Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

صدر آصف زرداری کی سیاسی ہیٹ ٹرک

تحریر: آصف اقبال

خصوصی تجزیہ برائے اردو ٹائم یو ایس اے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض واقعات محض حکومتی فیصلے نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والے برسوں کے لیے سیاسی روایت، آئینی اختیارات اور جمہوری اصولوں پر نئے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس نے نہ صرف وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا ہے بلکہ صدر آصف علی زرداری کے سیاسی سفر میں ایک غیر معمولی تاریخی مماثلت بھی پیدا کر دی ہے۔ پنجاب میں 2009ء، بلوچستان میں 2013ء اور اب خیبر پختونخوا میں 2026ء کے آئینی اقدامات کو سیاسی اصطلاح میں صدر زرداری کی ’’ہیٹ ٹرک‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اس ہیٹ ٹرک کا تعلق کسی سیاسی کامیابی سے زیادہ پاکستان کے وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور غیر معمولی آئینی اختیارات کے استعمال سے ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔ صدارتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور صوبائی انتظامیہ کی مبینہ ناکامی کو اس اقدام کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات ختم ہو گئے اور صوبائی معاملات وفاقی نگرانی میں آ گئے۔ یہ محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا غیر معمولی آئینی اقدام ہے جس کے سیاسی اثرات خیبر پختونخوا سے نکل کر پورے ملک کے جمہوری نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ماضی کے دو اہم فیصلوں کا جائزہ ناگزیر ہے۔ 25 فروری 2009ء کو پنجاب میں اس وقت سیاسی بحران پیدا ہوا جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں وزیراعلیٰ شہباز شریف نااہل قرار پائے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ایڈوائس پر صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ گورنر سلمان تاثیر نے صوبائی انتظامی اختیارات سنبھال لیے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار سے محروم ہو گئی۔ اس فیصلے کو مسلم لیگ (ن) نے اپنے عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیا، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے آئینی ضرورت قرار دیا۔ سیاسی احتجاج، عوامی دباؤ اور بدلتے ہوئے حالات کے نتیجے میں 30 مارچ 2009ء کو گورنر راج ختم ہوا اور منتخب حکومت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔

پنجاب کا یہ واقعہ محض دو سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں تھا بلکہ اس نے وفاقی اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے درمیان موجود حساس توازن کو نمایاں کیا۔ یہ سوال اس وقت بھی اٹھا تھا کہ کیا کسی سیاسی یا عدالتی بحران کا حل منتخب حکومت کو انتظامی اختیارات سے محروم کرنا ہے، یا جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے سیاسی اور آئینی راستہ تلاش کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے؟

چار سال بعد جنوری 2013ء میں بلوچستان ایک مختلف اور انتہائی المناک صورت حال سے دوچار ہوا۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف دہشت گرد حملوں میں بڑی تعداد میں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ متاثرہ خاندانوں کا شدید سردی میں اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ احتجاج پوری قوم کے ضمیر کے لیے ایک سوال بن گیا۔ ان کا مطالبہ سیاسی اقتدار نہیں بلکہ زندگی کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں کی ادائیگی تھا۔ اس سنگین بحران کے دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا اور صدر آصف علی زرداری نے 14 جنوری 2013ء کو اس کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے اختیارات ختم ہوئے اور گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو صوبائی انتظامی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

بلوچستان کا معاملہ پنجاب سے بنیادی طور پر مختلف تھا۔ پنجاب میں سیاسی اور عدالتی بحران تھا، جبکہ بلوچستان میں انسانی جانوں کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی ناکامی بنیادی مسئلہ بن چکی تھی۔ اس کے باوجود دونوں فیصلوں نے ایک مشترکہ سوال پیدا کیا کہ کیا گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدامات صوبائی مسائل کا مستقل حل فراہم کرتے ہیں یا محض وقتی انتظامی تبدیلی ثابت ہوتے ہیں؟

اب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے اس بحث کو تیسری مرتبہ قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس مرتبہ صورت حال اس لیے بھی زیادہ حساس ہے کہ صوبہ طویل عرصے سے دہشت گردی کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری جانب وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہی تھی، جبکہ تحریک انصاف اس فیصلے کو اپنے عوامی مینڈیٹ کے خلاف سیاسی مداخلت قرار دے رہی ہے۔

دونوں مؤقف اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت کے پاس اس غیر معمولی اقدام کے لیے ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوں؟ اور کیا اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، شہریوں کے تحفظ اور صوبائی انتظامی کارکردگی میں حقیقی بہتری آئے گی؟ محض سیاسی اختلافات کسی منتخب حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا کافی جواز نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح عوامی مینڈیٹ بھی کسی صوبائی حکومت کو امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔

اس بحث میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ فروری 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس وقت کے صوبہ سرحد میں وفاقی مداخلت اور غیر معمولی آئینی اقدامات سامنے آئے۔ اسی طرح فروری 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت ختم ہوئی اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صدر فاروق احمد لغاری تھے۔ ان واقعات کو آصف علی زرداری کے صدارتی فیصلوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش ایک اہم سیاسی موضوع رہی ہے۔

