Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

چین، ایران کیلئےکتنا اہم :اور کیوں!

ایران اور چین دونوں ممالک دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتے ہیں اور پھر ماضی میںشاہراہِ ریشم نے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ تعلقات صرف موجودہ سیاسی یا معاشی مفادات تک محدود نہیں بلکہ قدیم تہذیبوں، تجارت اور ثقافتی روابط سے جڑے ہوئے ہیں اور صدیوں پر محیط تاریخی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔قدیم زمانے میں ایران مشرق اور مغرب کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز تھا جبکہ چین ریشم، چائے اور دیگر قیمتی اشیاء کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ شاہراہِ ریشم کے ذریعے چینی تاجر ایران آتے تھے اور ایرانی تاجر چین تک سفر کرتے تھے۔ اس طرح ان دو ممالک کے تعلقات گزشتہ چند دہائیوں میں مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔ موجودہ عالمی سیاست میں چین ایران کے لیے نہایت اہم ملک بن چکا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات کئی شعبوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔توانائی، تجارت، دفاع، سفارت کاری اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں تعاون نے ان دونوں کے تعلقات کو مزید گہرا بنا دیا ہے۔
چین اپنے وسیع عالمی تجارتی مفادات کی وجہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مغربی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات رکھتا ہے۔ اس لیے وہ ایران کی مکمل حمایت کے بجائے متوازن پالیسی اختیار کرتا ہے۔ اس کے باوجود چین ایران کے لیے ایک اہم معاشی اور سیاسی سہارا سمجھا جاتا ہے۔دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا اہم محرک ہیں۔ شاہراہِ ریشم کے ذریعے چینی تاجر ایران آتے تھے اور ایرانی تاجر چین تک سفر کرتے تھے۔ اس تجارت نے نہ صرف معاشی فوائد ددیئے بلکہ ثقافتی تبادلے کو بھی فروغ دیا۔ ایرانی فن، زبان اور تہذیب کے اثرات وسطی ایشیا کے راستے چین تک پہنچے جبکہ چینی مصنوعات ایران میں مقبول ہوئیں۔اسلامی دور میں بھی دونوں ممالک کے روابط برقرار رہے۔ ایرانی علماء، تاجروں اور سیاحوں نے چین کا سفر کیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق چینی شہروں میں مسلم آبادیوں کے قیام میں ایرانی تاجروں کا کردار اہم تھا۔ اس دور میں سمندری تجارت نے بھی تعلقات کو مضبوط کیا۔ اگر معاشی پہلو کودیکھا جائے تو چین ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ایران کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں جبکہ چین دنیا کی سب سے بڑی توانائی استعمال کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ چین کو اپنی صنعتوں اور ترقی کے لیے مسلسل توانائی کی ضرورت رہتی ہے، اسی لیے ایران اس کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ دوسری طرف امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اپنی تیل کی منڈیاں محدود ہوتی نظر آئیں، ایسے میں چین نے ایرانی تیل خرید کر ایران کی معیشت کو سہارا دیا۔
چین نے ایران کے ساتھ تعلقات کو معاشی اور دفاعی بنیادوں پر فروغ دیا۔
عراق جنگ کے دوران چین نے ایران کو بعض فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید قریب ہوئے۔1990 کی دہائی اور اس کے بعدچین کے توانائی کے شعبے نے تعلقات کو نئی اہمیت دی۔ اس وقت چین کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور اسے تیل و گیس کی ضرورت تھی، جبکہ ایران توانائی کے وسیع ذخائر رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے چین ایرانی تیل کا ایک اہم خریدار بن گیا۔ امریکی پابندیوں کے باوجود چین نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط مکمل طور پر ختم نہیں کیے بلکہ جدید دور میں، خاص طور پر بیسویں صدی میں، ایران اور چین کے تعلقات نے نئی شکل اختیار کی۔ 1949 میں عوامی جمہوریۂ چین کے قیام کے بعد ابتدائی برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات محدود رہے کیونکہ ایران اُس وقت مغربی بلاک اور امریکہ کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ تاہم 1971 میں ایران نے چین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات مضبوط ہونا شروع ہوئے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی، خاص طور پر اُس وقت جب امریکہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ صدر ٹرمپ کی بنیادی توقع یہ تھی کہ زیادہ دباؤکی پالیسی ایران کو نئی شرائط ماننے پر مجبور کردے گی۔ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایران نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے بلکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ، میزائل پروگرام اور مختلف علاقائی گروہوں کی حمایت میں بھی کمی لائے۔ امریکہ یہ سمجھتا رہا کہ معاشی پابندیوں کے ذریعے ایران کو اتنا دباؤ میں لایا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آکر نئی شرائط قبول کرلے۔ بظاہر پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا، مہنگائی بڑھی، کرنسی کمزور ہوئی اور تیل کی برآمدات میں کمی آئی، مگر اس کے باوجود ایران کے مکمل طور پر امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے کے آثار نظر نہیں آئے ۔ایرانی قیادت ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرے گی۔ دوسری یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران مسلسل اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ عوامی بے چینی، مہنگائی اور بے روزگاری ایرانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، اگر معاشی دباؤ مزید بڑھتا ہے تو ایران کسی حد تک مذاکرات پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن یہ مذاکرات یکطرفہ امریکی شرائط پر ہوں، ایسا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ ایرانی حکومت کے نزدیک امریکی پابندیاں صرف سیاسی دباؤ کا ذریعہ ہیں، اس لیے وہ قومی خودمختاری اور مزاحمت کے بیانیے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
موجودہ صورت حالات میںمشرق وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ یا کشیدگی کی صورت میں امریکہ اور ایران دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے اکثر عالمی طاقتیں سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی سخت پالیسی نے ایران کو دباؤ میں ضرور ڈالا، لیکن مکمل کامیابی کے لیے صرف پابندیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اعتماد سازی، سفارت کاری اور متوازن مذاکرات بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ، صدر ٹرمپ کی ایران سے تمام توقعات مکمل طور پر پوری ہونا آسان نظر نہیں آتا البتہ محدود نوعیت کے مذاکرات یا وقتی سمجھوتے ممکن ہوسکتے ہیں، لیکن مکمل امریکی شرائط کا قبول کیا جانا ایک مشکل ہدف دکھائی دے رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button