Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

7مئی کی جنگ کی حقیقت !

پاکستانیو۔ آپ کسی ایسے شخص کو کیا کہیں گے جو پاکستانی حکومت کا ملازم ہے لیکن حکم وہ دوسری ریاست کا مانتا ہے؟آپ سوچتے ہوں گے کہ ایسا کون شخص ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی ہے تو وہ تو جاسوس کہلائے گا، اور غدار وطن؟ ایسے بندے کو تو فوراً گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا جائے گا؟آپ ٹھیک ہی سوچتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسے پاکستانیوں کی کمی نہیں جو ملازمت تو پاکستان کی کرتے ہیں لیکن دم بھرتے ہیںکسی دوسری ریاست کا۔ اگر وہ ریاست بھارت ہو تو ہم غصہ میں لال پیلے بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ریاست امریکہ ہو تو ہم کوئی غصہ نہیں کرتے۔وہ تو ہمارا محسن ملک ہے۔ اس کے ہمارےاو پر بہت سے احسانات ہیں۔ جب پاکستان بنا تو اسی نے ہمیں قحط اور بھوک سے بچایا۔ اس نے ہم سے پٹ سن خریدی تو ہمیں زر مبادلہ ملا جس سے ہم نے فیکٹریاں اور کارخانے لگائے۔اس نے ہماری فوج کو تربیت دی، اسے اسلحہ دیا، جنگی ساز و سامان دیا جس سے ہم بھارت کے خلاف لڑنے کے قابل ہوئے۔ اس نے ہمارے جرنیلوں کے بچوں کو وظیفے دئیے جو امریکہ کی اچھی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم لیتے ہیں۔ یہ کچھ کم احسانات نہیں ہیں۔ اس لیے اگر ہمارے سیاستدان، فوجی افسران اور سرکاری ملازم سب امریکہ کی ہر فرمائش کو پوار کرنے میں تاخیر نہیں کرتے بلکہ اسے اپنا قومی فریضہ بھی سمجھتے ہیں ، تو کوئی عجب نہیں۔
تو مسئلہ کیا ہے؟ سر جی، مسئلہ یہ ہے کہ اول تو امریکہ خواہ کتنا بھی ہمارا محسن ہو، کیا پہلے ہمیں اپنی بھلائی کا نہیں سوچنا چاہیئے؟ یا ہم اتنے بدھوہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کیا ہمارے بھلے کا کام ہے اور کیا ہمارے خلاف؟ اس کی ایک سب سے بڑی مثال تعلیم کا شعبہ ہے۔ پہلا یہ کہ ہر پاکستانی بچے کو تعلیم کا حق ہے، یہ ہمارے آئین میں لکھا ہے۔ اور امریکہ نے بھی پاکستان کو امداد دی کہ تعلیمی شعبہ میں ترقی ہو۔ دوسرے ملکوں نے بھی جیسے انگلینڈ، یوروپین ممالک، جاپان وغیرہ نے بھی۔ لیکن آج بھی پاکستان کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے سکول سے باہر ہیں۔ اس میںقْصور کس کا ہے؟ پاکستانیوں کا یا امریکہ کا؟غالباً دونوں کا۔ امریکہ نے جب دیکھا کہ امداد صحیح جگہ نہیں لگ رہی تو اس نے مناسب محاسبہ نہیں کیا۔ اور پاکستان اس امداد کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرتا رہا۔اس معاملہ میں امریکہ اور دوسرے امداد دینے والوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔یہ ہمارے بد عنوان حکمرانوں اور بے غیرت سیاستدانوں کا تحفہ ہے۔امریکہ اور کچھ مغربی ممالک نے،پاکستان کو بہت امداد دی، کہ وہ صحت کے شعبۂ عوام کی بہتری کا کام کریں۔ لیکن وہاں بھی وہی عناصر کار فرما تھے یعنی راشی افسران اورلالچی سیاستدان۔ ا ن لوگوں نے امداد کو مال مفت دل بے رحم کی مصداق، اڑایا۔ان حالات میں، پاکستانیوں کے مجرم اکثر سیاستدان اور حکمران ہیں جن کو شمار کرنا بھی مشکل ہے۔کوئی اچھا ملک ہوتا تو ایسے سیاستدانوں اور سرکاری ملازموں کو تختہ دار پر پہنچا دیا جاتا۔ لیکن وہ بھی مشکل تھا کیونکہ اگر ان پر مقدمہ کیے جاتے تو ہماری عدالتیں جو کرپشن میں پوری طرح ملوث ہیں، وہاں انصاف پر مبنی فیصلے کہاں ہوتے؟اسے کہتے ہیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان حالات میں ہمارا مذہب کام آ سکتا تھالیکن، صد افسوس، ہمارے مذہبی رہنماوں نے بڑی سمجھداری سے اپنے آپ کو ان غیر مقبول موضوعات سے بچائے رکھا۔کیونکہ اگروہ مساجد میں ان موضوعات پر اسلامی احکامات سناتے تو ان کو ان مساجد سے ہٹادیا جا تا۔ اس لیے یہ کرپٹ معاشرہ پروان چڑھتا رہا، جس میں غریب اور اس کی اولاد کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔اب عوام کا حال بھی سن لیں۔ زیادہ تر تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ان کے حکمران کیا کر رہے ہیں اور اشرافیہ کیا کر رہی ہے۔یعنی کس کس طریقے سے ان کی حقوق تلفی کی جا رہی ہے۔ حکمران پاکستان کے نام پر کیا کیا گل کھلا رہے ہیں۔ کس طرح پاکستان کے قیمتی اثاثے کوڑیوں کے بھائو بیچ کر اپنا کمیشن بنا رہے ہیں۔کس طرح بیرون ملک دورے کرتے ہیں جن کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ۔پاکستان خواہ کسی بھی حال میں ہو، اس کے خزانے خالی ہوں، ان کی عیاشی میں کوئی کمی نہیں آتی۔عوام کے محبوب قائد عمران خان کو کس طرح جیل میںرکھا ہوا ہے۔ اس پر جھوٹے مقدمات بنا کر اپنی ماتحت عدالتوں سے سزائیں دلواتے رہتے ہیں۔ اس کی بیوی پر بھی کوئی رعایت نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ملک میں بغیر اعلان کے ماشل لاء لگا ہوا ہے۔اور یہ مارشل لاء پہلے دن سے ہے اور کبھی ہٹا ہی نہیں۔اب7مئی کی کہانی سن لیں جس کو بڑے ذوق شوق سے منایا جا رہا ہے۔یہ سب جانتے ہیں کہ کس طرح عزرائیل کے حاکم پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دنیا میں وہ دو ملکوں کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ ایران اور پاکستان۔ ایران پر تو سال ہا سال کی کوششوں سے آخر کار عزرائیل اور امریکہ نے حملہ کر ہی ڈالا۔پاکستان سے عزرائیل کو خوف آتا ہے کہ اگر پاکستان میں کوئی اسلامی ہمدردی رکھنے والا حکمران آ گیا، جیسے کہ عمران خان، تو وہ کہیں فلسطینیوں کی ہمدردی میں عزرائیل پر ایٹم بم نہ پھینک دے؟ وہ حقیقت میں پھینکے گا یا نہیں۔ عزرائیل اس کا ذرہ بھر بھی امکان نہیں چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سازش کے ذریعہ خان کو زندان میں ڈال دیا گیا۔ اور اس کی عوامی تحریک کا سر بھی کچل دیا گیا۔چنانچہ، جب عزرائیل نے فیصلہ کیا کہ وہ غزہ پر فلسطینیوں کاقتل عام کر کے قبضہ کرے ، اس کی پہلے فکر تھی کہ پاکستان کو کسی جنگ میں الجھا دیا جائے۔ چنانچہ ٹرمپ بہادر کے ذریعے پاکستان اور بھارت کی جنگ کا ڈرامہ بنایا گیا۔ جس میں پاکستانی جرنیل کو لالچ دیا گیا کہ اس جنگ سے اسے بہت فائدہ ہو گا۔ اسے فیلڈ مارشل بنا دیا جائے گا۔ نریندر مودی کو کہا گیا کہ عزرائیل اس کو ڈرون دے گا جو وہ پاکستان پر پھینکیں گے۔ وہ ڈرون پاکستان میں ایٹمی اثاثوں کا سراغ لگا کر اس کی رپورٹ سیدھی عزرائیل کو دیں گے۔ مودی جو پہلے ہی پاکستان سے نالاں تھا، فوراً تیار ہو گیا۔ جنگ شرو ع کرنے کے لیے منصوبہ بنایا گیا کہ کشمیر میںایک دہشت گرد گروہ سے سیاحوں پر حملہ کیا جائے جس کا الزام پاکستان پر ڈالا جائے اور بھارت پاکستان پر ڈرونز کے ساتھ حملہ کر دے۔