ایک عوامی بغاوت کا سوال ہے بابا!

حضرت اقبالؔ نے تو صاف صاف بتا رکھا ہے کہ
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے!
لیکن ہم پاکستانی علامہ اقبالؔ سے اپنے ہی اندازکی محبت کرتے ہیں ۔اقبال کا حوالہ کثرت سے دیتے رہنا اور اس کی تعلیم سے مسلسل گریز کرنا ہمارا قومی شعار ہے ۔اس معاملے میں یہاں حکومتوں اور عوام دونوں کا طرز عمل یکساں دکھائی دیتا ہے۔ہمیں من پسند سچائیوں اور صداقتوں سے بڑی محبت ہے ،پر ہم اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے ، یہ بالکل ویسی ہی بات ہے جس طرح ہماری حکومتیں خود کفالت کی راہ اختیار کرنے اور صنعتی پیداوار بڑھانے کی بجائے قرض پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں ۔گویا ہم کچھ نہیں چاہتے ،بس باتیں بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ہم ناانصافی اور عدم رواداری پر مبنی نظام کو پھونک ڈالنے اور اس کی خاکستر سے ایک نیا جہان اور تازہ نظام مرتب کرنے سے زیادہ پرانے نظام کا حصہ بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور سیاست میں گھڑی کی سوئیاں تو گھومتی رہتی ہیں ، لیکن وقت تبدیل نہیں ہوتا۔اب کرنا کیا چاہئیے ؟ شرلی بے بنیاد کی رائے ہے کہ رواں نظام کو منہدم کرنے کے لیے ایک عوامی بغاوت کی شدید ضرورت ہے ۔وہ کہتا ہے کہ عوام ہی سرسوں کے وہ دانے ہیں ،جن کا تیل نکال کر خود انہی کی حکومتیں نہ صرف خود عیش کرتیں اور مال بناتی ہیں ،بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے کاروبار بھی انہی بروکرز کی معرفت چلتا ہے ۔ہماری معاشی حکمت عملی کا بنیادی محور ” بھیک ” ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آزمودہ بھکاریوں ہی کو حکومتوں میں لایا اور بٹھایا جاتا ہے۔ اب ،عصر حاضر میں یہ سسٹم پاکستان کا لات و منات بن چکا ہے اب پتھر اور دھات سے بنے ان بتوں کو توڑنے کے لیے ایک عدد عوامی بغاوت کی اشد ضرورت ہے ۔ ایک عدد عوامی بغاوت کی دیر ہے، ہماری مصیبت کا باعث یہ ادارے ،حکومت اور وزارتیں،محکمے اور ڈویژن، جعلی خسارے میں چلنے والے انڈسٹریل یونٹ اور ان کو دی جانے والی سبسڈی،انڈسٹری کو دی جانے والی خفیہ سبسڈیز ،اعلی عہدے داروں کی مراعات سب ختم ہو جائیں گی۔ عدلیہ کے حوالے سے اصول بنا دینا چاہئیے کہ جن ججز کے پاس سالہاسال سے فیصلہ طلب کیسز پڑے ہیں ان کو تین ماہ کا وقت دیا جائے ۔جو مقدمات کے فیصلے نہ کر سکیں ان کو بیک بینی دو گوش نکال دیا جائے۔شرلی بے بنیاد کی یہ گفتگو سن کر ستم ظریف نے بڑی ہی معصومیت سے استفسار کیا ہے کہ اگر بغاوت کرنی ضروری ہے تو پھر ہم عوام کہاں سے لائیں گے ۔؟ اس نے اپنی خداداد معصومیت کو برقرار رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستانی عوام تو بغاوت کا کوئی رجحان نہیں رکھتے ۔وہ کہتا ہے کہ پاکستانی عوام کی تربیت ہی راضی بہ رضا کے فلسفے پر کی گئی ہے۔انہیں ریاست کی بقا کے لیے ہر وقت جان کی قربانی دینے کا درس دیا جاتا ہے وہ مثال دیتے ہوئے بتا رہا تھا کہ راضی بہ رضا کے فلسفے کو فکرِ اقبال سے شدید خطرات لاحق تھے ،لہٰذا اب بعض پاکستانی یونیورسٹیوں میں اقبال چیئرز برائے تصوف اینڈ مسلم تھاٹ قائم کی گئی ہیں۔تاکہ وہ فکرِ اقبال کے خطرے کے سامنے بند باندھ سکیں ۔ اس طرح کی ایک کوشش جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی کی گئی تھی ،اور اسی طرح کا ادارہ بنا کر بھاری فنڈز بھی دیئے گئے تھے ۔ذمہ داران نے فنڈز ہڑپ کئے اور یہ جا ، وہ جا ۔