Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

27 ستمبر کاپی ٹی آئی لانگ مارچ ،اسلام آباد سیل کرنے کی تیاریاں، پنجاب میں دفعہ 144 نافذ، فوج و رینجرز طلب

اسلام آباد ( آصف اقبال ) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف اعلان کردہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے جبکہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز اور راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کے لیے وفاق سے رجوع کر لیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہوگی۔ پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے چار اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی بھی طلب کی ہے۔اسلام آباد میں لانگ مارچ سے قبل سکیورٹی پلان کے تحت ایک ہزار سے زائد کنٹینرز اہم داخلی و خارجی راستوں، ریڈ زون اور ہائی سکیورٹی زون کے اطراف پہنچائے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 23 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار اور سندھ سے 2 ہزار اہلکار طلب کیے ہیں، جبکہ دونوں صوبوں سے اعلیٰ پولیس افسران کی اضافی نفری بھی مانگی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مارچ سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے تقریباً 82 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔ اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر دو ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ریڈ زون کے داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے بیرونِ اضلاع سے آنے والی پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کے قیام کے لیے سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، کالجز اور دیگر مقامات کو استعمال کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، خون، ادویات، ایمبولینسز اور ایمرجنسی بیڈز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔لانگ مارچ کے ممکنہ راستوں کے حوالے سے موٹروے پولیس نے بھی اہم شاہراہوں کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ ایم ون موٹروے، ایم 14 اور اٹک کے مقام پر جی ٹی روڈ سمیت بعض اہم راستے مخصوص مقامات پر ٹریفک کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دریں اثنا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان پہلے ہی 27 ستمبر کی تاریخ کو حتمی قرار دے چکے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ کو پرامن رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ادھر پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں اور حراستوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بعض کارکنوں کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ پارٹی کی جانب سے حکومت کے اقدامات پر اعتراضات بھی کیے جا رہے ہیں۔اسلام آباد پولیس نے شہریوں کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات سے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی تمام سڑکیں اس وقت معمول کے مطابق کھلی ہیں، تاہم احتجاج کے قریب آتے ہی سکیورٹی صورتحال کے مطابق بعض راستوں پر عارضی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔یوں 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے چار روز قبل ہی اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں غیر معمولی سکیورٹی اقدامات شروع ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہونے کا امکان ہے۔ تاہم 27 ستمبر کو اصل صورتحال کا انحصار مارچ میں شریک افراد کی تعداد، احتجاج کے طریقہ کار اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے انتظامی اقدامات پر ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button