Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

چھوٹے لوگ اوچھی باتیں !

وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ گنجے کو ناخن مل جائیں تو وہ اپنا سر کھجا کھجا کے پاگل ہوجاتا ہے ! من و عن یہی حال جرنیلوں کے اس کرپٹ ٹولہ اور اس کے انتہا درجہ کے کرپٹ اور بدعنوان کٹھ پتلی سیاستدانوں کا ہے جنہیں عاصم منیر نے عمران خان کی تحریکِ انصاف سے ، جنہیں پاکستان کے عوام کی پذیرائی اور قبولیت حاصل تھی، فروری 2024ء کے انتخابات پر شبخون مارنے کے بعد قوم کے سروں پہ مسلط کیا ہے اور جو اپنی کرپشن اور لوٹ مار سے، جرنیلوں کے ساتھ مل کر، ملک کے عوام کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں !یہ جرنیلی ٹولہ اور ان کی کٹھ پتلیاں کتنے کم ظرف اور چھچھورے ہیں اس کا اندازہ تو پاکستان کے بچے بچے کوان تین برسوں میں بخوبی ہوچکا ہے جب سے یہ فراعین اور ہامان ملک کو اپنی موروثی جاگیر سمجھ کے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں !لیکن ان کی کم ظرفی اور ان کے چھچھورے انتقامی جذبہ کا اندازہ تو اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا جو رویہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ضمن میں اپنایا ہے !مولانا پاکستانی سیاست کا ایک ایسا کردار ہیں جسے سیربین سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔سیربین میں کیا ہوتا ہے کہ اس میں دم بدم رنگ بدلتے رہتے ہیں اور جس زاویہ سے دیکھو رنگوں کی ایک نئی شکل، ایک نئی صورت دکھائی دیتی ہے !مولانا کے سیاسی کردار کو کچھ لوگ، بغیر لگی لپٹی رکھے بغیر، گرگٹ سے مشابہت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولانا اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے موقع مناسبت کو دیکھتے ہوئے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔مولانا کے بہت سے حاسد یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ مولانا سیاست کا ہر داؤ پیچ جانتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے اپنی سیاسی وفاداریاں اس تیزی سے بدلتے ہیں جس تیزی سے کام پر جانے والے لوگ اپنی قمیص یا آج کی پاکستانی بھاشا میں شرٹ بدلا کرتے ہیں!بہر حال مولانا کے سیاسی قد کاٹھ کا حتمی فیصلہ تو مستقبل کا مورخ کرے گا لیکن یہ کہہ کے قصہ مختصر کردیتے ہیں کہ مولانا پاکستانی سیاست کا ایک افسانوی کردار بن کے ہمارے سامنے ہیں۔ان دنوں مولانا نے اپنی توپوں کا رخ بجا طور پہ جرنیلی ٹولہ کی سمت کیا ہوا ہے۔ بہت سے مبصرین کا، جن میں یہ راقم السطور بھی شامل ہے، تجزیہ یہ ہے کہ مولانا کے طویل سیاسی کیرئیر میں جس طرح مولانا اپنی وفاداریاں بدلنے کے سزاوار قرار دئیے جاتے رہے ہیں تو اب، اس مرحلہ پر جہاں مولانا کی سیاسی تاریخ کا شائد اختتامی باب رقم کیا جانے والا ہے مولانا بھی صدقِ دل سے اپنا قبلہ درست کرنا چاہ رہے ہیں !مولانا پہ وہ سیاسی کٹھ پتلیاں جن کی ڈوریاں جرنیلوں کے ہاتھوں میں ہیں اور جو اپنے سرپرستوں کے اشارے پہ اچھلتے کودتے ہیں ان دنوں یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ مولانا نے اسی اسٹیبلشمنٹ سے، جسے وہ آج اپنی چاند ماری کیلئے ہدف بنائے ہوئے ہیں، ماضی میں بہت فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔ اس الزام میں کچھ حقیقت بھی ہے کہ مولانا جرنیلوں کے پروردہ ان سیاسی خاندانوں سے، جن میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سرِ فہرست ہیں، استفادہ کرتے رہے ہیں اور ایک طویل عرصہ تک سینیٹ کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کے عہدہ پہ فائز رہے ہیں جہاں ان کی کارگردگی میں کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس پر مولانا فخر کرسکیں !