تاہم اس مسئلے کو صرف پیپلز پارٹی یا صدر زرداری تک محدود کرنا بھی تاریخی انصاف نہیں ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف جماعتوں اور حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں وفاقی اختیارات کے استعمال کو ریاستی ضرورت قرار دیا، جبکہ حزبِ اختلاف نے انہی اقدامات کو جمہوری اصولوں کے منافی سمجھا۔ المیہ یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں سیاسی کردار تبدیل ہوتے ہی اکثر آئینی اصولوں کی تشریح بھی بدل جاتی ہے۔ جو اقدام آج کسی جماعت کے لیے ریاستی ضرورت ہوتا ہے، کل وہی اقدام اس کے لیے جمہوریت پر حملہ بن جاتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کی سیاست کا ایک نمایاں حوالہ مفاہمت، سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور مشکل حالات میں مختلف قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رہا ہے۔ ان کے حامی انہیں ایک تجربہ کار اور معاملہ فہم سیاست دان قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کی سیاسی حکمت عملی کو اقتدار کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے صدارتی ادوار میں تین صوبائی حکومتوں کے اختیارات متاثر ہونے کی مماثلت ایک دلچسپ سیاسی تضاد بھی سامنے لاتی ہے۔ ایک طرف مفاہمت کی سیاست کا تصور ہے اور دوسری طرف ایسے غیر معمولی آئینی فیصلے ہیں جن کے نتیجے میں وفاق اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوا۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں ایسے فیصلوں کی تمام تر ذمہ داری صرف صدر پر عائد نہیں ہوتی۔ وزیراعظم، وفاقی کابینہ، گورنر اور دیگر متعلقہ آئینی اداروں کے کردار کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ صدر کی منظوری آئینی عمل کا اہم مرحلہ ہے، لیکن فیصلے کے سیاسی محرکات اور انتظامی حکمت عملی میں حکومتِ وقت کی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان کا آئین غیر معمولی حالات میں وفاق کو مداخلت کے اختیارات ضرور دیتا ہے، لیکن یہ اختیارات غیر مشروط نہیں ہیں۔ آرٹیکل 232 سنگین ہنگامی حالات سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں صدارتی اعلان کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ ان دونوں دفعات کے تقاضے اور پارلیمانی منظوری کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔ خصوصاً اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس لیے کسی بھی غیر معمولی اقدام کے قانونی جواز، آئینی طریقۂ کار اور پارلیمانی نگرانی کا سنجیدہ جائزہ ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فیصلے کا آئینی طور پر ممکن ہونا اور سیاسی طور پر دانش مندانہ ہونا دو الگ سوالات ہیں۔ جمہوری نظام میں غیر معمولی اختیارات کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے، معمول کی حکمرانی کا متبادل نہیں۔ اگر وفاق اور صوبوں کے اختلافات کا حل بار بار ہنگامی اقدامات میں تلاش کیا جائے تو اس سے سیاسی اعتماد اور صوبائی خودمختاری دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی اور معاشی مشکلات کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ صوبے میں اقتدار کس سیاسی جماعت کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کے بچوں کو محفوظ مستقبل ملے گا، کیا کاروبار اور روزگار کے مواقع بہتر ہوں گے اور کیا ریاست ان کی جان و مال کا مؤثر تحفظ کر سکے گی؟ اگر گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی ان بنیادی مسائل میں بہتری نہیں آتی تو محض انتظامی تبدیلی کو کامیابی قرار دینا مشکل ہوگا۔

وفاقی حکومت کے سامنے اب اصل امتحان اپنے فیصلے کے نتائج ثابت کرنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں، صوبائی اداروں کی کارکردگی میں بہتری، شہریوں کا اعتماد اور آئینی تقاضوں کی مکمل پاسداری ہی اس اقدام کی افادیت کا معیار بنیں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو آئینی اور پُرامن سیاسی دائرے میں رکھیں۔ سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن عوامی سلامتی، ریاستی اداروں کی فعالیت اور قانون کی بالادستی کو بھی مقدم رکھنا ہوگا۔

پاکستان اس وقت معاشی مشکلات، سیاسی تقسیم اور سلامتی کے سنگین چیلنجوں سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی ملک کو مزید غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں آئینی حدود کا احترام کریں اور قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مکالمے کو ترجیح دیں۔ مضبوط وفاق وہ نہیں ہوتا جو صوبوں کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے، بلکہ مضبوط وفاق وہ ہوتا ہے جس میں صوبے خود کو آئینی طور پر محفوظ اور سیاسی طور پر بااختیار محسوس کریں۔

صدر آصف علی زرداری کے صدارتی ادوار میں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے تین غیر معمولی آئینی اقدامات یقیناً ایک منفرد تاریخی مماثلت رکھتے ہیں۔ اسے سیاسی ہیٹ ٹرک کا نام دینا اپنی جگہ، لیکن تاریخ کا فیصلہ واقعات کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے اسباب، آئینی جواز اور نتائج سے ہوگا۔ پنجاب کا بحران، بلوچستان کا انسانی المیہ اور خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال تین مختلف حقیقتیں ہیں، جنہیں ایک ہی سیاسی پیمانے پر پرکھنا درست نہیں۔ تاہم یہ تینوں واقعات ایک مشترکہ سبق ضرور دیتے ہیں کہ وفاقی اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے درمیان توازن قائم رکھنا پاکستان کی جمہوری بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

آصف علی زرداری کی یہ سیاسی ہیٹ ٹرک شاید آنے والے برسوں تک زیرِ بحث رہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ ایک صدر کے دور میں کتنی صوبائی حکومتوں کے اختیارات ختم ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں سے پاکستان کا آئینی نظام کتنا مضبوط ہوا، عوام کو کتنا تحفظ ملا اور وفاق و صوبوں کے درمیان اعتماد میں کتنا اضافہ ہوا۔

کیونکہ تاریخ سیاسی ہیٹ ٹرک پر تالیاں نہیں بجاتی، وہ فیصلوں کے نتائج کا حساب مانگتی ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت منتخب حکومتوں کو اختیارات سے محروم کرنے میں نہیں بلکہ اختلافات کے باوجود آئینی نظام، عوامی مینڈیٹ اور وفاقی وحدت کو قائم رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت نے یہ سبق نہ سیکھا تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، صرف اقتدار کے کردار، ایوانِ صدر کے مکین اور صوبوں کے نام بدلتے رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button