Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی تیاریاں، اسٹار لنک سمیت چھ عالمی کمپنیوں کی رجسٹریشن

اسلام آباد ( آصف اقبال ) پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کے لیے تیاریاں جاری ہیں، جہاں چھ بین الاقوامی کمپنیوں نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹریشن کروا لی ہے، تاہم ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک سمیت متعدد ادارے تاحال سیکیورٹی کلیئرنس اور دیگر ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے منتظر ہیں تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں عالمی کمپنیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنیوں میں اسٹار لنک اسپیس سیل پاکستان، ایتھر ون، فلانویٹکس گلیکسی اسپیس اور اسپیس پی شامل ہیں ایس ای سی پی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان چھ کمپنیوں میں سے صرف اسپیس پی نے پاکستان اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ (پی ایس اے آر بی) سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) جمع کرایا ہے، جبکہ باقی کمپنیاں مطلوبہ منظوریوں کی منتظر ہیں دوسری جانب اسٹار لنک، گلیکسی اسپیس اور اسپیس سیل پاکستان کے غیر ملکی ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی سیکیورٹی کلیئرنس کا معاملہ بھی وزارت داخلہ میں زیر التوا ہے ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ محض کمپنی کی رجسٹریشن سے پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کی اجازت نہیں ملتی تجارتی بنیادوں پر خدمات شروع کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے سیکیورٹی کلیئرنس، پاکستان اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ سے این او سی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے آپریٹنگ لائسنس حاصل کرنا لازمی ہےماہرین کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا آغاز پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے، جہاں روایتی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی رسائی محدود ہے۔تاہم اسٹار لنک سمیت دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں باقاعدہ سروسز کے آغاز کا انحصار متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے مکمل ہونے پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button