Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ٹرمپ کے زوال کا آغاز!

منگل اور بدھ کی درمیانی شب انتخابی نتائج کے سامنے آنے سے پہلے تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ ڈیموکریٹک پارٹی ہائوس میں پانچ یا چھ نشستوں کی برتری حاصل کر لے گی اور سینٹ میں اسے ایک یا دو سیٹیں زیادہ مل جائیں گی۔ پنڈتوں کی پیشگویوںکے برعکس وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین سب کے لیے حیران کن ثابت ہوئے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوان نمائندگان میںلگ بھگ ستائیس سیٹوں کی برتری حاصل ہوئی ہے اور سینٹ میں اسے 54نشستیں حاصل ہو چکی ہیں۔ الیکشن سے پہلے سینٹ میںڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 47سیٹیں تھیں۔ ایک سو اراکین کے ایوان میںاکثریت حاصل کرنے کے لیے اسے چار مزید نشستیں درکار تھیں مگر اس نے سات حاصل کر لیں۔ یہ جیت اس لیے حیران کن ہے کہ یہ نشستیں ڈیپ ریڈ سٹیٹس میں واقع ہیں۔ مڈ ویسٹ اور جنوب میں واقع ان ریاستوں میں چند ایسی بھی ہیں جہاں ڈیمو کریٹس گذشتہ تیس برسوں سے نہیں جیتے تھے۔ ان میں ٹیکساس‘ مسی سیپی‘ سائوتھ اور نارتھ کیرو لائیناشامل ہیں۔ فلوریڈا اور جارجیا میںبھی ڈیموکریٹس نے سخت مقابلوں کے بعد کامیابی حاصل کی۔ ایوان نمائندگان یا ہائوس کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 218 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیموکریٹس اب تک کی اطلاعات کے مطابق 245سیٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ تا دم تحریر 43 اضلاع کے نتائج آنا باقی ہیں۔ ڈیموکریٹس کی اس حیران کن کامیابی کے بعد یہ طے ہو چکا کہ واشنگٹن میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ ہائوس اور سینٹ میں ریپبلیکن پارٹی کوجنوری میں تمام کمیٹیوں کی سربراہی سے دستبردار ہونا پڑیگا۔ ریپبلیکن پارٹی دو برس تک صدر ٹرمپ کے اقدامات کو تحفظ دیتی رہی اور ڈیموکریٹس کی مزاحمت کے آگے دیوار بنی رہی۔ ہائوس میں اسکے 221 اور سینٹ میں53 اراکین تھے اور یہ سب صدر ٹرمپ سے خوفزدہ تھے۔ ان میںسے ایک یا دو کو چھوڑ کر کوئی بھی صدر ٹرمپ کی مخالفت نہیں کر سکتا تھا۔ اسکا نتیجہ یہ نکلاکہ صدر ٹرمپ ٹیرف لگاتے رہے ‘ مہنگائی بڑھتی رہی اور انہیں منع کرنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ یورپی اتحادیوں کا تمسخر اڑاتے رہے اورانہیںروکنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ امریکہ ایران جنگ آٹھ ماہ سے جاری ہے ۔ تیل‘ ڈیزل اور گروسری کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیںاور ریپبلیکن پارٹی خاموش ہے۔ امیگریشن پولیس (ICE) قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہی ہے‘ لوگ احتجاج کر رہے ہیںمگر حکومت کان نہیں دھرتی۔ دو سال تک پکنے والے اس لاوے نے آخر کبھی نہ کبھی تو پھٹنا ہی تھا۔ اب نظر یہ آ رہا ہے کہ لوگ اس الیکشن کے انتظار میں تھے۔ وہ اپنے ووٹ کی طاقت جانتے تھے اس لیے خاموش ر ہے اور وقت آنے پر انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ امریکی انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ However this one turns out, there is always another election coming.یعنی اسکا جو بھی نتیجہ ہو اسکے بعد دوسرا الیکشن ضرور آئے گا۔ اب ڈیموکریٹک پارٹی اگر حالات کو بہتر نہ بنا سکی تو 2028 کے صدارتی انتخاب میں اسے بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ڈیموکریٹس کو درپیش چیلنج یہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے تعاون کے بغیر اپنے ایجنڈے کوآگے نہیں بڑھا سکتے ۔صدر امریکہ جس بل پر دستخط نہ کریں اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ نے الیکشن سے پہلے فاکس نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا تھا وہ الیکشن کے بعد ’’ مسٹر ویٹو‘‘ بن جائیں گے۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کے بھیجے ہوے ہر بل کو ویٹو کریں گے لیکن اب تین نومبر کے الیکشن کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکرٹک پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ صدر خواہ کسی بھی جماعت کا ہو اسے ریاست کا نظام چلانے کے لیے کانگرس کے بنائے ہوے قوانین منظور کرنا ہوتے ہیں۔وہ اگر ایسا نہیں کرتا تو کانگرس اسکے پیش کردہ بجٹ اور نئی تعیناتیوں کو منظور نہیں کرتی۔ یوں کانگرس اور ایگزیکٹو برانچ دونوں کو آئین کے مطابق مل جل کر کام کرنا پڑتا ہے۔ہائوس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے متوقع لیڈر حکیم جیفری نے اپنی جماعت کی انتخابی فتح کے موقع پر کہا کہ ’’ اب یہ وہ ایوان نمائندگان نہیں ہو گا جو دو برس تک صدر کے زر خرید ماتحت ادارے کے طور پر چلتا رہا It is the beginning of the great American comeback.یعنی یہ امریکہ کی شاندار واپسی کا آغاز ہے۔ ڈیموکریٹس کی انتخابی برتری اور جارحانہ ارادے اپنی جگہ مگر صدر ٹرمپ سے انکی مرضی کے خلاف ڈیل کرنا آسان نہ ہو گا۔ ڈیمو کریٹک امیدواروں کی اکثریت نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی میں کمی‘ ایران جنگ اور کرپشن کے خاتمے کا یقین دلایا ہے۔ اب ڈیموکریٹک کانگرس اگر وار پاور ایکٹ کے تحت صدر ٹرمپ سے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا وہ انکی بات مان لیں گے۔ کرپشن کے زیادہ تر الزامات صدر ٹرمپ کے فیملی ممبرز اور ارب پتی دوستوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کانگرس انکے خلاف تحقیقات تو کرواسکتی ہے مگر صدر ٹرمپ کیا انکے خلاف کسی عدالتی کاروائی کی منظوری دیں گے۔ ایران جنگ اگر جلد ختم نہیں ہوتی تو مہنگائی برقرار رہے گی ۔ صدر ٹرمپ کانگرس اور آئین کو دو برس تک نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ وہ اگر آئیندہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں تو 2028کے صدارتی الیکشن میں ریپبلیکن پارٹی کو اسکی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اگلے الیکشن میں ایک بڑی شکست سے بچنے کے لیے صدر ٹرمپ کو سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔ اب واشنگٹن پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس میںکانگرس جیسا طاقتور ادارہ صدر ٹرمپ کے مخالفین کے ہاتھ میں ہے۔ وقت بدل گیا ہے صدر ٹرمپ نہ بدلے تو انکا زوال تیزی سے اپنا سفر جاری رکھے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق وہ اگر نہ بدلے تو Super Lame Duck ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button