
امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈے کے اغوا میں ملوث طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ نیویارک کی عدالت نے طالبان کمانڈر کو دہشت گردی میں معاونت اور یرغمال بنانے کے جرم میں سزا سنائی۔ 50 سالہ حاجی نجیب اللہ نے امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈے اور دو ساتھیوں کو 7 ماہ یرغمال بنایا تھا ۔ امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈے 2008 میں افغانستان میں اغوا ہوئے تھے اور طالبان کمانڈر پر امریکی فوجی قافلوں پر حملوں کا بھی الزام تھا۔نیویارک کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حاجی نجیب اللہ نہ صرف صحافی کے اغوا میں ملوث تھا بلکہ اس پر افغانستان میں امریکی فوجی قافلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزامات بھی عائد تھے۔عدالت نے شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 42 سال قید کی سزا سنائی۔ امریکی حکام نے فیصلے کو انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ ڈیوڈ روہڈے ایک معروف امریکی صحافی ہیں جو 2008 میں افغانستان میں رپورٹنگ کے دوران اغوا ہوئے تھے۔ بعد ازاں وہ اپنے ساتھیوں سمیت طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔



