فوج اڈوں پر پاکستان کے کسی عام شہری کا داخلہ تو درکنار پاکستانی فوج کے افسروں کو بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی!لیکن موجودہ عسکری طالع آزما اور آمرِ وقت، عاصم منیر اپنی طالع آزمائی میں اپنے تمام پیشروؤں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے!تمام سابقہ عسکری طالع آماؤں کی طرح عاصم منیر بھی سامراجی مفادات کو ملکی اور قومی مفادات پر ترجیح دینے میں پیش پیش ہے۔ ایوب خان کی مانند اس نے بھی خود کو فیلڈ مارشل کے عہدے پرترقی دے لی ہے لیکن اپنے سے پہلے ہونے والے عسکری طالع آزماؤں پر بازی لیجاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو تاحیات ہر قانون اور جوابدہی سے مستثنیٰ کرلیا ہے۔ اب کسر صرف یہ رہ گئی ہے کہ یہ طالع آزما کسی دن منصبِ صدارت پر بھی خود کو فائز کرلے اور یہ اعلان کرے کہ اس کی صدارت بھی تا حیات ہوگی!قمر باجوہ نے عمران کے خلاف سازش کا تانا بانہ سامراجی آقاؤں کے حکم پر ترتیب دیا تھا۔ بظاہر اس کی کوئی ذاتی دشمنی عمران سے نہیں تھی بلکہ عمران کے دورِ اقتدار کا جب جائزہ لیا جائے تو خود عمران خان نے یہ قبول کیا کہ اس کی سب سے فاش اور بڑی غلطی قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کی تھی!عاصم منیر کو عمران کی ذات سے عناد ہے اور وہ اپنی ذاتی دشمنی کو یوں ہوا دے رہا ہے کہ پاکستانی قوم کے سب سے مقبول سیاسی اور ملی رہنما کو اس نے جھوٹے مقدمات میں موردِ الزام قرار دیکر گذشتہ ایک ہزار دن سے بھی زیادہ ہوگئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا ہوا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ مقدمات فرضی اور من گھڑت ہیں بلکہ اس شاطر عاصم منیر کے ایماء پر عمران کو قیدِ تنہائی کی صعوبت جھیلنے کی سزا بھی مل رہی ہے!عاصم منیر انسانی حقوق اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے میں ہر سابقہ پاکستانی عسکری طالع آزما کو میلوں پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس ایک حقیقت سے اندازہ ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کا پوری سیاسی نظام اس یزیدِ وقت نے یرغمالی بنایا ہوا ہے!پاکستان کی قوم عسکری طالع آزما کی چیرہ دستیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے اعلیٰ عدلیہ کی طرف دیکھا کرتی تھی اس کے باوجود کہ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس منیر نے سیاسی طالع آزما گورنر جنرل غلام محمد کے غیر قانونی اقدام کو جائز قرار دیا تھا اور بعد میں عسکری طالع آزماؤں نے جسٹس منیر کی ایجادِ بندہ، "نظریہء ضرورت” سے بھرپور استفادہ کیا اور باربار کیا!لیکن اعلیٰ عدلیہ نے اپنی آزادی کا اظہار بھی کیا، ثبوت بھی دیا، جب جسٹس افتخار کی سربراہی میں عسکری طالع آزما جنرل مشرف کی 2007ء کی ایمرجنسی کو غیر قانونی ٹہرایا گیا اور مشرف کی اقتدار سے محرومی کی راہ اس عدالتی فیصلے نے ہموار کی!سو شاطر عاصم منیر نے اپنے تاحیات اقتدار کیلئے پہلے سے پیش بندی کرلی ہے تاکہ، اس کی دانست میں، اس شاطر کی آمریت اور بالا دستی کو کوئی خطرہ نہ لاحق ہوسکے!پاکستان کی عدلیہ آج پوری طرح عاصم منیر کی آہنی گرفت میں ہے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے جی ایچ کیو کی طرف دیکھتی ہےکہ وہاں جو عسکری یزیدی ٹولہ پورے ملک کو اپنی ہوسِ اقتدار کا غلام بنائے ہوئے ہے اس کی رضا کیا ہے!پاکستان میں انسانی حقوق کی پائمالی کا یہ عالم ہے کہ 8 مئی جو دنیا بھر میں عورت کے حقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے اس دن بھی پاکستانی خواتین کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن آفرین ہے پاکستان کی بہادر خواتین پر کہ انہوں نے آمریت کے اس ظالمانہ فیصلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کراچی میں جلوس نکالا جبکہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ، پنجاب میں سناٹے کا عالم رہا کیونکہ وہاں ایک رانی مسلط ہے جو پاکستان کے ایک رسوائے زمانہ سیاسی خاندان کی وارث ہے اور سب سے بڑھ کر جسے عسکری یزیدِ وقت کی بھرپور حمایت حاصل ہے !سو نظر یہ آرہا ہے کہ پاکستان کے پچیس کڑوڑ عوام عسکری یزیدِ وقت کے غلام ہیں۔ ہر انسانی آزادی سلب کرلی گئی ہے اور کوئی آزاد نہیں ہے!
