Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہونا چاہیے، پنجاب میں پورا نظام ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر منتقل ہو رہا ہے: مریم نواز

لاہور ( آصف اقبال ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کا حکومت پر اعتماد کا رشتہ بحال ہونا چاہیے، عوام کی خدمت کوئی چھوٹا موٹا شرف نہیں بلکہ بہت بڑا کام ہے، اس کے لیے دن کے 24 گھنٹے بھی کم محسوس ہوتے ہیں، 48 گھنٹے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور فرسودہ طریقوں سے چلتے رہے تو ناکامی یقینی ہوگی، ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے ہر کامیاب منصوبے کے پیچھے پی آئی ٹی بی کی ٹیکنیکل سپورٹ شامل ہے۔ پی آئی ٹی بی پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے، چیئرمین فیصل یوسف اور ان کی پوری ٹیم شاباش کی مستحق ہے۔مریم نواز نے کہا کہ کئی سال پہلے ڈیجیٹل انقلاب کے مستقبل کو سمجھنے پر وزیراعظم شہباز شریف کو کریڈٹ دینا ضروری ہے، انہوں نے پی آئی ٹی بی کا اسٹرکچر تشکیل دے کر دیا۔ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہر معاملے میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پورا نظام آٹومیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، ای گورننس، ای بز، مریم کی دستک اور دیگر منصوبے ایک مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کا حصہ ہیں۔ اب پنجاب میں روایتی فائلنگ سسٹم نہیں بلکہ ہر فائل ڈیجیٹل نظام کے تحت چل رہی ہے۔ رحیم یار خان سے لاہور آکر فائل جمع کرانے کی ضرورت نہیں، تمام کام ای فائلنگ سسٹم کے ذریعے ہورہا ہے اور اس نظام سے ماہانہ تقریباً 6 ارب روپے کی بچت کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب کا ہر محکمہ، ضلع اور ڈویژن ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر منتقل ہوچکا ہے۔ ڈیش بورڈ کے ذریعے ایک ہی دفتر میں بیٹھ کر پورے پنجاب کے محکموں کی نگرانی ممکن ہے جبکہ آئی پیڈ اور موبائل فون کے ذریعے صوبے بھر سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کی بدولت حکومت ایک یونٹ کی حیثیت سے کام کررہی ہے، جس کے باعث سیلاب اور اربن فلڈنگ جیسے حالات میں بھی اداروں کے درمیان بہتر اشتراک اور فوری مانیٹرنگ ممکن ہوئی۔مریم نواز نے کہا کہ پی آئی ٹی بی کی وجہ سے پنجاب کے سروسز کلچر میں جوہری تبدیلی آئی ہے اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے ذریعے نظام کی اثرپذیری، میرٹ اور شفافیت یقینی بنائی جارہی ہے۔مستند ڈیٹا کے بغیر منصوبے کامیاب نہیں ہوسکتےوزیراعلیٰ نے پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری (PSER) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے وقت بتایا گیا کہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ ہے، تاہم مستند ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔ آبادی کبھی ساکت نہیں رہتی بلکہ مسلسل بڑھتی ہے، اس لیے درست ڈیٹا کے بغیر منصوبے ناکام ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک سال کی کوشش کے بعد پی ایس ای آر کا ڈیٹا تیار ہوچکا ہے۔ پنجاب میں 26 ملین گھر رجسٹرڈ ہیں اور صوبے کے اپنے شہریوں کے ساتھ دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور چیئرمین پی آئی ٹی بی فیصل یوسف نے اس ڈیٹا کی تیاری میں بہت محنت کی۔مریم نواز نے کہا کہ مستند ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے باعث ماضی میں امیر اور غریب سب کو راشن پہنچ گیا، تاہم درست ڈیٹا ملنے کے بعد حکومت نے مستحق افراد کی نشاندہی کرکے 10 لاکھ افراد کو ان کی دہلیز پر 10،10 ہزار روپے تک پہنچائے۔ کسی غریب کا حق کسی غیر مستحق یا امیر تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ ضرورت مند تک اس کا حق پہنچانا حکومت کا احسان نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ای بز سے این او سی کا نظام تیز اور شفافوزیراعلیٰ نے کہا کہ ای بز منصوبے کے ذریعے کاروباری افراد کے دیرینہ مسائل حل کیے جارہے ہیں۔ ماضی میں لوگوں کو کئی کئی ماہ این او سی کے حصول کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا یا بعض اوقات صرف منظورِ نظر افراد کو سہولت ملتی تھی، تاہم اب ای بز کے ذریعے این او سی کا عمل تیز اور شفاف بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد معیشت کا انجن چلاتے ہیں اور حکومت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ تمام متعلقہ این او سیز ایک ہی پورٹل پر دستیاب ہیں۔ اگر درخواست دینے کے 15 دن کے اندر این او سی جاری نہ ہو تو سسٹم خود حرکت میں آتا ہے اور معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچتا ہے۔مریم نواز کے مطابق ای بز پر درخواست دینے والے شہری کا فون نمبر اور شناخت متعلقہ کرپٹ عناصر سے مخفی رکھی جاتی ہے تاکہ اسے ہراساں یا دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے عوام کو بچانا حکومت اور نظام کی ذمہ داری ہے۔تین ماہ میں ایسا نظام لانے کا اعلانوزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایک ایسا نظام لانے کے لیے کام کررہی ہے جس کے تحت شہریوں کو اپنے کام کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے چیئرمین پی آئی ٹی بی فیصل یوسف کو نیا نظام تشکیل دینے کا ٹاسک بھی دے دیا۔مریم نواز نے کہا کہ اب میرج اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ، لائسنس سمیت متعدد سرکاری خدمات گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مریم کی دستک پروگرام کے تحت 40 لاکھ افراد کو سروسز فراہم کی جاچکی ہیں جبکہ روزانہ تقریباً 3 ہزار درخواستیں پراسیس ہورہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مریم کی دستک کے ذریعے راشن اور دیگر ضروری اشیا 48 گھنٹے میں مستحق افراد کے گھروں تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ جہاں شہریوں کو پینے کا پانی کندھوں پر لانا پڑتا تھا، وہاں اب گاڑیوں کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچایا جارہا ہے۔کرپشن کے خلاف جلد کریک ڈاؤن کا اعلانمریم نواز نے کہا کہ حکومت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے، تاہم کرپشن کے خلاف بھی جلد کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور کرپٹ عناصر کے گریبان تک پہنچیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر یا اعلیٰ سطح کے کسی عہدیدار پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہوئی تو اسے نہیں چھوڑیں گی۔انہوں نے سرکاری ادویات کی چوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک کھرب روپے کی مفت ادویات فراہم کررہی ہے، مگر اس کے باوجود دوائیاں اور انجکشن چوری ہوجاتے ہیں۔ ان شاء اللہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جہاں شہریوں کو اپنے جائز کام کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔بارشی پانی، سیوریج اور عوامی سہولتیںوزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں سیوریج کے نظام کو 100 فیصد درست کرنے کے لیے کھربوں روپے درکار ہوں گے، جبکہ ہر شہر میں مثالی سیوریج نظام قائم کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارشی پانی کی نکاسی کو وہ کونسلر سے زیادہ وزیراعلیٰ کی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی مدد سے ہنگامی حالات میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی براہ راست ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہوتے رہے، لیکن اب برف باری، سیلاب اور بارش سمیت ہنگامی حالات میں وزرا اور انتظامی افسران موقع پر پہنچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ بیماری، سیلاب یا بارش کی صورت میں حکومت ہر گھر تک پہنچے گی۔ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا ان کی ترجیح ہے۔پانچ سال میں صاف پانی گھر تک پہنچانے کا عزموزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سب نے صاف پانی کی بات کی لیکن عوام کو صاف پانی نہیں ملا۔ ان کا عزم ہے کہ پانچ سال کے بعد پنجاب کے عوام کو صاف پانی گھروں تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ جات کے افسران کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر وقت کام ہی کام کرنا پڑتا ہے، مگر عوام کی خدمت بہت بڑا شرف ہے۔ فرسودہ اور روایتی طریقہ کار کو خیرباد کہہ کر حکومتی نظام میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت، شفافیت اور بروقت خدمات فراہم کی جاسکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button