
متحدہ عرب امارات یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی بھی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپیک سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ ملک کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی اور بدلتے ہوئے توانائی کے شعبے کے مطابق کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیداوار کی پالیسی سمیت موجودہ اور مستقبل کی صلاحیت کے مکمل جائزے کے بعد لیا گیا جس میں قومی سلامتی اور ملکی ضرورت کو مقدم رکھا گیا۔متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ اوپیک چھوڑنے کے بعد بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق بتدریج اور محتاط انداز میں اضافی تیل فراہم کرتے رہیں گے۔اس وقت متحدہ عرب امارات کو دیگر خلیجی ممالک کی طرح آبنائے ہرمز کی بندش جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر تیل برآمدی مراکز اسی علاقے میں واقع ہیں۔خیال رہے کہ اوپیک تنظیم 1960 میں قائم ہوئی تھی جو رکن ممالک کے لیے تیل کی پیداوار کی حد مقرر کرتا ہے تاکہ عالمی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات 1967 میں شامل ہوا تھا۔