پاکستان کا کوئی شہری آزاد نہیں ہے سوائے عمران خان کے جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے باوجود آزاد ہے اور یوں آزاد ہے کہ اس نے یزیدِ وقت سے ہار نہیں مانی اور اس لئے نہیں مانی کہ قیدی نمبر 804 میں روحِ حسینی زندہ اور تابندہ ہے اور وہ ظالم و جابر یزید کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جس میں اس کی عزتِ نفس کا سودا ہوتا ہو !پاکستانی قوم کی بے حسی اور مردنی کا میں مسلسل رونا روتا رہا ہوں۔ قوم کی اجتماعی بے حسی اور خوف کا یہ عالم ہے کہ میرے پبلشر نے میری تازہ منظوم کتاب "وبا سے باجوہ تک” پر اپنا نام لکھنے سے معذوری ظاہر کی۔ سو میں اپنی کتاب کا مصنف بھی ہوں اور پبلشر بھی اسلئے کہ کتاب پر دونوں جگہ میرا ہی نام درج ہے !لیکن عمران خان نے اپنے کردار کی مضبوطی اور ایقان سے قوم کو ایک پیغام بھی دیا ہے اور وہ یہ کہ حق باطل سے کبھی سمجھوتہ یا سودا نہیں کرتا!خصوصاً عمران کی مثال نے پاکستان کی نوجوان نسل میں بیداری کی ایک طرح سے روح پھونک دی ہے۔ پاکستانی قوم اس آتش فشاں یا ہندی کے جوالا مکھی کی مثال ہے جس کے اندر، جس کے بطن میں، لاوا پک رہا ہے۔ یہ لاوا کب تک پکے گا اور آتش فشاں کب پھٹے گا اس کا جواب میرے یا کسی اور محبِ وطن کے پاس فی الحال نہیں ہے۔ بس وقت کا انتظار ہے اسلئے کہ پاکستانی قوم کی کیمیا اس کے حق میں ہے کہ آتش فشاں بہت جلد پھٹنے کیلئے تیار ہوگا اسلئے کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 35 برس سے کم ہیں۔ نوجوانوں میں صبر کا وہ مادہ نہیں ہوتا جو عمر بڑھنے کے ساتھ فروغ پاتا ہے!سو انتظار ہے اس وقت کا جب پاکستانی قوم کے صبر کا پیمانہ جبر و طاغوت سہتے سہتے لبریز ہوجائے گااور جوالا مکھی یا آتش فشاں پھٹ جانے کیلئے اور طاغوت کے نظامِ جبر کو بہا لیجانے کیلئے تیار ہوگا !ہماری عمر رسیدہ نسل اس دن کے انتظار میں جی رہی ہے !
بھارت میں گائے کو مقدس سمجھ کر پوجنے والی مودی سرکار نے 22 اپریل 2025ئ کو مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے مقام پر مبینہ دہشت گردی کا ڈرامہ رچاکر پاکستان پر جارحیت کا جواز پیدا کیا تھا جس سے پاکستان میں مقدس گائے عسکری طالع آزما نے بھرپور فائدہ اٹھا یا اور اپنی آمریت کو اس حوالے سے بھارتی ڈرامہ کا منہ توڑ جواب دیکے مزید مضبوط کیا!لیکن بھارتی ڈرامہ سے دو سال پہلے عاصم منیر اپنے مقبوضہ پاکستان میں نومئی کے حوالے سے ایک ڈرامہ کامیابی سے رچایا تھا جس کی پاداش میں قیدی نمبر 804 ایک ہزار دن سے قید و بند کی اور قیدِ تنہائی کی صعوبت برداشت کر رہا ہے۔9 مئی کے پھیلائے ہوئے زہر کا تریاق پاکستان کی نوجوان نسل کب لے کر آتی ہے اس کاانتظار ہے، آتش فشاں کے پھٹنے اور لاوا بہ نکلنے کا انتظار ہے!پھر انتظار ہے مجھے صبحِ جدید کا جو 9 مئی کے ڈرامہ کا پردہ گرادیگی اور پاکستان میں جبر و استبداد کی موجودہ سیاہ تاریخ پر خطِ تنسیخ پھیر دے گی!



