ایک شام ۔۔خورشیدحسنین کے نام !

پاکستان میں تو اسکول کالج میں پڑھا کر گزارا ہو ہی گیا ،دال روٹی چلتی رہی،ادب سے وابستگی کا ایک فائدہ یہ ضرورہوا کہ حال کیسے بھی ہوں اہلِ ادب میں ایک ساکھ بنی رہی،کئی بار تو ایسا ہوا کہ گھر میں بیٹھے ہیں اور گھنٹی بجی،یار دوست دروازے پر، چلو چلو بھئی مشاعرہ ہے،ہم لاکھ کہتے رہیں کہ بھائی کپڑے تو بدل لینے دو،مگر شنوائی کبھی نہ ہوئی جس حال میں تھے اسی حال میں چل دیئے،بس اتنی مہلت ضرور ملی کہ بیاض اٹھا لیں،محفل میں گئے برے حالوں ،شعر سنے سنائے،بھلا مجال کہ کسی نے پوچھا ہو کہ یہ کس حال میں اٹھ کر آ گئے ہو،اسی حالت میں چائے خانے کا رخ بھی کیا پان کھانے کا شوق کبھی نہیں رہا مگر دوستوں کے اصرار پر پان بھی کھانا پڑا،مذاق بھی بنا کہ تمہیں پان کھانا نہیں آتا،اور ہم کہتے کہ منہ کے اندر پان کی پیک لے کر چلنا کون سی تہذیب ہے،اور پھر پان کی پچکاری مارنا،اف توبہ،بہت بد تہذیبی،مگر یوپی سی پی تہذیب میں پان کھانے کا سلیقہ تو آنا ہی چاہیئے ااور ہم یہ سلیقہ کبھی سیکھ ہی نہ سکے،شروع شروع میں تو سگریٹ پینے کا بھی سلیقہ نہ تھا،ہم سگریٹ پیتے تو دوست کہتے کہ لو بھئی اب انجن چلتا ہوا دیکھو،پھر کچھ لوگوں نے بتایا کہ جیسے راز سینے میں چھپا کر رکھتے ہو اسی طرح سگریٹ کا دھواں بھی سینے میں اتارنا سیکھو،ہر چند کہ دھواں منہ میں دیر تک نہیں رکھا جا سکتا،مگر منہ کے اندر دھواں رکھنا بھی سگریٹ پینے کے آداب میں شامل ہے پھر یہ آداب مزا بھی دینے لگتے ہیںامریکہ میں Camel کے نام سے ایک سگریٹ ملتا ہے اس سگریٹ کمپنی کا ایک بہت بڑا بل بورڈ برانکس میں لگا ہے اس پر لکھا ہےHundred years of smoking,smooth character پچاس پچپن سال سے تو ہم بھی سگریٹ پی رہے ہیں سنا تھا کسی کو منہ لگا کر چھوڑنا اچھا نہیں سو ہم نے بھی منہ لگا کر چھوڑا نہیںبہر حال بات ہو رہی تھی شعری محفلوں کی ،امریکہ آئے تو وہ محفلیں نہ رہیں نہ وہ آداب نہ وہ خلوص،البتہ کچھ برس مشاعرہ بازی چلی،وہ بھی رفتہ رفتہ معدوم ہوتی جا رہی ہے،دو ایک انجمنیں ہیں وہ کبھی کبھی محفل جما لیتی ہیں ،ان میں سے ایک حلقہء ارباب ذوق نیویارک ہے جو پچھلے بیس سال سے باقاعدگی سے پروگرام کا انعقاد کرتی ہے،میری صحت کے کچھ مسائل ہیں،کچھ تساہلی، کبھی ہمت مل جاتی ہے تو ان پروگرام کا حصہ بن جاتا ہوں،پھر تا دیر اس محفل کی خوشبو جزوِ جاں رہتی ہے،پچھلے ماہ معروف نقاد ن م دانش کی کتاب کی رو نمائی ہوئی شاندار پروگرام تھا۔چند دن قبل حلقہء ارباب ذوق نے ایک اور تقریب منعقد کی،شہلا نقوی کا میسج تھا کہ پاکستان سے خورشید حسنین آ رہے ہیں ان کے اعزاز میں ایک پروگرام رکھا آ جائیں ملاقات بھی ہو جائے گی،میں نے حامی بھر لی،یہ پروگرام یکم نومبر کو تھا،میں وقت پر پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ،پروگرام نیویارک کوئینز کے علاقے شیرازی ریسٹورنٹ میں تھا یہ ریستوران اپنے کھانوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے،سنا ہے کڑھائی بہت اچھی ملتی ہےمگر ابھی تک چکھی نہیں،بہر حال ہال میں پہنچا تو ن م دانش خورشید حسنین سے محوِ گفتگو تھے اور خورشید حسنین بہت خاموشی سے دانش کی باتیں سن رہے تھے ہم پہنچے تو خورشید حسنین سے دانش نے یہ کہہ کر تعارف کرا دیا ہیں یہ ہیں واصف حسین واصف اور کلام کا سلسلہ وہیں سے جوڑ لیا جہاں سے ٹوٹا تھاکوئی علمی گفتگو نہیں تھی کچھ یہی بتایا جا رہا تھا کہ میں ان کو بھی جانتا ہوں خورشید حسنین بھی بتا رہے کہ اسلام آباد میں وہ ان لوگوں سے واقف ہیں،دانش بات شروع کریں تو داستانِ امیر حمزہ کی طرح طویل ہو جاتی ہے، اور دانش کی سانس نہیں ٹوٹتی،اسی دوران اعلان ہوا کہ appetiserسے خط اٹھایا جائے،یہ جوAppetiser ہوتا ہے یہ بھی پیٹ بھر دیتا ہے ابھی میری پلیٹ میں بہت کچھ تھا کہ شہلا نقوی مائک پر آگئیں اور پروگرام کا آغاز ہو گیا،شہلا نقوی نے خورشید رضوی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ موصوف نے فزکس میں Phdکیا ہے ایک شعری مجموعہ منظر عام پر آ چکا ہے اور پاکستان کے معروف ادبی جریدوں میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے ہیں ایک ناول بھی شائع ہو چکا ہے دانش رکے تو مجھے خورشید حسنین سے بات کرنے کا موقع ہاتھ آگیا،میں نے خورشیدحسنین سے پوچھا کہ ناول کا بنیادی خیال کیا ہے انہوں نے بتایا کہ ناول کا بنیادی خیال اس حقیقت سے منسلک ہے کہ کس طرح غریب بستیاںاجاڑ کرپوش علاقے اور gated communitiesبنا دی جاتی ہیں ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ترقی پسندی کی طرف مائل ہیں،دوران ِگفتگو انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے تعاون سے مسلم ممالک میں سائنس اورٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے مگر پاکستان اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا رہا انہوں نےبتایا کہ ملائیت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ایسا امکان کم ہے کہ پاکستان مولوی کی گرفت سے مستقبل قریب میں آزاد ہو سکے ڈاکٹر خورشید حسنین نے کہا کہ یہ پروگرام آذربائیجان کے لئے بھی ہے چونکہ آذربائیجان کی سوسائٹی اوپن ہے لہٰذا امید ہے کہ یہ ملک او آئی سی کے اس پروگرام سے فائدہ اٹھاسکتا ہے،کچھ اور وقت مل جاتا تو ڈاکٹر صاحب سے مزید گفتگو ہو سکتی تھی سعید نقوی حلقے کے روحِ رواں ہیں،سلیقے سے پروگرام ترتیب دیتے ہیںشہلا نے پروگرام کو بہت خوبصورتی سے coordinateکیا ،میں حلقے کے اجلاسوں میں کم جاتا ہوںسو مجھے نئے آنے والوں سے واقفیت نہیں،ڈاکٹرخورشید حسنین کی شاعری پر بات کرنے کے لئے عابد رضا کو دعوت دی گئی اور مجھے اس نوجوان کی مربوط گفتگو پر خوشگوار حیرت ہوئی،عابد رضا نے انتہائی سلیقہ مندی سے ڈاکٹر خورشید حسنین کی شاعری پر بہت اچھی گفتگو کی اور بہت سے نکات کو سمیٹ لیا،پروگرام کے آخر میں میں میں نے عابد رضا کو ان کی گفتگو پر خراج تحسین پیش کیااور عابدرضا نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے اپنی کتاب بذریعہ ڈاک روانہ کر دینگے مجھے ان کی کتاب کا بے چینی سے انتظار ہے،احمد مبارک ادب کے سنجیدہ قاری ہیں،احمد مبارک نے ڈاکٹر خورشید حسنین کے افسانوں پر سیر حاصل گفتگو کی اس گفتگو سے ڈاکٹر حسنین کے افسانوں کو پڑھنے کا اشتیاق بڑھ گیا۔سعید نقوی نے تو گزشتہ چند برسوں ترجمے، افسانے،ناول پر بے تحاشا کام کیا ہے اتنا کام کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کے اتنا ادبی کام کیسے کر سکتا ہے،مگر اندازہ ہوتا ہے کہ سعید نقوی کاtime management بہت اچھا ہے،اتنا اچھا کہ وہ باہر کے ممالک کی سیر کے لئے وقت نکال لیتے ہیں اور فیس بک پر اپنے سفر کی روداد بھی شیئر کر دیتے ہیں،سعید نقوی نے ڈاکٹر صاحب کے ناول کا تفضیلی جائزہ پیش کیا،ن م دانش ایک فطین نقاد ہے،ظالم کا انتقادی شعور قابلِ رشک،دانش نے ڈاکٹر حسنین کی نظموں پر ناقدانہ نظر ڈالی،انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے کلام میں منیر نیازی اور ن م راشد کو بھی ڈھونڈ نکالا، از راہ کرم ڈاکٹر حسنین نے اپنی شاعری کی کتاب مجھے پیش کی جس کے لئے میں ان کا ممنون ہوں،دانش کے تبصرے نے اس کتاب۔کنارِ آب کا خواب ۔کے مطالعے کے لئے آمادہ کر دیا ہے،اس شعری مجموعے کا نام ہی بہت خوبصورت ہے جو حافظ کے ایک مصرعے سے لیا گیا اسی نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر خورشید حسنین کا مطالعہ بہت وسیع ہے ایک بہت سنجیدہ ادب کا قاری ہی حافظ کے کلام سے خط اٹھا سکتا ہے مجھے امید ہے کہ یہ مطالعہ مجھے سرشاری دے گا،ڈاکٹر خورشید حسنین اسلام آباد میں رہتے ہیں ادبی حلقوں میںجانے پہچانے جاتے ہیں،ہر چند کہ ریٹائیر ڈ ہیں مگر بہت متحرک،اس اجلاس کی صدرات جناب رفیع الدین رازکے حصے میں آئی راز صاحب کا ادب پر بہت کام ہے، غزل، نظم، افسانہ،انشائیہ،رباعی،تقریباً ہرصنف پر راز صاحب نے طبع آزمائی کی ہے ان کی کتابوں کی تعداد درجنوں میں ہے ہر سال ہی ان کی دو ایک کتابیں منظرِعام پر آجاتی ہیں،یہ کام اتنا زیادہ ہے کہ اب راز کی کلیات آجانے چاہیئے،راز صاحب نے ڈاکٹر خورشید حسنین کی غزل پر قابلِ قدر تبصرہ کیا ۔خوبصورت بیان اور تراشے ہوئے جملے جو سننے اور پڑھنے میں مزا دیتے ہیں،پتہ چلتا ہے کہ راز صاحب کو تنقید کی درک ہے،بہر حال یہ ایک خوبصورت پروگرام تھا جو ایک مدت ذہنوں میں تازہ رہے گا،ڈاکٹر شہلا نقوی کی نظامت سادہ اور با وقار تھی،پروگرام میں طاہرہ نقوی سے بھی ملاقات ہوئی،ایک عرصے کے بعد،طاہرہ نقوی نے بچوں کے ادب پر تخلیق کردہ فاطمہ مجتبی کی کتاب ۔نانی اماں کی کہانیاں تقسیم کیں طاہرہ نقوی کی اپنی تخلیق بھی ہاتھ لگی جو بچوں کے ادب سے متعلق ہے بچوں کے ادب کی تخلیق پر یہ سنجیدگی لائق تحسین ہے بہت کم ہواہے کہ پروگرام کے بعد پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا گیا ہو مگر یہاں بہت ہی پر تکلف لنچ کا اہتمام تھا،اتنے کھانے کہ انتخاب کرنا مشکل تھا کہ کیا کھایا جائے حلقہ ء اربابِ ذوق کو ایک خوبصورت محفل کے انعقاد پر ڈھیر ساری مبارک باد۔







