
ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اب دوسرے ممالک پر اپنا دھونس جمانے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کا کہنا ہے کہ امریکا اب اس قابل نہیں ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو "ڈکٹیٹ” کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی طرف سے ایک نئی تجویز پر غور کر رہا ہے۔اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد کی تاریخ تک ملتوی کرنا بھی شامل ہے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نک کا کہنا ہے کہ امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ آزاد ممالک کو اپنی پالیسی کا حکم دے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات کو ترک کرنا چاہیے۔