ٹرمپ نے دونوں ملکوں سے کہا کہ یہ نورا کشتی ہے ، سنجیدہ لڑائی نہیں کرنی۔ لیکن پاکستانی ہوا بازوں کے خون نے جوش مارا۔ ان کو چائینیز امداد مل رہی تھی تو انہوں نے بھارت کے چھ جنگی جہاز مار گرائے جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔میںنے سنا کہ کسی پاکستانی جنرل نے کہا کہ ان ہوا بازوں کو منع کیا گیا تھا لیکن ۔۔۔تین دن کی یہ جنگ ٹرمپ بہادر نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کراکر بند کروا دی۔ یہ کہہ کر کہ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو پاکستان ایٹمی حملہ کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔اسی اثنا میں عزارئیل نے غزہ پر خوفناک بمباری شروع کر دی اور ہزاروں فلسطینی مار ڈالے۔ لیکن حالات اب ایسے بنا دیئے گئے تھے کہ اگر پاکستان فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا تو بھارت زیادہ بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار تھا، جس میں اسے عزارئیل اور امریکہ دونوں سے بھر پور امداد ملتی۔جنگ بندی سے پاکستانی جنرلوں نے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا۔ باقی کہانی آپ سب کو معلوم ہے۔جنرل عاصم منیر کو بے قاعدہ طور پرفیلڈ مارشل بنایا گیا کیونکہ فیلڈ مارشل ایسے جنرل کو بنایا جاتا ہے جو ایک بڑی زمینی جنگ میںفتح حاصل کرے، اور یہاں تو زمینی جنگ ہوئی ہی نہیں۔ ایسے ہی ہے کہ بقول شاعر، جو چاہے انکی نگاہ کرشمہ ساز کرے۔حکومت جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی وہ انتخابات ہار چکے تھے، لیکن عسکری قوتوں نے انکے انتخابات کے نتائج کو ردوبدل کر کے ان کو جیتا ہوا قرار دے دیا۔ان سب لوگوں کو بھی جتنے حکومت بنانے کے لیے درکار تھے۔اس کے دو بڑے فائدے ہوئے کہ جو حکومت بنی وہ جعلی تھی اور ایک عدالتی فیصلہ کی مار تھی۔جنرل صاحب اس حقیقت سے جب چاہے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ عسکریت جو چاہتی جعلی وزیر اعظم آنکھیں بند کر کے ان کو دے دیتے ہیں۔اسی طرح ماشل لاء کام کرتا ہے۔ اسے ہی کہتے ہیں کہ ’گلیاں ہون سونیان، وچ رانجھا یار پھرے۔‘
یہ ساری کہانی لکھنے کا مقصدصرف دل کی بھڑاس نکالنا ہے۔ پاکستان میں مٹھی بھر لوگ آن لائین اخبار پڑھتے ہیں۔ زیادہ تعداد تصویروں والے ا شتہار یا خبریں دیکھتی ہے۔ اس کے بعد لوگ ٹھیکے والے اشتہار دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد موٹی سرخیوں والی خبریں۔ چند ، عموماً عمر رسیدہ اور ریٹائیرڈ حضرات اپنے پسندیدہ کالم بھی پڑھے لیتے ہیں۔ نہ تو ہمارا کالم کسی مقبول عام اخبار میں چھپتا ہے اور نہ ہی اس کی رسائی زیادہ قارئین تک ہوتی ہے، اس لیے یہ راز راز ہی رہے گا کہ7 مئی کی لڑائی کی اصل وجہ کیا تھی۔ہو سکتا ہے کہ چند لوگ جو یہ کالم پڑھیں وہ دوسروں تک پہنچا دیں؟عوام تک کوئی بات پہنچانی ہو تویا تو بذریعہ سینہ گیزٹ ہو یا پھر ان کی محبوب ٹی وی چینل۔ پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی چینل تو پی ٹی وی ہے جو حکومت کا پراپیگنڈا دکھاتی ہے۔کوئی ایسی چینل ہو جو آسان لفظوں میںعوام کو بتائے کہ پاکستان کن مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے مرکزی بینک میں کئی بلین ڈالر پڑے ہیں، وہ پاکستان کے نہیں، ہمسایوں کے ہیں جو پاکستان میں انہوں نے رکھوا رکھے ہیں۔ ہماری برآمدات سے ہماری درآمدات زیادہ ہیں جس کے نتیجہ میں تجارتی خسارہ ہو رہا ہے۔ چونکہ پاکستان کے بڑے تاجر پورے ٹیکس نہیں دیتے،خاطر خواہ مالیہ نہیں اکٹھا ہوتا۔ اور بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے اب پاکستان کو کہیں سے بھی قرضہ نہیں مل رہا ہے۔اس لیئے حکومت عوام کی ضرورت کی ہر چیز پر ٹیکس بڑھا رہی ہے تا کہ خسارہ پوراہو سکے۔ آپ یوں سمجھیئے کہ پاکستان کو قرضوں کی واپسی اور دفاعی اخراجات کے لیے جتنی رقم درکار ہے وہ مالیہ سے اکٹھی نہیں ہو رہی۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ جب تک کہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نہیں ہوتا اور ایماندار حاکم نہیںآتے۔یعنی، شایدکبھی نہیں۔
عوام کو بھلا ان مسائل سے کیا لینا دینا۔ رشوت دینا ان کے لیے ایک معمول ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں گنہگار ہوتے ہیں۔ جب لوگ سرکاری کاموںکے لیے رشوت دیتے ہیں تو سرکار کا مالیہ کم ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے۔ بچوں کو صحیح خوراک نہیں ملتی اور پستہ قد رہ جاتے ہیں۔کتنی مائیں زچگی میں ہی فوت ہو جاتی ہیں۔ مرد بھی ٹھیک کھا نہیں پاتے اورمزدوری بھی نہیںکر سکتے۔ٹھیکیدار رشوت کا پیسہ ٹھیکے میں کاٹی مار کر دیتے ہیں۔ اگر سڑک، پُل یا کوئی عمارت بناتے ہیں تو اس میں ضروری مصالحہ نہیںڈالتے ۔جس سے وہ عمارتیں،پل اور سڑکیں جلد ہی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔سرکاری ملازم اور سیاستدان ان کاموں کو ہاتھ نہیں لگاتے جن میں انہیں رشوت نہ ملے خواہ وہ قوم کے لیے کتنے ہی فائدہ مند ہوں۔ اس کی بڑی مثال دریائوں پر بند باندھ کر بجلی گھر بنانا ہے۔ جو سستی بھی ہوتی ہے اور ڈیم مدتوں کام ا ٓتے ہیں۔لیکن بجائے ڈیم بنانے کے شریف اور زرداری خاندانوں نے اشرافیہ اور فوج سے ملکرتیل سے چلنے والے پلانٹ لگائے جو مہنگی بجلی بناتے ہیں اور آج کل تو بند پڑے ہیں۔ لیکن آپ یقین نہیں کریں گے کہ بجلی کے صارفین ان پلانٹس کے مالکوں کو ایسے ہی پیسے دیتے ہیں جیسے وہ بجلی دے رہے ہوں۔ یہ پاگل پن صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں عوام کچھ نہیں جانتے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان پلانٹس کے زیادہ مالک پاکستانی اشرافیہ اور فوجی ہیں۔یہ لوگ ہر طرح سے عوا م کولوٹتے ہیں۔
کون نہیں جانتا کہ اگر عوام کو تعلیم نہیں ملی تو وہ افرادی قوت بھی زیادہ کار آمد نہیں ہو گی۔ لیکن ان کو جان بوجھ کر اَن پڑھ رکھا جاتا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ پڑھ لکھ گئے تو وہ اپنے حقوق مانگنے شروع کر دیں گے اور انکا استحصال کرنا مشکل ہو جائے گا۔ہمارے بیرونی دشمن بھی یہی چاہتے ہیں۔ ایسے عوام ان کے لیے بھی خطرہ نہیں بنتے۔ان کو توصبح شام کی دوڑ میں الجھا دیا جاتا ہے۔ان کے بچوں کو متوازن خوراک نہیں ملتی تو ان کے ذہن پوری طرح نہیںبڑھتے۔یہ بھی ان ظالموں کو ٹھیک لگتا ہے۔اگر عوام کو تعلیم کے فائدوں کا صحیح علم ہوتا تو وہ مطالبہ کرتے کہ ان کے بچوں کے لیے سکول بنائے جائیں۔ لیکن یہ بھی نہیں ہوتا۔ان کے ذہن میں بٹھا دیا گیا ہے کہ تعلیم میں کچھ نہیں رکھا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button