یہ جانتے ہوئے کہ علامہ اقبال نے اپنے لوگوں کو بتا اور اچھی طرح سے سمجھا رکھا ہے کہ تصوف ،تمدن، شریعت ،کلام ِبتان عجم کے پجاری تمام لیکن چونکہ بتان عجم کے پجاریوں نے اقبال ہی کی ایک طویل نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ ‘‘کے آخر میں ابلیس کی اپنے پیرو کاروں کو کی گئی نصیحت بھی یاد کر رکھی ہے ،تو بالکل اسی نصیحت کی بنیاد پر وہ فکر اقبال پر ” تصوف” کا غازہ مل کر اس کا شیرازہ برہم کرنے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ایسی چیئرز کا بنیادی منصب عوام کو عالم کردار سے بیگانہ کردینا ہے تاکہ بساط زندگی پر اس کے سب مہرے مات ہو جائیں۔ ان کا مقصد ہے کہ عوام اس جہان ِبے ثبات کو اوروں کی خاطر چھوڑ دیں۔ اور قیامت تک غلام ہی رہیں ، ان کا اساسی منصب یہ ہے کہ عوام کو ذکر و فکر صبح گاہی میں مست رکھ کر ان کے اندر مزاج خانقاہی کو پختہ تر کر دیا جائے۔اب ایسی منظم کوششوں کی موجودگی میں پاکستان میں کسی عوامی بغاوت کی توقع کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک متبادل صورت ذہن میں آئی ہے، اگر ہر کام آئی ایم ایف کی مرضی سے ہی ہونا ہے تو پھر ہمیں حکومت اور دیگر اداروں کا بوجھ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ۔آئی ایم ایف عامتہ الناس کے ساتھ براہ راست معاملہ طے کرے ۔بجٹ بنائے ، ٹیکس براہ راست لے اور مراعات سہولیات ، تحفظات، امریکی معیار کے مطابق پاکستانیوں کو دے۔ہماری حکومت ” آڑھتیوں ” اور بروکرز کے سوا کچھ اور نہیں ہوتی ۔قرض صرف وہی لیا اور واپس کیا جائے جو عوامی فلاح کے لیے ہو ،باقی کے قرض جہاں لگے ہیں ، وہی لوگ اور ادارے واپس کریں۔حکومت عوام سے قربانی طلب کرنے کی بجائے پہلی قربانی خود دے ۔اس پہلی قربانی کے طور پر حکومت اپنا سائز ایک چوتھائی کم کردے، وزراء، اعلی عدلیہ کے ججز اور دیگر اداروں کے عہدے داروں کی تنخواہ ان کے فیملی سائز کے مطابق تخفیف کردی جائے۔ جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو پھر دیکھیں گے ۔جھوٹے انسان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ہاتھوں کو لہرا لہرا کر اور انگلیاں گھما گھما کر بات کرتا ہے ۔ستم ظریف کہتا ہے کہ اگرچہ حکمران عوام کو تسلی دینے کے لیے باور کراتے رہتے ہیں کہ ہم اپنے وزراء اور وزارتوں کو فضول خرچیاں نہیں کرنے دیں گے ،لیکن مسئلہ وزراء پر نئی گاڑیاں اور فریج خریدنے کی پابندی کا نہیں ،خود وزراء کی فوج ظفر موج کا وجود ایک مسلہ ہے ۔اور مراعات یافتہ اشرافیہ بھی ، جو بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں اور ڈیوٹی کے طور پر عوام کا خون نچوڑتے ہیں۔ یہ ایسے تسلی بخش بے شرم ہیں کہ حج بھی سرکاری خرچ پر کرتے اور رو رو کر اپنی نجات کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں ،گویا جو خدا تک کو دھوکہ دیتے نہ شرمائیں ان کا کوئی کیا کر سکتا ہے۔ستم ظریف نے فیصلہ صادر فرمایا کہ سرکاری حکام اور اہلکاروں کے مفت حج پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔اگر کسی نے ایسی کوئی تجویز پیش کی ہے تو اسےسو تھپڑ اور دوسو کوڑے مارے جائیں ۔شرلی بے بنیاد اور ستم ظریف کے افکار عالیہ سننے کے بعد میں نے انہیں سمجھایا ہے کہ اگر وہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جاری نظام کے خلاف عوامی بغاوت کی ضرورت تو ہے ،مگر ایسی بغاوت کے لیے عوام آمادہ و تیار نہیں ہیں ، تو پھر انہیں رکے ہوئے وقت کی تیز رفتار گھڑیوں کے شور میں صبر کرتے ہوئے شکر کے امکانات کی تخلیق پر توجہ دینی چاہئیے ۔







