پاکستان میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی اور آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی

گجرات ( آصف اقبال ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران محض قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی، انتظامی اور سماجی پہلو بھی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مکالمے، طویل المدتی منصوبہ بندی اور آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔ پانی آنے والی نسلوں کی امانت ہے اور موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ اسے آلودگی سے محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی نسلوں تک منتقل کرے یونیورسٹی آف چناب، گجرات میں پاکستان کا آبی مستقبل موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، پائیداری اور پانی و غذائی تحفظ کے عنوان سے منعقدہ قومی سمپوزیم کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آبی وسائل کا تحفظ قومی ترجیحات میں شامل کیے بغیر پائیدار ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقصد کے لیے حکومت، جامعات، ماہرین، محققین اور طلبہ کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ صنعتی فضلے اور غیر صاف شدہ گندے پانی کے اخراج سے آبی وسائل آلودہ ہو رہے ہیں، جس سے انسانی صحت اور ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہیں فیصل آباد اور قصور کے صنعتی علاقوں میں آبی آلودگی اور غیر منصوبہ بند آبادیوں کے مسائل پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ زیرِ زمین پانی کو آلودگی اور آرسینک سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک جانب پانی کی قلت اور دوسری جانب سیلاب کے دوران پانی کے ضیاع جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دستیاب پانی کو ذخیرہ کرنے، نئے آبی ذخائر کے امکانات کا جائزہ لینے اور موزوں منصوبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ پانی کے تحفظ اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات اہم ہیں، تاہم اس شعبے میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور آبی آلودگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ آبی معاملات کو وقتی اقدامات تک محدود رکھنے کے بجائے قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے اور آنے والی حکومتیں بھی ان منصوبوں پر تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھیں پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ متعلقہ معاہدوں اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ آبی تنازعات کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات اور طے شدہ ضوابط کے تحت حل کیا جانا چاہیے اسی طرح پنجاب اور سندھ کے درمیان آبی مسائل کے حل کے لیے بھی مکالمے اور باہمی مشاورت کو فروغ دینا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جامعات میں آبی وسائل کے انتظام، پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی قانون سے متعلق تعلیم و تحقیق کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسے ماہرین، قانون دانوں اور منتظمین کی ضرورت ہے جو آبی بحران کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرسکیں ملک محمد احمد خاں نے زور دیا کہ پانی کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون سازوں، تعلیمی اداروں، طلبہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو تحقیق، تخلیقی سوچ اور قومی مسائل کے عملی حل پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان کے آبی مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے یونیورسٹی آف چناب میں قومی سمپوزیم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماہرین اور طلبہ کی مشاورت سے سامنے آنے والی قابلِ عمل سفارشات آبی پالیسی سازی اور وسائل کے بہتر انتظام میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔








