Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پاکستانی معیشت دولت کی تخلیق محنت اور منصفانہ تقسیم کا سوال

تحریر آصف اقبال
کسی بھی ملک کی معیشت کو سمجھنے کے لیے محض مجموعی قومی پیداوار زرمبادلہ کے ذخائر اسٹاک مارکیٹ کی صورتِ حال یا حکومتی ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار کافی نہیں ہوتے معیشت کی اصل حقیقت جاننے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دولت کیسے پیدا ہو رہی ہے اس پر اختیار کس کا ہے اس کی تخلیق میں کن طبقات کی محنت شامل ہے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد معاشرے میں کس طرح تقسیم ہو رہے ہیں درحقیقت کسی بھی معاشی نظام کی کامیابی کا پیمانہ صرف دولت کی مقدار نہیں بلکہ اس کی منصفانہ تقسیم اور عام شہری کی زندگی میں آنے والی بہتری بھی ہےیہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں کلاسیکی سیاسی معیشت Classical Political Economy کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ میرے ایک دیرینہ اور مخلص دوست، جناب الیاس خان صاحب، جو شعبۂ وکالت سے وابستہ ہیں کے ساتھ اکثر علمی، قانونی اور معاشرتی موضوعات پر گفتگو رہتی ہے آئینِ پاکستان کو سمجھنے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے حالیہ گفتگو میں انہوں نے نظامِ معیشت اور معاشرتی ڈھانچے سے متعلق چند اہم کتابوں کا ذکر کیا اور ان کے مطالعے کا مشورہ دیا ان کتابوں کے مطالعے نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال کو ایک نئے فکری زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں یہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا خیال پیدا ہوا کلاسیکی سیاسی معیشت اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا ایک اہم علمی مکتبِ فکر ہے جس نے دولت محنت سرمایہ زمین، منافع اجرت اور طبقاتی تقسیم جیسے موضوعات کو معاشی مطالعے کا مرکز بنایا ایڈم اسمتھ، ڈیوڈ ریکارڈو اور تھامس مالتھس اس روایت کے نمایاں مفکرین تھے جب کہ کارل مارکس نے اسی فکری روایت سے استفادہ کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کا گہرا تنقیدی تجزیہ پیش کیا۔ ان مفکرین کے نظریات میں اختلافات کے باوجود ایک بنیادی سوال مشترک تھا معاشرے میں دولت کیسے پیدا ہوتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کن طبقات تک پہنچتے ہیں؟آج پاکستان کی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات اب بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں ایڈم اسمتھ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب دی ویلتھ آف نیشنز میں قومی دولت کا تعلق محنت، پیداوار سرمایہ کاری اور تقسیمِ کار سے جوڑا ان کے نزدیک کسی ملک کی حقیقی معاشی قوت اس کی پیداواری صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے پاکستان کے پاس زرخیز زمین معدنی وسائل زرعی صلاحیت کاروباری تجربہ اور نوجوان افرادی قوت کی صورت میں بے پناہ امکانات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود معیشت کو بے روزگاری مہنگائی پیداواری کمزوری اور مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے سوال یہ ہے کہ اتنے وسائل کے باوجود ہم ایک مضبوط پیداواری معیشت کیوں تشکیل نہیں دے سکے؟ کیا سرمایہ کاری صنعت جدید ٹیکنالوجی اور زراعت کی ترقی پر ہو رہی ہے؟ کیا نوجوانوں کو ایسی تعلیم اور فنی تربیت میسر ہے جو انہیں قومی پیداوار کا مؤثر حصہ بنا سکے؟ کیا چھوٹے کاروباروں کو سرمایہ اور منڈیوں تک مناسب رسائی حاصل ہے؟ یہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی معیشت کے بنیادی سوالات ہیںڈیوڈ ریکارڈو نے اپنی معاشی فکر میں اس امر کو اہمیت دی کہ قومی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی زمین کے مالکان سرمایہ فراہم کرنے والوں اور محنت کشوں میں کس طرح تقسیم ہوتی ہے پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں میں یہی سوال مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ زرعی شعبے میں زمین کا مالک سرمایہ فراہم کرنے والا کسان اور زرعی مزدور ایک ہی پیداواری عمل کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان کی آمدنی اور معاشی تحفظ یکساں نہیں۔ اسی طرح صنعت میں سرمایہ کار منافع حاصل کرتا ہے، جب کہ مزدور اپنی محنت کے عوض اجرت وصول کرتا ہےلہٰذا قومی پیداوار میں اضافے کو حقیقی ترقی قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے ثمرات کن طبقات تک پہنچ رہے ہیں اور کیا محنت کرنے والے افراد کو بھی ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے؟ پاکستان کی معیشت میں زراعت بنیادی اہمیت رکھتی ہے لیکن زرعی ترقی کو صرف فصلوں کی پیداوار کھاد بیج اور آبپاشی تک محدود نہیں کیا جا سکتا زمین کی ملکیت پانی کی دستیابی زرعی قرضوں منڈیوں تک رسائی اور کسان کی خالص آمدنی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ چھوٹے کسان کو موسمیاتی تبدیلی مہنگے زرعی مداخل پانی کی قلت اور قرضوں جیسے مسائل کا سامنا ہے جب کہ بڑے زرعی اثاثوں کے حامل طبقات کی معاشی حیثیت اور وسائل تک رسائی مختلف ہے اس لیے زرعی ترقی کا اصل پیمانہ صرف فی ایکڑ پیداوار نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کسان کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا زرعی مزدور کے حالات کیسے بدلے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کتنی بہتر ہوئی صنعتی ترقی کے حوالے سے بھی پاکستان کو سنجیدہ معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے ایڈم اسمتھ نے آزاد منڈی اور مسابقت کو معاشی ترقی کے اہم عوامل قرار دیا تاہم آزاد منڈی اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جب مقابلے کے یکساں مواقع موجود ہوں۔ اگر چند بڑے کاروباری گروہ منڈی پر غیر معمولی اثرورسوخ رکھتے ہوں، چھوٹے صنعت کار کو قرض نہ ملے اور نئے کاروبار کے لیے رکاوٹیں زیادہ ہوں تو آزاد منڈی کے فوائد محدود ہو جاتے ہیں پاکستان کو ایسی صنعتی پالیسی درکار ہے جو سرمایہ کاری تحقیق جدت برآمدات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دے ہمیں ایسی صنعتوں کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کرنے کے ساتھ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کو مسابقت کے قابل بنا سکیں کسی بھی معاشی نظام کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ محنت کش کی زندگی میں بہتری ہے مزدور کسان فیکٹری ورکر، تعمیراتی کارکن اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد معیشت کی بنیاد ہیں لیکن اکثر یہی طبقات مہنگائی کم اجرت اور معاشی عدم تحفظ کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں عالمی بینک کے اکتوبر 2026 کے جائزے کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستان میں حقیقی اجرتوں میں سالانہ اوسطاً 3.4 فیصد کمی ہوئی، جب کہ غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ معاشی استحکام اور عام شہری کی معاشی بہتری لازماً ایک دوسرے کے مترادف نہیں اگر معاشی اشاریے بہتر ہوں لیکن شہری کی قوتِ خرید کم ہو رہی ہو تو حکومتی معاشی پالیسیوں کے سماجی نتائج کا جائزہ لینا ناگزیر ہے ٹیکس کا نظام بھی سیاسی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے ریاست کو تعلیم صحت دفاع بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں لیکن اصل سوال صرف ٹیکس وصولی کا نہیں بلکہ اس کے منصفانہ نفاذ کا ہے آئی ایم ایف کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی ٹیکس آمدنی جی ڈی پی کے 12.3 فیصد تک پہنچی رپورٹ میں زرعی شعبے کی مؤثر ٹیکس شرح اور اس کی معاشی قدر میں شراکت کے درمیان فرق کی بھی نشان دہی کی گئی اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے ٹیکس چوری روکی جائے اور تمام معاشی شعبوں میں یکساں اصول نافذ کیے جائیں ایک منصفانہ نظام وہی ہے جس میں ہر طبقہ اپنی معاشی استعداد کے مطابق ریاستی وسائل کی فراہمی میں حصہ ڈالے اور حاصل ہونے والی آمدنی عوامی فلاح پر خرچ ہو پاکستان کا ایک بڑا معاشی چیلنج بیرونی قرضے درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن بھی ہے قرض لینا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ قرض سے حاصل ہونے والے وسائل کہاں خرچ کیے جاتے ہیں اگر سرمایہ پیداواری صنعت جدید ٹیکنالوجی انسانی ترقی اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے بجائے زیادہ تر فوری مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو تو معیشت قرضوں کے مسلسل چکر سے باہر نہیں نکل سکتی پاکستان کو ایسی معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی جو مقامی صنعت کو مضبوط کرے، برآمدات میں تنوع پیدا کرے زراعت میں ویلیو ایڈیشن بڑھائے اور قومی پیداواری صلاحیت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرے یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو آزاد منڈی چاہیے یا مضبوط ریاست؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک متوازن معاشی نظام کے بنیادی ستون ہیں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم صحت انصاف بنیادی ڈھانچے شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنائے جب کہ نجی شعبہ سرمایہ کاری پیداوار جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرے ریاستی مداخلت کا مطلب ہر کاروبار کو سرکاری تحویل میں دینا نہیں اسی طرح نجی شعبے کی آزادی کا مطلب اجارہ داری اور معاشی استحصال کو نظرانداز کرنا بھی نہیں پاکستان کو آج ایسی معاشی فکر اور پالیسی کی ضرورت ہے جو وقتی مالیاتی اہداف کے بجائے طویل المدتی پیداواری ترقی کو ترجیح دے زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانا چھوٹے کاروباروں کو سہولت دینا تعلیم اور فنی تربیت بہتر بنانا ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا اور محنت کش طبقے کا معاشی تحفظ یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے کلاسیکی سیاسی معیشت کا بنیادی سبق یہی ہے کہ دولت کی تخلیق اور اس کی تقسیم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کسی ملک کی حقیقی معاشی طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو محنت کو مناسب معاوضہ ملے، سرمایہ پیداواری سرگرمیوں میں استعمال ہو اور معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے وسیع تر طبقوں تک پہنچیں پاکستان کو صرف معاشی استحکام نہیں بلکہ پیداواری سماجی اور ادارہ جاتی استحکام بھی درکار ہے ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں کسان کو اس کی محنت کا صلہ ملے، مزدور باعزت زندگی گزار سکے صنعت کار کو منصفانہ مواقع حاصل ہوں اور ریاست ہر شہری کے لیے ترقی کے یکساں امکانات پیدا کرے بالاخر کسی بھی معیشت کی کامیابی کا سوال صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنی دولت پیدا کی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس دولت کی تخلیق میں کس نے حصہ لیا اس پر اختیار کس کا رہا اس سے فائدہ کس کو پہنچا اور عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری آئی میرے نزدیک یہی کلاسیکی سیاسی معیشت کا بنیادی فکری سبق اور پاکستان کی معاشی سمت کے تعین کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button