Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

یوکرین میں سیاسی ہلچل، برطرف وزیر دفاع نے جنگ کے دوران ہی صدارتی انتخابات کا مطالبہ کردیا

کیف: یوکرین کے برطرف کیے گئے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف نے جنگ کے دوران صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا ہے، جسے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے لیے اب تک کا بڑا سیاسی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔35 سالہ فیدوروف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جمہوریت کو روس کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اس لیے جنگ لڑ رہا ہے تاکہ ایک آزاد اور یورپی ملک کی حیثیت سے قائم رہ سکے۔روس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں مارشل لا نافذ ہے، جس کے باعث انتخابات معطل ہیں۔ زیلنسکی کی پانچ سالہ صدارتی مدت مئی 2024 میں ختم ہوچکی ہے، تاہم آئینی طور پر مارشل لا کے دوران انتخابات نہیں کرائے جاسکتے۔فیدوروف کو گزشتہ ماہ وزیر دفاع کے عہدے سے اچانک برطرف کیا گیا تھا۔ ان کی برطرفی کے بعد یوکرین میں احتجاج بھی ہوا، جبکہ بعض مظاہرین نے انہیں دوبارہ وزیر دفاع بنانے کا مطالبہ کیا۔سابق وزیر دفاع نے اپنے ویڈیو پیغام میں کسی سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم انہوں نے یوکرین میں جمہوری عمل بحال کرنے کے لیے ایک قانونی، محفوظ اور قابلِ عمل طریقہ کار بنانے پر زور دیا۔انہوں نے حکومت میں موجود مبینہ نظامی بحران اور بدعنوانی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقرریوں کا معیار ذاتی وفاداری کے بجائے اہلیت اور کارکردگی ہونا چاہیے۔دوسری جانب یوکرین کے بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جاری جنگ کے دوران انتخابات کرانا انتہائی مشکل ہوگا۔ روسی حملوں، سکیورٹی خدشات اور بڑی تعداد میں بے گھر شہریوں کی موجودگی کے باعث آزاد اور محفوظ انتخابات کے انعقاد میں کئی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button