Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

کاہنہ سانحہ: وزیراعلیٰ مریم نواز غمزدہ خاندانوں کے درمیان،’’میں بھی ماں ہوں، آپ کا درد محسوس کر سکتی ہوں‘‘

لاہور (آصف اقبال) بعض سانحات صرف عمارتوں کو نہیں، بلکہ گھروں کے چراغ اور والدین کی زندگیوں کی خوشیاں بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ لاہور کے علاقے کاہنہ کی عیدگاہ میں پیش آنے والا المناک حادثہ بھی ایسا ہی ایک المیہ ثابت ہوا، جہاں ایک چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے غم کی چادر اوڑھنے پر مجبور ہوگئے۔اسی درد کو بانٹنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچیں۔ انہوں نے جاں بحق بچوں کے والدین سے تعزیت کی، فاتحہ خوانی کی اور غمزدہ ماؤں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا۔ رقت آمیز ماحول میں وزیراعلیٰ نے کہا، "اس حادثے میں بچوں کی جانوں کے ضیاع کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں خود ایک ماں ہوں، اس لیے آپ کے غم اور تکلیف کو محسوس کر سکتی ہوں۔”دورے کے دوران ایک ایسا انکشاف بھی سامنے آیا جس نے اس سانحے کے کئی پہلوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے۔ حادثے میں محفوظ رہنے والے دو بچوں نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ چھت سے اینٹیں گرنے کے بعد انہوں نے اپنی ٹیچر سے چھٹی دینے کی درخواست کی تھی، مگر انہیں کلاس سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بچوں کی یہ بات سن کر وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطرے کی اطلاع مل چکی تھی تو احتیاطی اقدام کے طور پر فوری طور پر بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا چاہیے تھا۔یہ بیان صرف ایک ردعمل نہیں بلکہ اس افسوسناک واقعے کی ذمہ داری، حفاظتی انتظامات اور تعلیمی اداروں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام پر بھی کئی اہم سوالات چھوڑ گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت بھی کی، ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔غمزدہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کی آمد، فوری مالی امداد، زخمی بچوں کے علاج اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی فوری توجہ اور تعاون نے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اس آزمائش میں تنہا نہیں ہیں۔کاہنہ کا یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، بروقت حفاظتی فیصلے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ معصوم جانوں کے تحفظ کا بنیادی تقاضا ہے۔ اب نگاہیں اس امر پر مرکوز ہیں کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کس حد تک شفاف انداز میں کیا جاتا ہے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button