یہ الزام اپنی جگہ الگ حیثیت رکھتے ہیں لیکن سیاسی قبلہ تو کسی بھی وقت درست کیا جاسکتا ہے اور مولانا ان دنوں یہی کر رہے ہیں !جرنیل اس پر بہت برافروختہ ہیں کہ مولانا انہیں کھری کھری سنارہے ہیں، بے نقط حقیقتِ احوال بیان کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پہ دو تین دن پہلے، جب ہمارے جرنیلی نظام کے بقراط و سقراط ، محسن نقوی اور عاصم منیر، تہران میں سہ فریقی دفاعی تعاون کے ایک اجلاس میں ، جس میں سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، جو ولیعہد محمد بن سلمان کے حقیقی برادر بھی ہیں، شرکت کر رہے تھے، پاکستان کا چہرہ بنے ہوئے تھے مولانا نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وہ تقریر کی، اور بے شرم خواجہ آصف اور بےغیرت اسحاق ڈار کو وہ آئینہ دکھایا جس میں ان کے کریہہ خد و خال اتنے واضح طور پہ دکھا دئیے کہ ان غیرت سے عاری کٹھ پتلی وزراء میں کوئی حیا اور شرم ہوتی تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرتے !مولانا نے حقیقتِ احوال بیان کرتے ہوئے سوال کیا کہ تہران میں وزرائے خارجہ اور دفاع کا اجلاس ہورہا ہے لیکن پاکستان کے ان دونوں محکموں کے وزراء تو اسمبلی میں براجمان تھے جبکہ پاکستان کی نمائندگی عاصم منیر اور اس کی پخ، محسن نقوی کر رہے تھے !مولانا نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ خواجہ آصف کو یاد دلایا ان کا وہ جملہ جو پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ضرب المثل بنا ہوا ہے، "کوئی حیا ہوتی ہے، کوئی غیرت ہوتی ہے ” لیکن مولانا کو شاید یاد نہیں رہا کہ عاصم منیر کی یہ سیاسی کٹھ پتلیاں بےغیرتی اور بے شرمی کی ہر حد پار کرچکی ہیں۔ ان کی بےغیرتی اور بے حیائی تو جرنیلی ٹولہ کی نظر میں ان کی سب سے بڑی صلاحیت ہے جس کے سبب جرنیلوں کے طاغوتی نظام میں ان کی افادیت بنی ہوئی ہے !عاصم منیر ہر جگہ یوں جارہا ہے کہ دنیا اس کے چہرہ کی عادی ہوجائے اور وہ پاکستان کی نمائندہ شخصیت تسلیم کرلیا جائے۔ اس یزید کا منصوبہ تو یہی ہے کہ وہ ہر احتساب اور مواخذہ سے استثنیٰ حاصل کرنے کے بعد اس کا ڈول ڈال رہا ہے کہ پاکستان کا تاحیات صدرِ مملکت بھی بن جائے۔ اٹھائیسویں (28ویں) آئینی ترمیم کی تیاریاں ہوچکی ہیں اور کسی بھی دن جرنیلوں کی تابع قومی اسمبلی اور سینیٹ اس ترمیم کی منظوری ایسے ہی دے دیگی جیسے اس سے قبل 26ویں اور 27ویں ترمیمات کو کمال سرعت سے منظور کیا گیا تھا!ہم نے اس انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال ان دو قطعات میں سمیٹ دی ہے :
یہ جو جوڑی ہے بقراط و سقراط کی
یہ تو بخشش ہے صیہونی خیرات کی
قوم کی بدنصیبی ہے یہ المیہ
یہ علامت نہیں کوئی برکات کی
اور
کھاگیا اس کو ٹولہء جرنیل
ملک میرا کہاں ہے پاکستان
اب یہ مقبوضہ دیس ان کا ہے
جو بناتے ہیں اس کو "خاکستان”
