آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب تہران نے ایک روز قبل پانچ دیگر تیل بردار جہازوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آنے کا دعویٰ کیا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے غیر مجاز راستہ اختیار کیا تھا۔ ان میں سے ایک جہاز آبنائے ہرمز کے مشرق میں جبکہ دوسرا آبنائے کے اندر موجود تھا۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں جہازوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور امریکی فوج کی مدد سے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے اور رک گئے۔مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اہم سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی مجموعی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ایران کے ان اقدامات کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے موسمِ گرما سے اب تک خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے ڈیڑھ ارب بیرل تیل برآمد کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے تمام بارودی سرنگیں صاف کردی گئی ہیں۔








