Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

افتخار گیلانی: فیصلہ درست، مگر بیانیہ کمزور کیوں؟

سیاسی تجزیہ ( آصف اقبال )
آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا انتخاب مسلم لیگ (ن) کا ایک اہم سیاسی فیصلہ ہے۔ پارلیمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی بھی حکومت یا جماعت کے لیے یہ فیصلہ اسی وقت مؤثر سمجھا جاتا ہے جب اس کے پیچھے قانون ساز اسمبلی کی مطلوبہ اکثریت موجود ہو۔ افتخار گیلانی نے اسمبلی میں 30 ارکان کی حمایت حاصل کرکے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا، اس لیے ان کے انتخاب کی بنیادی پارلیمانی حیثیت واضح ہے۔تاہم اس فیصلے کے بعد جو سیاسی بحث سامنے آئی، اس میں ایک اہم سوال مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ترجمانی اور ابلاغی حکمتِ عملی کے حوالے سے ضرور پیدا ہوا ہے افتخار گیلانی کوئی نووارد سیاسی شخصیت نہیں۔ ان کا سیاسی سفر مسلم لیگ (ن) کے آزاد کشمیر میں ابتدائی تنظیمی دور سے وابستہ ہے۔ وہ 2011 اور 2016 میں قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزیرِ تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے رہے اور پارٹی کے تنظیمی، پارلیمانی اور پالیسی معاملات میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں اس لیے ان کی وزارتِ عظمیٰ کو محض حالیہ انتخابی نتائج کے تناظر میں دیکھنا ان کے پورے سیاسی سفر کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا یہاں اصل سوال فیصلے کی آئینی یا پارلیمانی حیثیت سے زیادہ اس فیصلے کی سیاسی وضاحت کا ہے عام انتخابات میں کسی امیدوار کی شکست یقیناً ایک سیاسی حقیقت ہوتی ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پارلیمانی نظام میں وزیراعظم کا انتخاب براہِ راست عوام کے ذریعے نہیں بلکہ منتخب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں۔ اگر کوئی رکن اسمبلی آئینی طریقہ کار کے مطابق ایوان کا اعتماد حاصل کرلے تو اس کے مینڈیٹ کو اسی پارلیمانی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے افتخار گیلانی کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ امر قابلِ غور ہے کہ اس پارلیمانی حقیقت کو عوامی سطح پر بروقت اور مؤثر انداز میں کیوں نہیں سمجھایا جاسکا یہ ذمہ داری بالخصوص پارٹی کے ترجمانوں اور سیاسی ابلاغ سے وابستہ افراد پر عائد ہوتی ہے ایک سیاسی جماعت کے ترجمان کا کردار محض مخالف سیاسی جماعتوں کے بیانات کا جواب دینا نہیں ہوتا۔ پارلیمانی سیاست میں ترجمان دراصل جماعت کے فیصلوں، پالیسیوں اور سیاسی مؤقف کو عوام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ جب کوئی اہم سیاسی فیصلہ سامنے آئے تو ترجمان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے کے آئینی، سیاسی اور انتظامی پہلوؤں کو واضح کرے اور عوام کے ممکنہ سوالات کا مدلل جواب پیش کرے افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد سب سے نمایاں سوال یہی تھا کہ عام نشست پر شکست کے باوجود انہیں ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں لاکر وزارتِ عظمیٰ کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟اس سوال کا جواب پارٹی کے لیے مشکل نہیں تھا مسلم لیگ (ن) کے پاس یہ بتانے کے لیے کافی سیاسی مواد موجود تھا کہ افتخار گیلانی پہلے بھی منتخب رکن اسمبلی رہ چکے ہیں، صوبائی سطح پر وزارت کا تجربہ رکھتے ہیں، پارلیمانی امور سے واقف ہیں، قانون کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے جماعت کے ساتھ سیاسی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔اگر یہ تمام پہلو ابتدا ہی میں منظم انداز میں عوام کے سامنے رکھے جاتے تو ممکن ہے سیاسی بحث کا زاویہ مختلف ہوتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں پارٹی کی ترجمانی کی کارکردگی پر سنجیدہ غور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تنقید کا مقصد کسی فرد کو ہدف بنانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ پارلیمانی جماعتوں میں ادارہ جاتی سیاسی ابلاغ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس کے ترجمانوں سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ پارٹی کے اہم فیصلوں کے پس منظر، منطق اور مقاصد کو مؤثر انداز میں بیان کریں خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے ہوں، ترجمانی کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے پارلیمانی جماعت میں اختلافِ رائے کوئی غیر معمولی امر نہیں۔ جمہوری سیاست میں مختلف ارکان اور رہنماؤں کا کسی فیصلے پر مختلف رائے رکھنا سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ تاہم ایسے اختلافات کو جماعتی نظم، مشاورت اور پارلیمانی اکثریت کے تناظر میں بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اگر افتخار گیلانی نے ایوان میں 30 ووٹ حاصل کیے ہیں تو یہ ان کے پارلیمانی اعتماد کی واضح علامت ہے۔ پارٹی کو اس حقیقت کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے پارلیمانی استدلال کے طور پر پیش کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح افتخار گیلانی کی حالیہ انتخابی شکست کو بھی ایک متوازن سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے انتخابی سیاست میں کامیابی اور شکست دونوں جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ ایک امیدوار کسی ایک انتخاب میں شکست کھا سکتا ہے، مگر اس کا سابقہ پارلیمانی تجربہ، حکومتی ذمہ داریاں اور سیاسی خدمات اپنی جگہ موجود رہتی ہیں۔ کسی سیاست دان کی مکمل سیاسی اہلیت کا فیصلہ صرف ایک انتخابی نتیجے سے نہیں کیا جاسکتا یہی نکتہ مسلم لیگ (ن) اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ بنا سکتی تھی اس کے بجائے اگر جماعت مسلسل دفاعی انداز اختیار کرے تو مخالفین کے لیے سیاسی سوال کو اپنے حق میں استعمال کرنا آسان ہوجاتا ہے اب صورتحال بدل چکی ہے افتخار گیلانی وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں اور اب ان کی حکومت کے سامنے اصل امتحان کارکردگی کا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، سیاحت، انفراسٹرکچر، نوجوانوں کی ہنرمندی، ڈیجیٹل معیشت، سرمایہ کاری اور شفاف طرزِ حکمرانی ایسے شعبے ہیں جن میں عملی پیش رفت ہی ان کی حکومت کے لیے سب سے مضبوط سیاسی جواب ثابت ہوسکتی ہے حکومت اگر ان شعبوں میں قابلِ ذکر نتائج دیتی ہے تو موجودہ سیاسی سوالات خود بخود کمزور پڑ سکتے ہیں یہاں پارٹی ترجمانوں کا کردار ایک مرتبہ پھر اہم ہوجاتا ہے اب انہیں صرف وزیراعظم کے انتخاب کا دفاع نہیں کرنا، بلکہ حکومت کی کارکردگی کو عوامی زبان میں بیان کرنا ہوگا۔ حکومت جو اصلاحات کرے، جو منصوبے مکمل کرے اور نوجوانوں یا عوام کے لیے جو عملی سہولت پیدا کرے، اسے واضح اعداد و شمار، قابلِ تصدیق نتائج اور سادہ زبان میں عوام کے سامنے لانا ہوگا یہی پارلیمانی سیاست کا مثبت بیانیہ ہے افتخار گیلانی کا سیاسی سفر خود ایک قابلِ توجہ سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ 2011 اور 2016 کی انتخابی کامیابیاں، وزارتِ تعلیم کا تجربہ، مسلم لیگ (ن) سے طویل وابستگی اور سیاسی مشکلات کے باوجود جماعت کے ساتھ رہنا ان کے سیاسی پروفائل کے اہم پہلو ہیں ان نکات کو سامنے لانا کسی شخصیت کی غیر ضروری تعریف نہیں بلکہ عوام کو مکمل سیاسی تناظر فراہم کرنا ہے مسلم لیگ (ن) کو اب اس معاملے سے ایک اہم سبق حاصل کرنا چاہیے پارلیمانی فیصلہ صرف ایوان کے اندر نہیں ہوتا، اس کی سیاسی تشریح عوام کے سامنے بھی ضروری ہوتی ہے۔ایک فیصلہ آئینی اور پارلیمانی طور پر درست ہوسکتا ہے، مگر اگر اس کی وجہ اور منطق عوام تک واضح انداز میں نہ پہنچائی جائے تو سیاسی خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ اس خلا کو پھر مخالفین اپنے مؤقف سے پُر کرتے ہیں۔افتخار گیلانی کا انتخاب بھی اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لہٰذا ضرورت کسی دفاعی مہم کی نہیں، بلکہ ایک واضح، سنجیدہ اور پارلیمانی بیانیے کی ہے۔مسلم لیگ (ن) کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ افتخار گیلانی کا انتخاب محض ایک سیاسی تقرری نہیں بلکہ ان کے سابقہ پارلیمانی تجربے، جماعتی وابستگی اور ایوان کے اعتماد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا فیصلہ ہے۔ساتھ ہی وزیراعظم افتخار گیلانی کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس اعتماد کو عوامی کارکردگی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔بالآخر سیاست میں فیصلوں کا اصل امتحان وقت کرتا ہے۔آج سوال یہ ہے کہ افتخار گیلانی وزیراعظم کیسے بنے؛ کل سوال یہ ہوگا کہ وزیراعظم بن کر انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کے لیے کیا کیا۔مسلم لیگ (ن) کے ترجمانوں کے لیے بھی یہی موقع ہے کہ وہ محض ردِعمل کی سیاست سے آگے بڑھیں، پارٹی کے فیصلوں کی پارلیمانی بنیاد عوام کے سامنے رکھیں اور حکومت کی کارکردگی کو مؤثر سیاسی بیانیے میں تبدیل کریں۔کیونکہ پارلیمانی سیاست میں صرف اکثریت حاصل کرنا کافی نہیں؛ اکثریت کے فیصلے کو دلیل، وضاحت اور کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی بنانا پڑتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button