تو مولانا نے جرنیلی ٹولہ اور اس کی کٹھ پتلیوں کو جو آئینہ دکھایا تو کم ظرفوں نے فورا” اپنا انتقامی کھیل شروع کردیا !لیکن چھوٹے لوگوں کی، وہ جن کے سیر کے برتن میں حادثاتی طور پہ سوا سیر پڑجائے، جوابی کارروائی ہمیشہ اوچھی اور چھچھوری ہوتی ہے !اپنے یزیدی مزاج کے عین مطابق عاصم منیر نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو مولانا کے خلاف لشکار دیا۔ اور تابع فرمان سی ڈی اے نے ، جو اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ ہے۔ آج سے نہیں بلکہ 1960ء سے جب عاصم منیر کی طرح خود پسند جرنل ایوب خان نے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل بنالیا تھا، اسلام آباد کا انتظام و انصرام اس ادارہ کی تحویل میں ہے ، مولانا کو نوٹس جاری کردیا کہ انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے باہر جو گارڈ روم بنایا ہوا ہے وہ تجاوزات میں آتا ہے۔ !مولانا کو پندرہ دن دئیے گئے ہیں تجاوزات ہٹانے کیلئے !یہ اس جاگیرداری کلچر کا شاخسانہ ہے جس کا گلہ ہم اپنی تحریروں میں اور اپنے ٹیلیوژن پروگراموں میں کرتے رہے ہیں۔ لیکن روگ کا رونا رونے سے تو حالات نہیں بدلتے۔حالات بدلتے ہیں تو عوامی تحریکِ انقلاب سے۔ لیکن جرنیلوں نے نہ آج تک ملک میں جمہوریت کو جڑ پکڑنے دیا ہے نہ سیاسی نظام کو درست ہونے کا موقع دیا ہے۔ جہاں ایسے آثار پیدا ہوتے ہیں، جیسے عمران خان کی قیادت میں آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے کہ وہ سیاسی قیادت ابھر رہی تھی جسے عوام کی تائید و حمایت حاصل تھی تو وہیں یہ ملک دشمن اور عوام دشمن جرنیل بازی الٹ دیتے ہیں اور بساطِ سیاست پر ان کٹھ پتلیوں کو مسلط کردیتے ہیں جنہیں عوام مسترد کرچکے تھے !عاصم منیر کے یزیدی ٹولہ نے تو پاکستان کے بے بس و بے کس عوام کو آٹے دال کے چکر میں ایسا گرفتار کیا ہے کہ عوام کی اکثریت کو کسی اور موضوع پر توجہ دینے کی فرصت ہی ناپید ہوگئی ہے۔ غریب کیلئے تو اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا
بند و بست کرسکے !پاکستان میں جب سے عمران کی حکومت کو جرنیلی سازش سے برطرف کیا گیا ہے ملک کے 48 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے گر چکے ہیں۔ لیکن مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لیتا۔اس پر طرہ یہ کہ جرنیلوں کا ایجنڈا یہ ہے کہ ملک میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنائے جائیں !ماہرینِ معاشیات نے جو ابتدائی تخمینہ نئے صوبوں کا لگایا ہے وہ آنکھیں کھول دیتا ہے !صرف پنجاب میں اگر دو نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کا سالانہ خرچہ 47 ارب روپے سے 57 ارب روپے تک ہوگا !اگر ملک کے تمام تیس (30) ڈویژن صوبوں میں بدل دئیے جائیں تو ان پر سالانہ خرچہ 610 ارب روپے سے لیکر 730 ارب روپے ہوگا۔اب ایک ایسا ملک جو کنگال ہے، جس کا وزیر اعظم کشکولِ گدائی لے کر دنیا بھر میں بھیک مانگتا پھرتا ہے، ان اخراجات کا کیسے متحمل ہوسکتا ہے !لیکن نہ جرنیلی ٹولہ کو اس کا غم ہے کہ ملک کنگال ہے نہ ان کی کٹھ پتلیوں کو یہ خیال ہے کہ وہ ملک و قوم کے ساتھ کیا ظلم کر رہے ہیں !وہ جو پرانی کہاوت ہے کہ روم جل رہا تھا لیکن نیرو (روم کا بادشاہ ) بانسری بجا رہا تھا وہ اس جرنیلی ٹولہ اور اس کے سیاسی مہروں پر کلیتاً صادق آتی ہے !مریم نواز کا بس نہیں چلتا کہ وہ خود کو اگر پاکستان کی نہیں تو پنجاب کی ملکہ نامزد کروادیں !مریم نواز کی سالگرہ پورے پنجاب میں دھوم دھام سے منائی گئی اور اسکول کے بچوں کے مقابلہ کروائے گئے کہ کون مریم کی تصویر بہتر پینٹ کرتا ہے !اب ہر محبِ وطن پاکستانی کیلئے صرف اور صرف ایک سوال بچتا ہےجو انہیں خود سے کرنا چاہئے :یہ ٹولہ جو ملک و قوم پر مسلط ہے کیا اس کی ہوس رانیوں پر پاکستان کی قربانی ہورہی ہے اور کیا اس کا کوئی سدِ باب ہوسکتا ہے ؛ کیا ممکن ہے کہ ان سے نجات حاصل کی جاسکے ؟اس سوال کا جواب آپ خود بھی تلاش کیجئے۔ پاکستان سے محبت کا یہی تقاضہ ہے !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button